اجتماعی
بدھ, 24 ستمبر 2014 11:07

آج کا ایران

٭ - قائد انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے آئین کی دفعہ 110  کی پہلی شق کے نفاذ کے تحت سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی کا نوٹفكیشن جاری کیا ہے جو مصلحت نظام کونسل  سے مشورہ کے بعد معین کی گئی ہے۔ اس نوٹفكیشن میں آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سن 2025 کے آخر تک ریسرچ و تحقیق سے متعلق بجٹ کو ملک کی داخلی مصنوعات کے کم سے کم چار فیصد تک بڑھانے پر زور دیا ہے۔ دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی میں اہم مقام حاصل کرنے کے مقصد سے مسلسل سائنسی و علمی تحقیقات، سائنس کے میدان میں ترقی،  تخلیقی شعبے میں پیشرفت، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کے مقام کو بلند کرنے اور اسے عالم اسلام میں سائنس و ٹیکنالوجی کا قطب بنانے جیسی باتوں کی سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی میں پیشنگوئی کی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی بازاروں کی توانائیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران میں مصنوعات کی پیداوار اور ڈيزائنگ کی ٹیکنالوجی کا حصول، بیرون ملک رہ رہے ایرانی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور دیگر ممالک خاص کر عالم اسلام کے اہم محققین و ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور ایران کو سائنسی مقالے کے رجسٹریشن کے مرکز میں تبدیل کرنا، سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی میں مذکور اہم نکات ہیں۔

٭ - یہ ہفتہ آٹھ سالہ مقدس دفاع سے منسوب ہے ۔ 31 شہریور 1359 ہجری شمسی مطابق 22 ستمبر 1980 میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خلاف سازشوں کے تسلسل میں، عراق نے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت سے ایران کے خلاف حملہ کردیا ۔ 34 سال قبل صدام حکومت نے، امریکہ کے ہری جھنڈی دکھانے کے ساتھ ایران پر حملہ شروع کردیا اور بڑے پیمانے پر مالی اور اسلحہ جاتی امداد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت سے آٹھ سال تک جنگ اور جارحیت کا سلسلسہ جاری رکھا اور اس دوران بہت زيادہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ۔تسلط پسندانہ نظام نے، اسلامی جمہوریۂ ایرا ن کے نظام حکومت کو اکھاڑ پھنکنےکے لئے، مسلط کردہ جنگ کا مذموم نقشہ تیار کیا اور اس پر عملدر آمد بھی کیا اور صدام کو ایران پر حملے کے لئے واسطہ قرار دیا. مسلط کردہ جنگ کے پس پردہ امریکہ، اپنی فوجی حکمت عملی کی بنیاد پر ایران کا اقتصادی محاصرہ کرنے اور علاقے میں اپنی پٹھو حکومتوں کے توسط سے بین الاقوامی سطح پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے، ملت ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ لیکن آج امریکہ کو ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ اس کے یہ اقدامات ایران کو تسلیم یا مرعوب نہيں کرسکتےہیں۔ اس وقت دفاعی قوت واقتدار کے لحاظ سے ایران علاقے میں فوجی توازن برقرار کرنے اور علاقے میں سلامتی کے قیام میں ایک اہم پوزیشن کا حامل ہے۔ اور اس سلسلے ميں ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ تمام شعبوں، خواہ وہ فوجی مقابلہ ہو یا سفارتی جنگ اور یا پھر اقتصادی بائیکاٹ ہو، سب میں مزاحمت کی ثقافت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ جنگ میں ملت ایران کی کامیابی اور مزاحمت کی تاریخ، یادگار اور پرافتخار ایام سے سرشار ہے ۔ ہفتۂ دفاع مقدس کے ایام، مسلط کردہ جنگ کے حقا‏ئق کی یاد آوری اور ساتھ ہی ملت ایران کے دشمنوں کے لئے اس پیغام کے حامل ہیں کہ وہ جان لیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران، دشمنوں کے فوجی آپشن کے مقابلے ميں، جارح عناصر کو منھ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔

٭ - ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز گذشتہ ہفتے سے ہوا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے سیاسی حکام  کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مختلف مسائل میں اختلافات موجود ہیں، لیکن مذاکرات کا ماحول تعمیری اور مثبت ہے اور دونوں فریق ضروری عزم و ارادے اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اتوار کو نیویارک میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ فریقین کے درمیان موجودہ اختلافات کم نہيں ہیں اور تمام وفود ان اختلافات کو کم کرنے کے درپے ہيں ۔ محمد جواد ظریف نے جان کیری سے ملاقات کےبعد نیویارک میں ہمارے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا کہ امریکی وفود سے بھی ملاقاتیں انجام پائی ہیں ۔ انہوں نے جان کیری کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے نائب وزراء خارجہ کی ملاقات کا تسلسل ہے لیکن دونوں ملکوں کی وزراء خارجہ کی سطح پر مذکرات ہوئے ہیں ۔

٭ - عراقی کردستان کے شہروں رانیہ اور قلعہ دیزہ کے کمشنروں پر مشتمل پر ایک وفد ہفتے کے روز ایران کے مغربی آذر بائیجان کے صوبے سردشت پہنچا جہاں اس شہر کے کمشنرنے ان کا خیر مقدم کیا۔ رانیہ کے کمشنر ھیوا قرنی نے سردشت میں داخل ہوتے وقت ارنا کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اس عراقی وفد کے دورۂ ایران کا مقصد، سردشت کی کیلہ سرحد کو سرکاری حیثیت دینے کے لئے مغربی آذربائیجان کے حکام سے ملاقات اور گفتگو انجام دینا اور اس علاقے سے تجارتی لین دین کرنا نیز عراقی کردستان کے عوام کی حمایت کرنے کے سبب ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرنا ہے۔رانیہ کے کمشنر نے کہا کہ سردشت کی کیلہ سرحد کو سرکاری حیثیت دینے کے لئے حکومت عراق کی موافقت  اور عراقی کرستان کے علاقے کے نائب سربراہ کی تاکید کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک اس سرحد کوسرکاری حیثیت حاصل ہوجائے گی۔کیلہ سرحد، سردشت سے 17 کیلو میٹرکے فاصلے پر ہے جبکہ کردستان کے شہروں رانیہ اور قلعہ دیزہ سے نزدیک ہے۔

٭ - ایرانی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ڈپٹی سکریٹری نے ناروے میں ایران کے بعض طلباء کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کاظم غریب آبادی نے ناروے میں بعض ایرانی طلباء کے خلاف عائد پابندیوں کے بارے میں کہا کہ مخصوص کورس کی تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لئے سخت اقدامات انجام دینا، اور ان کے ریزیڈینس پرمٹ کی مدت بڑھائے نہ جانےاور طلباء کے داخلے کی ممانعت سے، اس ملک کو سخت نقصان پہنچے گا۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی طلباء کے خلاف پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مسئلے کا ، ایران کی وزارت خارجہ اور وزارت سائنس و ٹکنالوجی، یونسکو کے ذریعے سے جائزہ لے رہی ہے۔ اس سال کے اوائل میں ناروے کی نیشنل سیکورٹی پولیس نے اس ملک سے 64  ایرانی طلباء کو نکالنے خبر دی ہے۔

٭ - ایران کے وزیر صحت حسن قاضی زادہ ہاشمی نے گذشتہ جعمرات کو تہران کے بقیۃاللہ ہسپتال جاکر ان تین فلسطینی زخمیوں کی عیادت کی جو  گذشتہ دنوں غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں زخمی ہوگئے تھے. انہوں نے غزہ کے مظلوم اور شجاع عوام کی امداد اوران کے علاج معالجے کے اقدامات پر اطمئنان کا اظہار کیا۔ ایران کے وزیر صحت نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران اس کے بعد سے ان ملکوں کی مساعدت اور کمک سے کہ جو غزہ کی گذرگاہوں کو کھولنے کی توانائی رکھتے ہیں، غزہ کے زخمیوں کو امداد پہنچانے اور ان کے بہتر علاج کے لئے مزيد کوششیں انجام دے گا۔ واضح رہے کہ غزہ کے تین زخمیوں کو علاج کے لئے بدھ کی رات تہران منتقل کیا گیا ہے۔ غزہ پر اسرائیل کےحالیہ 50  روزہ حملوں میں دو ہزار ایک سو پچاس فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

٭ - ایران کی والیبال کی ٹیم نے پولینڈ میں کھیلےجارہے والیبال کے عالمی مقابلوں میں چھٹا مقام حاصل کیا۔ ایران کی والیبال کی ٹیم نے، ہفتے کے روز پولینڈ کے شہرغوچ ميں، پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے لئے روس کے ساتھ مقابلے میں تین – صفر سے شکست حاصل کی۔ 

دوسری جانب ایران نے، جنوبی کوریا کے "اینچیون" شہرمیں کھیلے جارہے 2014 کے سترہویں ایشیائی کھیلوں میں 276 کھلاڑیوں پر مشتمل ایک گروپ کے ساتھ شرکت کی ہے ۔ ان کھیلوں میں جو 19 ستمبر سے چار اکتوبر تک کھیلے جائیں گے، 25 ملکوں کے دس ہزار کھلاڑی مختلف کھیلوں میں شرکت کررہے ہیں۔ ایران، گذشتہ ایشیائی کھیلوں میں جو چین کے "گیونگ جو" میں کھیلے گئے تھے، 20 سونے کے اور 15 چاندی اور 24 کانسے کےتمغے حاصل کرکے چوتھے نمبر پر تھا۔ 

٭ - اور اب اس مرحلے میں ایران اور گروپ جمع ایک کے درمیان جاری مذاکرات کے مزید احوال۔

جینوا میں بیس جولائی کو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری مذاکرات کی مدت چوبیس نومبر تک بڑھائے جانے کے بعد اب ایک بار پھر یہ مذاکرات نیویارک میں شروع ہوگئے ہيں لیکن اس بار یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہورہے ہيں تاکہ حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے ۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ کے مذاکرات بدھ کے روز سے اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھیرین اشٹین کی سربراہی میں شروع ہوئے، جو ماہرین کی سطح پر جاری ہیں۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے حکام کے مذاکرات جمعے کے روز نیویارک میں انجام پائے۔ ساتویں دور کے یہ مذاکرات ایک جامع سمجھوتے تک رسائی کےلئے مشترکہ اقدام کے دائرے میں انجام پارہے ہیں ۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں ایٹمی معاملے میں کسی راہ حل تک پہنچنے کے لیے ایران کی نیک نیتی اور پختہ ارادے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایران، حتمی معاہدہ ہونے کے بارے میں پرامید ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے نیویارک کے خارجہ تعلقات کونسل کے ادارے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہدف و مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا ہے، تو اس مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکی حکومت پابندیوں کی بحث میں غرق ہو چکی ہے اور امریکی کانگریس پابندیوں کو باقی رکھنے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب ان مذاکرات کے موقع پرجوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل نے گذشتہ ہفتے ویانا میں ایک بیان میں، ایران کے ساتھ اتفاق رائے سے متعلق انجام پانے والے اقدامات کی پیشرفت پر اظہار رضا مندی کیا اور کہا کہ آئی اے ای اے، ایران کے ساتھ گفتگو اور تعاون کے ذریعے تمام گذشتہ اور موجودہ مسائل کے حل کا پابند ہے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے بھی آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل کے ساتھ حال ہی میں تہران میں ہونے والی ملاقات میں کہا کہ حکومت ایران کو ترقی و پیشرفت کی راہ میں نئی ٹکنالوجیز منجملہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کی ضرورت ہے اور ملت ایران کے فیصلےاورمجلس شورائے اسلامی کے نظریے کے مطابق ، بجلی، صنعت ، طب اور زراعت کے شعبوں میں پرامن ٹکنالوجی سے استفادہ ایک لازمی اور مسلمہ امر ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے آمانو سے درخواست کی کہ وہ ایران کے ساتھ  ایجنسی کے تعاون اور مذاکرات میں قدم بہ قدم پیشرفت کے عمل سے متعلق رپورٹیں منظر عام پر لائیں ۔ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان بات چیت، درحقیقت مشترکہ اقدام کے دائرے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی سمجھوتے کا ایک حصہ ہے۔

 

 

بدھ, 03 ستمبر 2014 13:00

آج کا ایران

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ بدھ کو ہفتۂ حکومت کی مناسبت سے صدر جمہوریہ ڈاکٹر حسن روحانی اورکابینہ کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں شہید رجائی اور شہید باہنر کی یادتازہ کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا  اور اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول اور انقلابی جذبے اور انقلابی سمت و سو کو ان دو شہیدوں کی اہم خصوصیات قراردیتے ہوئے اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہم سب کو اسلامی نظام کے حکام ہونے کے لحاظ سے انقلابی جذبے اور سمت و سو کی ہمیشہ حفاظت کرنی چاہیے اور مقصد بھی اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ آٹھ شہریور مطابق تیس اگست 1981 کو اس وقت کے صدر اور وزیر اعظم محمد علی رجائی اور محمد جواد باہنر، کابینہ کے بعض اراکین کے ہمراہ تہران میں وزیراعظم کے دفتر میں ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیئے گئے تھے۔ یہ دہشت گردانہ کاروائی ایران کے اسلامی انقلاب کے دشمنوں کی سازشوں سے دہشت گرد گروہ منافقین کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے صدر جمہوریہ اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گذشتہ ایک برس میں علاقائي اور عالمی مسائل کے تعلق سے حکومت کے صریح اور ٹھوس مواقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے بارے میں شفاف اور صریحی مواقف قوموں کے نزدیک اسلامی جمہوری نظام کی حیثیت اور اسکی اسٹراٹیجی کا تحفظ کریں گے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز ایک پریس نیوز میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران ہمیشہ سے علاقے اور دنیا میں دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا آرہا ہےکہا کہ تہران ، دنیا کے ہر خطے ميں انجام پانے والے قتل و دہشت گردی کا مخالف ہے اور اسلامی جمہوریۂ ایران عراق، شام ، لبنان میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مدد کریگا۔ اسلامی جہموریۂ ایران کے صدر نے علاقے میں داعش سے مقابلے کے لئے امریکہ کے ساتھ ایران کے تعاون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ  جو بھی ملک دہشت گردی سے مقابلہ کرے ہم اس کے ساتھ ہیں لیکن دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے، امریکہ کے ساتھ تعاون کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ کیوں کہ امریکہ دہشت گردی سےمقابلے میں سنجیدہ نظر نہيں آتا ہے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ گذشتہ ہفتے ماسکو کے دورے پرگئےاور انہوں نے روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں شام و عراق اور گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات جیسے مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعے کے روز ماسکو میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف مہم میں ایران اور روس کے نظریات میں یکسوئی پائی جاتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام اور عراق میں عوام کے خلاف انتہا پسند گروہوں کی جانب سے جرائم کے ارتکاب کے، یورپ و امریکہ میں بھی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، کہا کہ اس قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں ایران اور روس، اہم کرداکر ادا کرسکتے ہیں۔اس موقع پر روس کے وزیر خارجہ لاوروف نے بھی ایران کے ساتھ اپنے ملک کے تجارتی روابط کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ روس، باہمی تعاون کے فروغ اور دونوں کے ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں توسیع کو خاص اہمیت دیتا ہے ۔ لاوروف نے کہا کہ ماسکو، انصاف کی بنیاد پر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جانے کا خواہاں ہے۔ انھوں نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق ایران کا حق، باضابطہ طور پر تسلیم کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ ایران کے وزیر خارجہ، روس کے دورے سے قبل رجب طیب اردوغان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ترکی کے دارالحکومت انقرہ گئے۔  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کئي یورپی ملکوں کے دورے پر پیر کی صبح برسلز کے لئے روانہ ہوئے۔ وزیر خارجہ کے ہمراہ ان کے معاون سید عباس عراقچی اور مجید تخت روانچی بھی ہیں۔ وزیر خارجہ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں برسلز میں بلجیم کے حکام سے ملاقات کرنے کے علاوہ یورپی یونین کے شعبۂ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ایران کے ایٹمی معاملے کے تعلق سے، مجوزہ جامع حل کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ محمد جواد ظریف بلجیم کے بعد لگزامبرگ جائيں گے اور بدھ کو اٹلی پہنچيں گے۔  وہ بدہ کو روم میں  اپنے اطالوی ہم منصب فدریکا موگرینی اور اس ملک کے دیگر حکام سے بھی ملاقات کریں گے یہ دورہ اٹلی کے وزیر خارجہ کی دعوت پر انجام پارہا ہے۔ یہ ڈاکٹر ظریف کادوسرا دورۂ روم ہے۔

*امریکہ کی وزارت خزانہ نے ایٹمی اور میزائیلی پابندیوں کی خلاف ورزی کے بہانے، ایران کی بعض کمپنیوں اور اداروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے ۔

*ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل حسن فیروزآبادی نے ہفتے کے روز فارس نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں ایران کی فضائی حدود میں اسرائیلی ڈرون  طیارے کی حالیہ یلغار اور اسے ایران کے مرکز نطنز کے اطراف میں مار گرائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی حملہ آور طیارہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ  گذشتہ اتوار کو پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ اس نے جوہری تنصیبات نطنز کی جانب پرواز کر رہے ایک اسرائیلی جاسوسی طیارے کو مار گرایا ہے۔ بریگیڈیر فرزاد اسماعیلی نے بھی اسرائیلی ڈرون مارے جانے کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ 24 اگست کو نطنز کے اطراف میں مارا جانے والا اسرائیلی ڈرون طیارہ تین ہزار 700 میٹر کی بلندی پر پرواز کررہا تھا۔

*ایران کے نائب وزیر خارجہ ابراہیم رحیم پور نے جو  بحیرۂ خزر کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے گذشتہ ہفتے ماسکو گئے تھے کہا ہے کہ روس کے شہر آسترا خان ميں بحیرۂ خزر کے ساحلی ملکوں کے آئندہ سربراہی اجلاس کے سمجھوتے کی اہم دستاویز کا حصہ حتمی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر 29 ستمبر 2014 کو روس کے شہر آستارا خان کا دورہ کریں گے تاکہ بحیرۂ خزر کے ساحلی ملکوں کے اجلاس میں شرکت کریں ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران ، روس، قزاقستان، جمہوریۂ آذربائیجان، اور ترکمنستان، بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا کہ امريکي وزرات خزانہ نے، ايران کي مزيد متعدد  کمپنيوں اورمالي اداروں پر ايٹمي اور ميزائيلي  پابنديوں کي خلاف ورزي کے بہانے نئي پابندياں عائد کردي ہيں ۔امريکي وزارت خزانہ کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ بيس کمپنيوں اور مالي اداروں کےساتھ ساتھ جن ميں ايران کے آئيل ٹينکر کي کمپنياں بھي شامل ہيں آٹھ ايراني شخصيات پر بھي پابندياں عائد کردي گئي ہيں۔ امريکي وزارت خزانہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ امريکي منڈيوں ميں سرگرم کمپنيوں کو ايران کي ان کمپنيوں اور افراد سے کسي بھي طرح کا معاملہ کرنے کا حق نہيں ہوگا ۔

 ايران کي مالي اور تجارتي کمپنيوں اور شخصيات پر پابنديوں کے ساتھ ساتھ ترکي،  متحدہ عرب امارات،اٹلي اور تھائيلينڈ کي بھي متعدد  کمپنيوں پر ايران کے ساتھ تعاون کے الزام کي بناپر پابندياں عائدکردي گئي ہيں ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کو جنیوا اقدام کے منافی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کی کچہ شخصیتوں، کمپنیوں اور مالی اداروں کے خلاف امریکہ کی نئي پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  یہ اقدام ، ایران کے ایٹمی مسئلےکے حل کےلئے موجودہ عمل کے پوری طرح منافی ہے۔ مرضیہ افخم نے مزيد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، امریکہ کی جانب سے جنیوا معاہدے کی یک طرفہ ، ناقابل قبول اور من مانی تشریح کو مسترد کرتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اعلان کی جانے والی پابندیاں جنیوا معاہدے کی بنیاد پر امریکی وعدوں کے بر خلاف ہیں۔مرضیہ افخم نے کہا کہ ایسے عالم میں جب ایران، جنیوا معاہدے کی بنیاد پر بحالی اعتماد کے اقدامات انجام دے چکا ہے جس کا ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ میں بھی ذکرکیاجاچکا ہے تو تہران کو بھی توقع ہے کہ امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک کے دوسرے اراکین عملی میدان میں بھی اپنے معاہدے پرعمل کریں۔ ایران کے خلاف یہ نئي پابندیاں ایسے عالم ميں عائد کی گئی ہیں کہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ ستمبر ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے سالانہ اجلاس سے قبل مذاکرات انجام دینے والے ہیں۔ واضح رہے کہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ نے گذشتہ برس نومبر ميں ايک ابتدائي سمجھوتہ کيا تھا کہ جس ميں کہا گيا تھا کہ پابندياں نرم کئے جانے کے عوض ايران بھي اپني کچھ ايٹمي سرگرميوں کو معطل کردے گا ۔ اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹرحسن روحاني نے سنيچر کو   تہران ميں منعقدہ ايک تقريب ميں کہا ہے ، پابندي، ظلم اور جارحيت ہے اور ہميں اس ظلم اور جارحيت کو روکنا اور ظالموں کو ان کے ظلم کا جواب دينا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہميں اس بات کي اجازت نہيں ديني چاہئے کہ يہ پابندياں اسي طرح ايراني عوام پر مسلط رہيں اور ان کي بار بار تکرار ہوتي رہے ۔

 اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے اتوار کے روز تہران میں فنلینڈی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مذاکرات میں ایران، دونوں فریقوں کی کامیابی کا خواہاں ہے اور ایران کی حکومت، اس سلسلے میں جتنا ہوسکتا ہے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر، ایران پر زبردستی کا دباؤ ڈالنے سے گریز اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا گیا تو مذاکرات کا نتیجہ حتمی سمجھوتے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایران نے جوہری سرگرمیوں میں کبھی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور وہ جوہری مسئلے میں بین لاقوامی قوانین و اصول کے مطابق اقدامات عمل میں لائے جانے کا خواہاں ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ ان پابندیوں سے ایران اور یورپی یونین سمیت سب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انھوں نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات، مذاکرات کے عمل میں دشواری کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

بدھ, 27 اگست 2014 18:55

آج کا ایران

اس ہفتے اتوار کے روز سےایران میں ہفتۂ حکومت منایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ 24 اگست 2014 کی تاریخ، اسلامی جمہوریۂ ایران میں ہفتۂ حکومت کے آغازسے موسوم کی گئی ہے۔ ایران کے سابق صدرمحمدعلی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر، 1981 میں وزیر اعظم کے دفتر میں دہشت گرد گروہ منافقین کی ایک دہشت گردانہ کاروائی میں شہید ہوگئے تھے ۔ اسی مناسبت سے 24 سے 30 اگست کے ایام کو ایران میں ہفتۂ حکومت کا نام دیا گيا ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی کابینہ نے ہفتۂ حکومت کے آغاز کے موقع پر بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے مرقد مطہر پر حاضری دے کر فاتحہ پڑھی اور ان کے اھداف و مقاصد پر قائم رہنے کا عھد کیا۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ ہم آگے چل کر پیش کریں گے۔

*ایران میں نطنز ایٹمی تنصیبات کے قریب صہیونی حکومت کے جاسوسی طیارے کو مار گرائے جانے کی خبر ایران کی اس ہفتے کی سب کی سب سے اہم خبر ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ کے دفتر نے ایک بیان میں، جو اتوار کو شائع ہوا، اعلان کیا ہے کہ تباہ کیا جانے والا ڈرون طیارہ راڈار پر دکھائی نہ دینے والا طیارہ تھاجو نطنز کے ایٹمی علاقے کی حدود میں نفوذ کرنا چاہتا تھا تاہم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم کے ذریعے اس ڈرون کی شناخت کرکے اسے مار گرایاگیا۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان میں صراحت سے کہا گيا ہے کہ سپاہ پاسداران، اسلامی جمہوریۂ ایران کی دیگر مسلح افواج کے ساتھ ایران کے دفاع کے لئے ہرطرح کی مکمل آمادگي رکھتی ہے اور اس قسم کے اقدامات کا دنداں شکن جواب دے گی۔  

*گذشتہ ہفتے ایران کی خبروں میں سے ایک ہے کہ ایران کے وزیر سائنس و ٹکنالوجی رضافرجی دانا کو پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کا ووٹ دیا ہے ۔ رضا فرجی دانا کا، بدھ کے روز ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں مواخذہ ہوا اور وہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اکثریت سے ووٹ حاصل نہيں کرسکے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے محمد علی نجفی کو ایران کی سائنس و ٹکنالوجی کی وزرات کا سرپرست متعین کیا ہے۔

*ہفتۂ حکومت اور  یوم دفاعی صنعت کی مناسبت سے صدر جمہوریۂ کی موجودگي میں چار نئی دفاعی مصنوعات کی رونمائی ہوئی۔ دفاعی مصنوعات میں قدیر اور نصر بصیر نامی دو بحری کروز میزائیل، اور کرّار چار اور مہاجر چار نامی دو ڈرون طیاروں کی رونمائی شامل ہے۔ قدیر میزائیل ایک ایسا جدید میزائیل ہے جو تین سو کلو میٹر کی دوری پر سمندر میں دشمن کے اہداف کو نہایت دقّت کے ساتھ نشانہ بناکر انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نصر بصیر، بحری کروز میزائل بھی اپنی تیز رفتار کارکردگی و توانائی کے ساتھ، ایران کی مسلح افواج کی بحری توانائی کو فروغ دینے میں قابل ذکر اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح کرّار چار نامی ایرانی ساخت کا جدید قسم کا ایک ڈرون طیارہ ہے جو جارحین کے ڈرون طیاروں کا پتہ لگانے کی بخوبی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور فضا سے نقشہ برداری کے سسٹم کا حامل مہاجر چار قسم کا بھی، ایک اور ڈرون طیارہ ہے جو ایران کی فضائی حدود کے دفاع اور فضائیہ کے دفاعی نظام میں توانائی کو فروغ دینے میں اہم کردار کا حامل ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت، دوست، پڑوسی اور اسلامی ملکوں کے خلاف نہیں ہے، صراحت کے ساتھ کہا کہ پڑوسی ملکوں کو اس بات کو جان لینا چاہیئے کہ دفاعی صنعت میں ایران، جتنا بھی مضبوط ہوگا، وہ صرف اس کیلئے نہیں، بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے بہتر ہوگا۔ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران ہتھیاروں کی دوڑ کے درپے نہيں ہے تاہم اپنے دفاع کے لئے جو بھی لازم ہوگا اسے انجام دینے سے دریغ نہيں کریگا اور اس سلسلے میں کسی کی اجازت کا بھی منتظر نہيں رہے گا۔ ڈاکٹر روحانی نے دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی کی ضرورت پرتاکید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کومہلک ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہئے کیوں یہ ممکن نہیں ہے کہ این پی ٹی معاہدے کی بعض شقوں پر عملدر ہو اور بعض پر عملدر آمد نہ ہو۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان ایٹمی مذاکرات میں جامع سمجھوتے تک رسائی کا امکان موجود ہے ۔ محمدجواد ظریف نے ہفتے کی رات ایران کے ٹی وی چینل دو کے ساتھ گفتگو میں خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کا وضاحت سے ذکر کرتے ہوئے، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے انعقاداور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ضمن ميں مذاکرات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ فریق مقابل ميں ٹھوس عزم و ارادہ پائے جانے کی صورت میں جامع سمجھوتے تک رسائی کا امکان موجود ہے لیکن اگر مغربی ممالک کے دباؤ ڈالنے والے سیاسی گروہوں کی خواہش پورا کرنا مقصدہوگا تو پھر کسی سمجھوتے کا امکان نہیں ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ کوئی بھی ایران پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ ایران مذاکرات برائے مذاکرات یا وقت تلفی کے لئے کررہا ہے۔ اس لئے کہ ہم نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ ہم کسی حتمی راہ حل کے خواہاں ہیں اور فریق مقابل بھی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بائیکاٹ اور پابندی، ایران سے ٹکراؤ کا راستہ نہیں ہے ۔ در ایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے ہفتے کی شام ارنا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل یعنی 17 ستمبر کو ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار نے اسی طرح یکم ستمبر کو بریسلز میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبہ کی سربراہ کیتھرین اشٹین کے درمیان ہونے والی ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کی کہ اس ملاقات میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی آخری صورت حال اور مذاکرات کے طریقہ کار  کا جائزہ لیا جائے گا۔ سید عباس عراقچی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ظریف اور اشٹین کے معاونین بھی بریسلز میں جوہری مذاکرات میں ہونے والی آخری پیشرفت کے حوالے سے صلاح مشورہ کریں گے انہوں نے کہا کہ نیویارک اجلاس سے قبل بھی دو جانبہ ملاقاتیں انجام پائیں گی اور ان ملاقاتوں کی تاریخ اور مذاکرات کی سطح کے تعیّن کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کو عراق کے اپنے سرکاری دورے کا آغاز کیا۔ انہوں نے یہ دورہ ایسے حساس حالات میں کیا ہے جب کہ عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران بعثی- داعشی دہشت گرد گروہ کے پیدا کردہ بحران کے سبب شدید فرقہ وارانہ لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ جواد ظریف نے بغداد ميں کہا کہ دہشت گردی ایک علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے اور اس کی بیخ کنی کے لئے عالمی سطح پر مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا دہشتگردی کےخلاف ہمہ گیر جدوجہد کا وقت آگیاہے اور تہران اس سلسلے میں تیار ہے اور ایران ہمیشہ عراقی عوام کے ساتھ رہا ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ عراقی عوام ميں دہشت گردی سے مقابلے کی توانائی پائی جاتی ہے ۔ جواد ظریف کے اس دورے کے موقع پر ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران دو طرفہ تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کی بناء پر عراق کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ تمام شعبوں میں عراق کے ساتھ تعاون پر غور کررہا ہے۔انہوں نے بعض مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے جواب میں کہا کہ ایران نے اپنا کوئی فوجی عراق نہيں بھیجا ہے اور اس سلسلے میں اس کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہے ۔ جواد ظریف نے اپنے دورۂ عراق ميں اس ملک کے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی، سابق وزیر اعظم نوری المالکی، پارلیمنٹ اسپیکرسلیم جبوری ، صدر فواد معصوم، عراق کی مجلس اعلائے اسلامی کے سکریٹری جنرل سید عمار حکیم اور عراق نیشنل الائنس کے سربراہ ابراہیم جعفری سے ملاقات کی ۔

*ہفتے کے روز سے ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں کی پارلیمانوں کی جنرل اسمبلی کے سترھویں اجلاس کاتہران میں آغاز ہوا ۔ اس اجلاس میں ماحولیات کے مسائل کا جائزہ لیا گيا۔ یہ اجلاس عالمی سطح پر پائیداری کی غرض سے علاقائي ملکوں کی مشارکت کے زیر عنوان انجام پایا۔ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں کی پارلیمانوں کا یہ ا جلاس دو دنوں تک جاری رہا۔ اس اجلاس کا افتتاح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے کیا اور ماحولیات کے مسائل کے بارے میں ایران کے مواقف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے غزہ میں نہ صرف انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں بلکہ اس علاقے کے ماحولیات کو بھی تباہ کردیا ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ تقریبا دومہینوں سے صیہونی حکومت نے چھے ایٹم بموں کے برابر غزہ کے عوام پر بم برسائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج کی دنیا ماحولیات کی تباہی کی شاہد ہے اور اسکے پاس زیادہ وقت بھی نہيں ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے آئين کے مطابق ماحولیات کے تحفظ اور برقراری کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اس اجلاس سے خطاب میں ایران کے محکمہ موحولیات کی سربراہ ڈاکٹر معصومہ ابتکار نے کہا کہ تہران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو خط بھیج کر کہا ہےکہ غزہ میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں ماحولیات کی تباہی کا جا ئزہ لینے کےلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے کہاکہ تہران بان کی مون کے مثبت جواب کا منتظر ہے تاکہ غزہ کے ماحولیات کے مسئلے کے حل کے لئے مناسب چارہ جوئی کی جاسکے۔

*ایران کے صوبہ اصفہان کی ایٹمی تنصیبات میںاس ہفتے یورینیم ڈی آکسائيڈ بنانے کے یونٹ کا افتتاح ہوا ۔ ڈی آکسائیڈ یوریینم پانچ فیصد سے کم افزودہ یورینیم سے بنائي جارہی ہے ۔ اس یونٹ کا افتتاح ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کیا۔ یورینیم ڈی آکسائیڈ ایٹمی بجلی گھروں کا ایندھن بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ مغرب کے پاس ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس قدر آگے بڑھ چکا ہےکہ بڑی ہوشیاری سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہےاور مغرب کے پاس ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اب کوئي چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے علمی اور تحقیقاتی مراکز اب گوشہ نشینی سے نکل آئے ہیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں آئی اے ای اے کے ڈائرکٹرجنرل یوکیاآمانو سے ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتےہوئے کہ ایران نے ہمیشہ ہر جہت سے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا ہے کہا کہ حکومت ایران کو ترقی و پیشرفت کے لئے،جدید ٹکنالوجی منجملہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کی ضرورت ہے اور ایران ، بجلی ، طب، زراعت، اورصنعت کے شعبوں ميں پرامن ایٹمی توانائی سے استفادے کے لئے ملت ایران  اور مجلس شورائے اسلامی کے فیصلے کی بنیاد پر آگے قدم بڑھاتا رہے گا۔    

 

 

 

 

 

 

آج کی غم و اندوہ سے پر رات علی علیہ السلام سے جدائی کی رات ہے، امت اسلامیہ کے مہربان باپ کے فراق میں زمین و آسمان گریہ کناں ہیں، ایسا باپ جو یتیم بچوں کی آہ و بکا اور غموں میں شریک رہا ہے، لیکن کوئی علی علیہ السلام کی تنہائی اور ان کے اندرونی غم و غصّے سے آگاہی نہیں رکھتا تھا۔ علی علیہ السلام وہی بہادر انسان کہ جن کو پیغمبر اکرم نے کل ایمان قرار دیا، پیغمبراکرم ۖ کی رحلت کے بعد ان علی علیہ السلام کنویں کے نزدیک جاکر اس سے راز دل کہا کرتے تھے، یعنی کنوا علی علیہ السلام کا محرم راز تھا۔ اسی طرح جیسے آپ نے فرمایا ہڈی گلے اور  کانٹا آنکھ میں رہ گيا تھا، لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام کبھی بھی لوگوں کی ھدایت اور امت اسلامیہ کی خیرخواہی سے غافل نہیں رہے۔ اس تمام تر تنہائی اور منافقوں کی دشمنی کے باوجود، علی علیہ السلام کے ایمان کی روشنی کبھی خاموش نہیں ہوئی اور اپنے اور پرائے سب نے اس سے فیض حاصل کیا۔ زہر میں ڈوبی ہوئي تلوار، دنیا کے شقی ترین فرد کے ہاتھ میں ہے، اور محراب عبادت میں موجود عدل انصاف کے پیکر کےسر کو شگافتہ کررہی ہے، اور علی علیہ السلام کی فزت و ربّ الکعبہ کی آواز نے مومنوں کے دل سے ہمیشہ کا قرار و سکون چھین لیا۔ جی ہاں اسی رات یعنی 21 رمضان المبارک 40 ہجری قمری کو ایسا شخص شہید ہوا کہ دنیا میں دوست و دشمن، سب اس کی عظمت و کمال سے حیران رہ جاتے تھے اور سب نے علی علیہ السلام کی عظمت و بزرگواری کا اعتراف کیا ہے۔

لبنان کے مشہور و معروف مصنف جبران خلیل جبران کا کہنا ہے کہ حضرت علی ابن ابیطالب، اپنی عظمتوں اور فضائل کی بنا پر شہید کردیئے گئے، علی علیہ السلام کے سر پر ضربت ایسی حالت میں لگی کہ آپ نماز میں مشغول تھے اور اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کررہے تھے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی عمر کے آخری لمحات تک دین مبین اسلام کی ترویج و نشر و اشاعت کے کاموں میں مصروف رہے۔ مولا علی علیہ السلام نے اپنی بابرکت عمر کے آخری گھنٹوں میں اپنے بیٹے حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کو وصیت فرمائی ہے کہ جو تاریخ میں ہمیشہ موجود رہے گي اور انسانوں کے لئے اچھی زندگي گزار کا عظیم درس دیتی ہے۔ مولا علی علیہ السلام نے اس وصیت میں فرمایا، بیٹا حسن، تم اور میرے تمام بچوں اور اہل بیت اور ہر وہ شخص کہ جس تک میری یہ وصیّت پہنچے،سب کو ان امور کی نصیحت کرتا ہوں۔ تقوی الہی کو ہرگز فراموش نہ کرو، کوشش کرو تا دم مرگ دین خدا پر باقی رہو۔ سب ملکر خدا کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو، اور ایمان و خدا شناسی کی بنیاد پر متحد اور تفرقے سے باز رہو، پیغمبر اکرم ۖ  فرماتے ہیں، لوگوں کے درمیان اصلاح کا عمل دائمی نماز و روزہ سے افضل ہے اور وہ چیز کہ جو دین کو محو کرتی ہے فساد و اختلاف ہے۔ بزرگ عالم دین اور مفسّر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، امام علی علیہ السلام کی وصیّت کے اس حصے کے بارے میں لکھتے ہیں۔ اس وصیّت کی ابتدا میں ایک مرتبہ پھر مولا علی علیہ السلام نے تقوی الہی اور پرہیز گاری اختیار کرنے پر تاکید فرمائی ہے، اور نجات کا راستہ بھی یہی ہے، آخرت کے سفر میں انسان کا زاد راہ ، یہی کرامت اور فضائل ہیں کہ جو خداوند متعال کی بارگاہ میں جائینگے۔ اس کے بعد مولا علی علیہ السلام نے امور زندگی میں نظم کی طرف اشارہ کیا ہے، اس سے مراد سماجی، اقتصادی اور سیاسی سلامتی ہے اس کے ساتھ عبادات، گھر کے امور اور تعلیم و تربیت میں نظم بھی شامل ہے۔ یہی نظم جو خداوند متعال نے مقرر فرمایا ہے اس کے دائرے میں عالم ہستی قائم ہے۔ ایسے معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے کہ جو نظم سے عاری ہو اور ہر وہ انسان کہ جو بے نظمی کا شکار رہے، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتا، چاہیے اس میں کتنی ہی صلاحتیں موجود کیوں نہ ہوں۔ لیکن لوگوں کے درمیان اصلاح کا عمل کہ جس کے بارے میں مولا علی علیہ السلام نے فرمایا ہے نماز و روزہ سے بھی بالا تر ہے اور اس کی وجہ بھی واضح و روشن ہے کیونکہ اگر دشمنی اور کدورتوں کو دور نہ کیا جائے تو مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ پیغمبراکرمۖ فرماتے ہیں: واجبات کی انجام دہی کے بعد سب سے افضل عمل لوگوں کے درمیان اصلاح کی ترویج و اشاعت ہے۔

مولا علی علیہ السلام اپنے گرانقدر وصیّت نامے میں اجتماعی، عبادی اور اخلاقی مسائل کے بارے میں اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وصیّت کو اللہ اللہ کہہ کر شروع کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان امور پر نہایت ہی تاکید کی گئی ہے۔ مولا علی علیہ السلام نے وصیّت کا آغاز یتیموں کے امور سے کرتے ہوئے، فرمایا خدایا، خدایا یتیموں کے حقوق کا لحاظ رکھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کبھی بھوکے اور کبھی سیر ہوں اور تمہاری موجودگی میں ان کو کوئی نقصان پہچے۔ یتیموں کے امور کے لحاظ رکھنے پر اسلامی احکام میں بھی تاکید کی گئی ہے اور یہ امر انسان دوستی کی روح کو تازہ کرتا ہے اور ضعیف افراد کی حمایت ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ کتاب اصول کافی میں آیا ہے کہ ایک دن مولا علی علیہ السلام کی خدمت میں شہد اور انجیر کی ایک مقدار ھدیہ کے طور پر بھیجی گئی، علی علیہ السلام نے حکم دیا کہ یتیموں کی ایک تعداد کو لایا جائے اور اس موقع پر مولا علی نے شہد کو اپنی انگلیوں میں لگا کر یتیم بچوں کے منہ میں ڈالا، مولا علی علیہ السلام سے کسی نے کہا کہ آپ کیوں اجازت نہیں دیتے کہ یہ بچے خود شہد کھائیں؟ آپ نے فرمایا کہ امام یتیموں کا باپ ہوتا ہے۔ میں نے شہد ان کے منہ میں ڈالا تاکہ ان کے ساتھ باپ جیسا برتاؤ کرو۔ اس کے بعد مولا علی علیہ السلام نے اپنے وصیّت نامے میں پڑوسیوں کے بارے میں اس طرح فرمایا۔ خدایا خدایا، اپنے پڑوسیوں کےساتھ خوش اخلاقی سے پیش آؤ، کیونکہ پیغمبر اکرمۖ نے اس کی نصیحت فرمائی ہے اور آپۖ  نے ہمیشہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے پر تاکید کی ہے۔ اسلام میں پڑوسیوں کا خاص احترام ہے کیونکہ اسلام مکمل طور پر سماجی دین ہے اور گھر و گھریلوں کے آپسی تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

مولا علی علیہ السلام اپنے وصیت نامے میں مزید فرماتے ہیں، خدایا ، خدایا قرآن کے احکام پر عمل کو فراموش نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ دیگر لوگ قرآن میں عمل کے حوالے سے تم سے آگے نکل جائيں۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی لکھتے ہیں: مولا کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ صرف قرآن کی تلاوت، قرائت اور تجوید پر ہی قناعت کرلیں اور قرآن کے مفاہیم کو فراموش کردیں، اور اسلام سے بیگانہ لوگ اس پر عمل کریں۔ مثال کے طور پر اغیار اپنے ساز و سامان بنانے میں صداقت اور امانتداری کا لحاظ رکھیں لیکن قرآن پر ایمان لانے والے ایسے نہ ہوں اور یا یہ کہ اغیار اپنے وعدوں پر عمل کریں لیکن اہل قرآن وعدہ خلافی پر اتر آئیں۔ اغیار مختلف علوم کی تحصیل میں منظم طریقے سے ترقی و پیشرفت کریں اور اہل قرآن حصول علم میں سستی سے کام لے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اسلامی معاشروں میں ہم اس قسم کی مشکلات کا مشاہدہ کررہے ہیں۔  

مولا علی علیہ السلام اپنے وصیّت نامے میں نماز کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، خدایا ، خدایا نماز کو قائم کرو ، کیونکہ یہ دین کا ستون ہے۔ نماز انسان کو ہمیشہ خدا کے ساتھ منسلک اور فرد میں تقوی کی روح کو زندہ رکھتی ہے، لہذا انسان کو فحشا و منکر سے دور رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے اور اسی لئے دین کا خیمہ اسی کے ذریعے قائم ہے۔ لیکن نماز کا ترک کیا جانا انسان کو خدا سے دور کردیتا ہے اور اس کی یاد کو انسان کے دل سے نکال دیتا ہے اور اس طرح انسان گناہ میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ امیرالمومنین اپنے وصیّت نامے میں حج کے بارے میں فرماتے ہیں، خدایا ، خدایا کعبہ خانہ خداہے، ایسا نہ ہو کہ اس کو فراموش کردیا جائے، اگر حج کو چھوڑ دیا جائے، تو مہلت نہیں دی جائے گی اور دوسرے تم کو اپنے جال میں پھسا لیں گے۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں برطانیہ کا وزیراعظم ویلیم گلادسٹون کہتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور خانہ خدا کا طواف کرتے ہیں اور محمد ۖ کا نام صبح و شب اپنی زبان پر جاری کرتے ہیں اور یہ امر نصرانیّت اور عیسائیت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ شاباش ہو تم پر اگر قرآن کو نذر آتش اور کعبہ کو ویران اور محمدۖ کے نام کو اذانوں سے محو کرو، یہی کلمات نماز و حج کی اہمیت کے لئے کافی ہیں۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے وصیّت نامے میں فرماتے ہیں خدایا خدایا، راہ خداوند متعال میں کیئے جانے والے جہاد میں اپنے مال اپنی جان اور زبان دریغ نہ کرو۔ جان کے ذریعے جہاد کا مقصد وہی میدان جنگ میں اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے، مال کے ذریعے جہاد کے معنی ہے کہ اسلام و مسلمانوں کے تحفظ کے لئے لشکر اسلام کے رضاکاروں کی مالی مدد کرنا ہے اور زبان سے جہاد کے معنی ہیں اسلام کی ترقی و پیشرفت کے لئے منطقی دفاع اور مسلسل تشہراتی مہم کا حصہ بنا اور اس لئے زبان اور بیان کا استعمال اور آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کا کام بھی یہی ہے بس معلوم ہوا ہے ایک اچھی سوچ کو دیگر لوگوں تک منتقل کرنا بھی جہاد ہے اور اس لئے زبان و قلم کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس بات پر بھی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے کہ جہاد کے مقدس عنوان سے غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے افسوس کا مقام ہے کہ آج بعض دہشتگرد تکفیری گروہ امت اسلامیہ میں تفرقہ پیدا کرنے اور مسلمانون کے قتل عام اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب میں جہاد کے مقدس لفظ کو استعمال کررہے ہیں اور تکفیری دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جہاد کا جو تصور پیش کیا جارہا ہے وہ اسلامی تعلمات اور احکام کے منافی  ہے، اور یہ فرق پیغبر اکرمۖ  کے دور میں ہونے والے غزؤں اور جنگوں پر معمولی توجہ ڈالنے سے معلوم ہوجائے گا۔ مولا علی علیہ السلام اس وصیّت نامے میں  فرماتے ہیں تم پر لازم ہے کہ محبت و دوستی کے رشتوں کو قوی کرو اور بخشش و مہربانی کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ اور اسے فراموش نہ کرو، ایک دوسرے سے روابط کو منقطع نہ کرو اور آپس میں مل جل کر رہو۔ اسلام میں باہمی محبت و دوستی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور نفرت اور کینہ اور جدائی کی مذمت کی گئی ہے۔ نواسہ رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جس وقت دو مسلمان آپس میں لڑ جھگڑتے ہیں تو شیطان خوشی کے نقارے بجاتا ہے، لیکن جس وقت دومسلمان آپس میں دوستی اور صلح کرتے ہیں تو شیطان اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے نورانی وصیّت نامے کے ایک اور حصے میں فرماتے ہیں۔ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو ترک نہ کرنا اور اگر ایسا کیا تو شرپسند عناصر تم پر مسلط ہوجائینگے اور اس وقت تم جو بھی دعا کرو گے وہ مستجاب نہیں ہوگی۔ ایسی حالت میں دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ اسلامی روایات کی بنیاد پر ہے، روایت ہے کہ جب کبھی بھی انسان کی کوتاہی کی وجہ سے کوئی مصیبت نازل ہو، اس مصیبت کے دور کیئے جانے کے لئے کی جانے والی دعا قبول نہیں ہوگی۔

مولا علی علیہ السلام کے اس آخری کلام یا وصیت پر مسلمان اگر عمل اور اپنی زندگيوں میں اس کو رائج کرے، تو یقینی طور پر دنیا و آخرت میں اسے سربلندی اور عزت و شرف حاصل ہوسکتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے  کہ علی کو نہیں پہنچانا گیا، علی مظلوم رہے اور مظلومانہ طریقے سے شہادت پائی اور مظلومانہ دفن ہوئے اور آپ کا حرم مطہر امام جعفر صادق (ع) کے زمانے تک پنہاں رہا۔ جی ہاں علی اپنی اعلی اقدار کی شناخت کے بغیر اس دنیا سے چلے گئے اور دنیا ابدی حسرت میں گرفتار ہوگئی۔

 

بدھ, 16 جولائی 2014 18:59

بہار ایمان (17)

روزے کے ایام بڑی تیزی سے گزرتے جارہے ہیں اس مبارک مہینے میں ضیافت الہی اور خدا کی جانب سے اس کی عبادت و بندگی کی توفیق حاصل ہونے پر اس کے شکر گزار ہیں۔

اگرہم آئینے میں اپنے چہرے کے تل کو قریب سے دیکھیں تو صرف کالے نشان کے علاوہ اور کچھ نہیں دکھائی دے گالیکن اگر تھوڑی دور سے آئینے میں اپنا مکمل چہرہ اور پوری صورت دیکھیں تو وہ سیاہ تل، پورا چہرہ  دکھائی دینے کے سبب برا نہیں معلوم ہوگا اور توجہ صرف اس تل پر مرکوز نہیں ہوگی۔

 پیشگی منفی رائے قائم کرنا  اچھی بات نہیں ہے ۔ فرشتوں نے بھی انسان کے سلسلے میں از قبل رائے کا اظہارکیا تھا ۔ پروردگار عالم نے جب فرشتوں سے فرمایا" میں زمین پر اپنا جانشین اور خلیفہ بنانے والا ہوں" توسارے فرشتے بول اٹھے" پروردگار کیا اس کو روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا جو فساد وخونریزی برپا کرے" خداوند کریم نے جواب میں فرمایا "جن حقائق سے ہم واقف ہیں تم لوگ ان سے آگا ہ نہیں ہو" یعنی آدم کی شخصیت کے دوپہلو ہیں فرشتوں نے صرف ایک  پہلو کو مد نظر رکھا اور از قبل آدم کے بارے میں منفی رائے قائم کرلی جو حقیقت سے پرے تھی ۔ ہمارا دستور یہ ہے کہ ہم صرف ایک پہلو کو دیکھتے ہیں ، ہم موسم خزاں کو دیکھتے ہیں لیکن فصل بہار کو نہیں دیکھتے، موسم سرما کو دیکھتے ہیں لیکن گرمی کے موسم کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ ہم کانٹے دیکھتے ہیں لیکن پھولوں کی جانب نظر نہیں کرتے ۔ ہمیں انسان کے دونوں پہلوؤں کو مد نظررکھنا چاہیے۔اسی لئے فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں" خدا نے فرشتوں کو ان کی فکرکی عدم صحت کی جانب متوجہ کرانے کے لئے دو امور انجام ديے۔ ایک حضرت آدم (ع) کے ساتھ اور ایک فرشتوں کے ساتھ۔خدا وند کریم نے حضرت آدم کو تمام انبیاء اور ائمّہ علیھم السلام کے اسمائے گرامی تعلیم فرمادیے اور ادھر فرشتوں کو ان تمام عظیم شخصیات کی روحوں کا مشاہدہ کرادیا۔ پھر ان سے سوال فرمایا کہ ان شخصیات کے بارے میں جانتے ہوکہ یہ کون لوگ ہیں؟ یعنی خدا اپنے فرشتوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ جب تم لوگ ان عظیم ہستیوں کو نہیں جانتےتو ان کے بارے میں از قبل فیصلہ کیوں کررہے ہواور انھیں زمین میں مفسد اور خونریز کیوں بنارہے ہو؟ کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے  ضروری ہے کہ جس کے بارے میں اظہار رائے کرنا ہے،  انسان پہلے سے مکمل طور سے اس کے بارے میں علم رکھتاہو ورنہ بعد میں پیشیمانی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔

ایک ہسپتال سے ایک سرجن کو آپریشن کے لئے ٹیلیفونی رابطہ کرکے بلایا گیا وہ ڈاکٹر فورا تیار ہوکر گھر سے چل پڑا ہسپتال میں پہنچتے ہی اس نے اپنے آپریشن روم میں جانے والا لباس تبدیل کیا اور آپریشن روم میں پہنچ گیا ۔ جس لڑکے کا آپریشن کرنا تھا اس کا باپ کوری ڈور میں کھڑا ڈاکٹر کے آنےکا منتظر تھا وہ ڈاکٹر کو دیکھتے ہی غصّے میں برس پڑا۔آپ نے آنے میں کیوں اتنی دیر لگادی؟ آپ کو نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کی زندگی خطرے میں ہے  اور آپ کو اپنی ذمے داری کا کوئی احساس بھی نہیں ہے ؟ ڈاکٹر نے زبردستی مسکراتے ہوۓ کہا جناب ہم ہسپتال میں موجود نہیں تھے ۔ ہمیں ٹیلی فون کر کے بلایاگیا ہے اور ہم سب کچھ چھوڑ کے بھاگے چلے آرہے ہیں۔آپ صبر سے کام لیں اور آرام سے بیٹھیں تاکہ میں بھی اپنا کام انجام دے سکوں" مریض کا باپ غصّے میں چلایا واہ جناب واہ میں آرام سے بیٹھوں؟اگر آپ کا بیٹا اس وقت آپریشن روم میں ہوتا تو کیا آپ آرام سے بیٹھتے؟ پھر مسکرا کر ڈاکٹر نے کہا کہ قرآن نے جو ایسے موقع پر کہا ہے وہی آپ کی بات کا میرے پاس  جواب ہے"ہم خدا کے پاس سے آئے ہیں اور  ہمیں اسی کی طرف واپس بھی جانا ہے " شفا دینے والا خدا ہے ڈاکٹر کسی کی عمر میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ آپ جائیے اپنے بیٹے کی شفایابی کی خدا سے دعا کیجئے اور ہم  خدا وند متعال  کی مدد وعنایت سے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے" لڑکے کا باپ بڑبڑایا" خود کسی قابل نہ ہوں تو دوسروں کو نصیحت کرنا بڑا ہی آسان ہوتا ہے" ڈاکٹر آپریشن روم میں چلا گیا اور آپریشن کرنے میں مصروف ہوگیا۔ آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ آپریشن روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر خوش خوش باہر آیا اس نے لڑکے کے والد سے کہا کہ خدا کا شکرکہ آپ کا بیٹے کو دوبارہ زندگی مل گئی " پھر اس نے مریض کے والد کے جواب کا انتظار کئے بغیر اسپتال سے باہر جاتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہوگا تو نرس سے پوچھ لیجئے گا۔ ڈاکٹر کے جانے کے کچھ دیر بعد نرس آگئی لڑکے کے والد نے اس نرس سے کہا کہ یہ ڈاکٹر صاحب کتنے مغرور ہیں؟  تھوڑی دیر رک نہیں سکتے تھے کہ ہم ان سے اپنے بچّے کا کچھ  حال چال پوچھ سکتے؟ نرس نےجس کی آنکھیں آنسوؤں سے نم تھیں، جواب دیا بھائی صحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ڈرائیونگ حادثے میں جاں بحق ہوگیا ۔ جس وقت میں نے انھیں فون کیا تھا وہ اپنے بچے کے غسل وکفن میں مصروف تھے اور انھوں نے ایسے حالات میں آکر آپ کے بیٹے کی جان بچائی اور ا ب وہ یہاں سے فورا چلے گئے تاکہ اپنے بچے کی تدفین میں شریک ہو سکیں"

اس واقعہ سےہمیں نصیحت وسبق حاصل کرنا چاہیے اور خدا وندکریم کی بارگاہ میں یہ دعا کرنی چاہیے 

پروردگارا اس مبارک مہینے میں ہماری مدد فرما کہ ہم دوسروں کےبارےمیں اپنے بے بنیاد  نظریہ کے جلد بازانہ اظہار سے پرہیز کریں اور اس با برکت ایام میں تہمت اور غیبت سے اجتناب کریں۔

حضرت امام زین العابدین (ع) کی پندرہ معروف مناجاتوں میں سے ایک مناجات  جو "مناجات متوسلین" یعنی خدا سے توسل اختیار کرنے والوں کی مناجات کے نام سے معروف ہے۔اس مناجات کے آغاز میں حضرت امام سجاّد (ع) بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں " خدایا تیری بارگاہ تک رسائی کے لئے تیری شفقت ومہربانی کے وسیلے کے سوا میرے پاس دوسرا کوئی وسیلہ اور ذریعہ نہیں ہے اور تیرے پیغمبر رحمت کی شفاعت وعنایت کے   علاوہ اور کوئی دستاویز میرے پاس موجود نہیں ہے ایسے پیغمبر کی شفاعت جو دوعالم کے غم واندوہ سے امت کو نجات دلانے والا ہے ۔ میرے مالک انھیں میری بخشش اور سعادت  وخوش بختی نیز اپنی بہشت رضوان کے حصول کا وسیلہ اور ذریعہ قرار دے " گویندہ اول سامعین جو چیز تقرب الہی کا ذریعہ ہو اسے وسیلہ کہتے ہیں۔  وہ تمام  اعمال خیر کہ جو انسان انجام دیتےہیں وہ تقرب الہی کا وسیلہ اور مقدمہ شمار ہوتے ہیں لیکن قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ پروردگار نے اعمال خیر کی انجام دہی کے جسمانی، روحانی اور فکری وسائل، انسان کے اختیار میں دیے ہیں۔ اگر انسان کو قرائت قرآن کے لئے آنکھیں اور ذکر الہی کے لئے زبان عطا نہ کی گئی ہوتی تو اس کی زندگی کسی کا م کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر عمل خیر کی انجام دہی کے لئے ہمت و حوصلہ اور عزم وارادہ  نہ ہو تا تو انسان کوئی نیک عمل انجام نہیں دے سکتاتھا۔ بنابریں خدا وند کریم کے لطف وکرم اور س کی توفیق کے بغیر انسان کوئی بھی کار خیرانجام دے ہی نہیں سکتا۔

حضرت امام زین العابدین (ع)  نےتقرب الہی کے وسائل میں ایک عظیم وسیلہ حضرت رسول اکرم ۖ کے وجود اقدس کو قرار دیا ہے اور یہ وہ عظیم اور قیمتی  وسیلہ ہے کہ قربت الہی کے حصول کے لئے ہر قسم اور ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو جس کی اشد ضرورت ہے۔خدا نے حضرت رسول اکرم ۖ کو اعلی ترین مقام یعنی مقام شفاعت عطا فرمایا ہے سورۂ ضحی کی پانچویں آیت میں ارشاد الہی ہے " اور عنقریب تمھارا پروردگار تمھیں اس قدر عطا کر دے گا کہ خوش ہو جاؤ گے" یہ آیت حضرت رسول اکرمۖ کے مقام شفاعت پر فائز ہونے پر شاہد ہے مفسرین قرآن  اس آیت کو قرآن کی سب سے زیادہ امید بخش آیت سمجھتے ہیں۔ حضرت امام زین العابدین (ع) خدا سے یہ دعا فرماتے ہیں کہ ان دونوں وسیلوں کو میری بخشش اور اپنی رضاؤ سعادت کے حصول کا وسیلہ قرار دے۔حضرت اپنے اس بیان سے ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ مہرو رحمت الہی کے بغیر شفاعت پیغمبر ۖ انسان کو نصیب نہیں ہوسکتی۔انسان اس صورت میں شفاعت کا مستحق ہوگا جب اپنےآپ میں شفاعت کے حصول کی اہلیت وصلاحیت پیدا کرلے۔

حضرت امام زین العابدین (ع) اپنی "مناجات متوسلین "میں بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں" پروردگارا میری امید تیری بارگاہ لطف وکرم سے بندھی ہوئی ہے اور تیری عنایت واحسان کا خواہاں ہوں۔میرے مالک اپنے لطف وکرم سے میری امید وآرزو پوری فرمادےاور ہمارے امور کو نیک انجام کے ساتھ منزل اتمام تک پہنچادے"  اپنی اس مناجات میں حضرت امام سجاد (ع) خداسے خیر وہدایت پر اپنی زندگی کےانجام کے خواہاں ہیں یعنی بارگاہ الہی سے توسل اور مناجات کی توفیق حاصل ہونے کے بعد جو نیک اور اچھے  اعمال انجام دیے ہیں، خدا مدد کرے تاکہ پھر گناہوں کے ارتکاب کے ذریعے اپنے انجام دیے ہوئے نیک اعمال کو لوگ تباہ نہ کریں۔ کیونکہ مومن کے لئے سب سے بڑی آفت وبلا یہ ہے کہ وہ ایک مدت تک خدا کی عبادت وبندگی کرے اور اپنی حیات کی آخری منزل میں گناہوں کے ارتکاب کے ذریعے اپنے انجام دیے ہوئے نیک اور اچھے اعمال کو خود تباہ کردے۔

 

منگل, 15 جولائی 2014 17:48

بہار ایمان (16)

پروردگار عالم اس مبارک مہینے میں اپنی نعمتوں اور برکتوں سے اپنے تمام  بندوں کونوازتاہے بھوک اور پیاس کے تحمل اور روزہ رکھنے کی توفیق عطا کرتاہے اور دعا مانگنے کی دعوت دیتاہے۔

دعا اور مناجات ، انسان  کے لئے اپنے خالق حقیقی سے رابطہ برقرار کرنے کا بہترین راستہ ہے ۔ خدا وند کریم سے رازو نیاز پروردگار عالم کی جانب انسان کے فطری رجحان کی نشاندہی کرتاہے ۔ ایک روز ایک شخص پیغمبر اکرمۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیاکہ اے رسول خداۖ کیا خدا ہم سے نزدیک ہے اور ہم چاہیں تو اس سے آہستہ سے راز ونیاز کرسکتے ہیں یا دور ہے کہ اس کو زور سے پکارناپڑے گا؟ رسول خداۖ نے ابھی لب بھی نہیں کھولے تھے کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 186 آپ پر نازل ہوئی اور" اے پیغمبر اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں پکارنے والے کی آواز سنتاہوں جب بھی وہ پکارتاہے۔ لہذا مجھسے طلب قبولیت کریں اور مجھی پر ایمان و اعتقاد رکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں"

دنیا کے ہر انسان کو زندگی کے تمام مرحلوں میں ایک مضبوط سہارے اور پشت پناہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ  زندگی کے مختلف امور کو آگے بڑھایا جاسکے اور ترقی و کمال کے راستے پر گامزن ہوا جاسکے۔ خداوند کریم سے رابطے کے وقت  انسان اپنے کو نفسیاتی اعتبار سے خصوصی روحانی ماحول اور معنوی فضا میں محسوس کرتاہے ۔ صبح کا وقت ایسا قیمتی  وقت ہے کہ اس وقت دعا بہت جلدی باب اجابت تک پہنچ جاتی ہے،خاص طور سے ماہ رمضان کی سحر خداسے دنیوی اور اخروی حاجتیں طلب کرنے نیز پروردگارسےاستغفار کرنے اور اس کی جانب پلٹنے کا بہترین وقت ہے۔

گویندہ دوم سامعین آپ نے دیکھا ہوگاکہ قطب نما ہمیشہ حرکت میں ہوتاہے مگر اس وقت رک جاتاہے جب قبلے سے اسکا رابطہ ہوجاتاہے آدمی کا دل بھی قطب نما کی مانند لرزاں اور مضطرب ہے مگر جب یاد وذکر خدا میں مشغول ہو تو انسان کے دل کو سکون ملتاہے ۔ پیغمبر اکرمۖ ہمیشہ مطمئن اور پرسکون رہتے تھے اس لئے کہ ہمیشہ یاد الہی میں مشغول رہتے تھے اور اٹھتے بیٹھتے ذکر خدا کرتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ فقط زبان سے ذکر الہی فرماتےتھے بلکہ آپ اپنے سارے امور کی انجامدہی میں مرضئ الہی کو پیش نظر رکھتے تھے۔ 

ایک ماں نے اپنے نوجوان فرزند کو گھر سے باہر جاتے دیکھ کر اس سے سوال کیا بیٹا کہاں جارہے ہو؟ بیٹے نے کہا امی جان میرا محبوب ترین اداکار اس شہر میں آیاہے میرے لئے اس سے ملاقات اور اس سے گفتگو کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ میں جارہاہوں بہت جلدی واپس آجاؤں گا۔ اگر اس کے پاس مجھسے باتیں کرنے کا وقت ہوا تو کیا اچھی بات ہوگی" وہ اپنے محبوب اداکار کے دیدار کے تصور سے خوش تھا اور مسکراتاہوا خدا حافظ کہہ کر  گھر سے باہر نکل گیا اور آدھ گھنٹے میں غصّے میں بھرا ہوا واپس آیا ماں نے پوچھا بیٹا کیوں پریشان ہو؟ کیا ہوا تمھارے محبوب اداکار سے تمھاری ملاقات ہوئی؟

بیٹے نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا ہم اور ہماری طرح بہت سے لوگ اس کے آنے کے منتظر تھے لیکن پتہ چلا کہ آدھ گھنٹہ پہلے وہ شہر کو ترک کر چکا ہے۔ کاش خدا نے جیسی شہرت اسے عطا کی ہے مجھے عطاکی ہوتی۔ ماں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر اپنے کمرے میں گئی اور تیار ہوکر بولی بیٹا تم بھی تیار ہوجاؤ چلو ایک جگہ چلتے ہیں۔ بیٹے نے بے اعتنائی کے ساتھ کہا کہ امی آپ کیا مذاق کررہی ہیں؟ وہ آدھ گھنٹہ پہلے اس شہر کو ترک کرچکا ہے آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟ ماں نے بڑے پیار سے کہا کہ بیٹا میرے اوپر اعتماد کرو اور میرے ساتھ چل چلو۔ بیٹے نے نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کی بات مان لی کیونکہ وہ ماں سے بہت محبت کرتاتھا۔ تیار ہوکر دونوں گھر سے باہر نکل گئے چند قدم چلنے کےبعد ماں نے مسجد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیٹے سےکہا کہ لو پہنچ گئے۔ بیٹے نے یہ سن کر ناراض ہوتے ہوئے کہا امی جان ہم نے آپ سے کہہ دیا کہ یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔ماں نے کہا کہ ابھی تم نے نہیں کہاتھا کہ کاش خدا اس کو اتنی شہرت دینے کے بجائے تمھیں دے دیتا؟ پس خدا ہر ایک سے برتر ہے اس لئے کہ وہی انسان کو شہرت و محبوبیت عطا کرتاہے اس سے بڑھ کر اور باعث افتخار کیا ہوگا کہ جوشہرت دینے والا ہے اس سے باتیں کریں۔

ماں کی منطقی بات بیٹے کی سمجھ میں آگئی اور اس نے یہ درک کرلیا کہ جو ساری نعمتوں کا خالق ہے اس سے گفتگو اور راز ونیاز ، خدا کے تخلیق کردہ ان انسانوں سے گفتگو کرنے سے زیادہ آسان اور زیادہ مؤثر  ومفید ہے جو اپنے خالق سے زیادہ رابطہ بھی نہیں رکھتے۔ جی ہاں، خداوند کریم سے گفتگو اور راز ونیاز، ہواؤں کے نرم ولطیف جھوکے کی مانند روح کو بالیدگی نیز افسردہ مضطرب  انسانوں کو سکون وقرار عطاکرتاہے۔ سامعین آئیے اس ماہ خیر وبرکت میں سر چشمۂ توحید ومعرفت سے قلبی رابطہ برقرار کریں اور تنہائی میں اپنے خالق ومعبود سے رازونیاز اور دعاؤ مناجات کریں کیونکہ سورۂ رعد کی 28 ویں آیت میں ارشاد الہی ہے " صرف یادو ذکر خدا سے دلوں کو سکون حاصل ہوتاہے "

خداوند کریم اپنے خاص بندوں سے خصوصی رابطہ رکھتاہے ان سے خلوت وجلوت میں گفتگو کرتااور ان کے روح و نفس کو سرافراز فرماتاہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) مناجات محبان الہی میں فرماتے ہیں" اے وہ معبود کہ جس کے انوار قدسیہ اس کے عاشقوں کی آنکھوں کونورعطا کرتے ہیں اور جس کی ہستی کی تجلیوں سے عارفوں کے دل منورونورانی ہوجاتے ہیں۔ اے مشتاقوں کے دلوں کی آرزو اور اے اپنے دوستداروں کی  منزل مقصود" جس وقت نور الہی، (جس کی ضیاء تمام انوار حسیہ سے کہیں زیادہ ہے) عاشقان خدا کے دلوں میں سرایت کرتاہے تو وہ اتنے مسرور ہوجاتے ہیں کہ دنیا اور اس کی تمام لذتیں، اس نور الہی کے عوض دینے کو آمادہ ہوجاتے ہیں۔ عشق مادی وانسانی کی داستانوں میں کبھی عاشق ومعشوق کے مابین اتنا گہرا عشق ہوتاہے کہ جس کا تصور بھی ان لوگوں کے لئے بہت ہی دشوار ہے  جو عشق کی لذت سے ناآشنا ہیں۔ اسی طرح خدا اور اس کے عاشقوں کے مابین ایسے گہرے روابط ہیں کہ محبت الہی سے بے خبر انسانوں کے لئے جن کا درک کرنا محال ہے۔

حضرت امام زین العابدین (ع) اپنی عرفانی مناجات میں اپنے خالق سے اس طرح محو گفتگو ہوتے ہیں کہ " اے مشتاقوں کے دلوں کی آرزو، اے عاشقوں کی منزل مقصود،اپنی دوستی اور اپنے دوست داروں اور ہر اس عمل کا عشق میرے دل کو عطافرمادے جو تیرے تقرب کاباعث ہو" اس مناجات میں حضرت امام زین العابدین (ع) خالق حقیقی سے اپنے عاشقانہ رابطے کے علاوہ ایک توحیدی مسئلے پربھی تاکید فرماتے ہیں۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ عاشقان الہی کے لئے محبت خدا سے حاصل ہونے والے  تمام نتائج کا سرچشمہ  لطف وعنایت الہی  ہے اور جب تک پروردگار کی مرضی نہ ہوکوئی بھی اس کی الفت ودوستی کے درجہ اور مرتبہ کو حاصل نہیں کرسکتاہے ۔ اسی طرح حضرت امام زین العابدین (ع) خدا سے اس کی نعمت الفت ومحبت طلب کرتے ہیں اور محبت الہی کا لازمہ یہ ہے کہ جب  انسان خدا سے محبت طلب کرے گا تو لازما خدا کے دوستوں سے بھی الفت کرے گا۔اسی لئے آپ نے اپنے خالق سے اس کی محبت کے ساتھ اس کے عاشقوں کی بھی محبت والفت طلب فرمائی ہے ،

یہ محال ہے کہ انسان خدا کو دوست رکھے اور اس کے پیغیمبر کو جو حبیب الہی ہیں، دوست نہ رکھے۔ خدا کی محبت و دوستی کا معیار ہی اس کے پیغمبر کی دوستی ومحبت ہے ۔ اور حبیب الہی کی محبت والفت خدا کی محبت میں اضافے کا باعث ہے۔ حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات میں  خداسے ایسے امور کی بھی محبت و الفت کی درخواست کرتے ہیں جو محبت الہی تک رسائی کا وسیلہ قرار پائے۔حضرت اپنی اس مناجات کے آخری حصہ  میں اپنے معبود سے یہ دعا فرماتے ہیں کہ " میرے مالک مجھ پر لطف وعنایت کی نظر فرما اور کبھی مجھے اپنی نظر عنایت سے محروم نہ فرمانا اور مجھے اپنی منظور نظر سعادت وکامرانی عطا فرما اے اپنے بندوں اور اپنی مخلوقات کی دعائیں قبول فرمانے والے اے ارحم الراحمین۔

اتوار, 13 جولائی 2014 15:36

بہار ایمان (15 )

 

حضرت امام سجاد (ع) ماہ رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں رمضان کا مہینہ خدا کا عظیم مہینہ اور اس کے خصوصی بندوں کے لئے عید ہے۔ اس مبارک مہینے میں روزہ سمیت تمام عبادات کی انجام دہی کی توفیق عظیم ترین الہی نعمت ہے جو پروردگار نے اپنے بندوں کو عطاکی ہے اس مبارک مہینے اور ان قیمتی اوقات میں اپنے مالک وخالق حقیقی سے التجاء کرتے ہیں کہ ہمیں استقامت وپائیداری عطاکرے تاکہ اس مبارک مہینےمیں فیوض وبرکات اور معنویت سے کماحقہ استفادہ کرسکیں۔

رمضان ماہ صبر واستقامت ہے ۔ صبر اور روزے کا بندھن اور رشتہ اٹوٹ ہےبھوک اور پیاس کے مقابلے میں صبر ،گناہوں کے مقابلے میں استقامت ،دشواریوں اور مشکلات کے مقابلے میں شکیبائی ، سب کچھ اس روزے میں موجود ہے۔ درحقیقت مختلف قسم کی سختیاں اور دشواریاں،  زندگانی دنیا کا حصہ ہیں اگر انسان ان دشواریوں اور سختیوں کے مقابلے میں صبر واستقامت کا مظاہرہ کرے تو یقینا کامیاب ہو سکتاہے۔ لیکن اگر صبر وشکیبائی کا دامن چھوڑ دے گا اور مشکلات  وحوادث کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا تو  کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

آپ کو معلوم ہے کہ کافی،  کڑوی ہوتی ہے اور اس کی کڑواہٹ شکرڈال دینے سے بھی دور نہیں ہوتی لیکن قابل برداشت ہوجاتی ہے مگر جب شکر کافی میں گھل جاتی ہے تو شیریں اور خوش ذائقہ ہوجاتی ہےاور اب اس کی تلخی انسان کے لئے مٹھاس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح مشکلات بھی تلخ اور ناگوار ہوتی ہیں اور کبھی ان کی تلخی  نہیں جاتی لیکن ان مشکلات کو بھی قابل تحمل وبرداشت بنانے کا ایک راستہ ہے اور وہ صبر ہے۔ قرآن کریم کے سورۂ عصر میں ایمان اور عمل صالح کے بعد مشکلات اور خسارے سے انسان کی نجات کا ذریعہ حق اور  صبر کے دامن سے وابستہ ہونے کو قرار دیا گیا ہے۔ صبر کیمیا ہے ۔ یعنی انسان ، صبر و استقامت کے ذریعے سونا بن جاتاہے اور اس کی قیمت بہت بڑھ  جاتی ہے۔ خاص طور سے  اس وقت جب یہ صبر نماز کے ساتھ ہویعنی اس صبر کا رابطہ خداسے برقرار ہوجائے۔ سورۂ بقرہ کی 45 ویں آیت میں ارشاد ہوتاہے" صبر اور نماز سے مدد مانگو" استقامت و پائیداری اور پروردگار کی جانب توجہ انسان کو قوت عطاکرتی ہے۔ جو آیات، صبر کی فضیلت میں نازل ہوئ ہیں وہ انسان میں مشکلات اور دشواریوں سے مقابلے کا عظیم حوصلہ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔جیساکہ انبیائے الہی نے کفار و مشرکین کے ذریعے شدید مشکلات برداشت کی ہیں۔ مشرکین انھیں جادوگر اور مجنون اور جھوٹا  کہتے تھے۔ ان کی دی ہوئی بشارتوں کی تردید کرتے تھے لیکن  انبیاء(ع) نے کبھی لب شکایت وا نہیں کیا۔

ایک  روز پیغمبر اکرم ۖ مکہ کے قریب واقع شہر طائف تشریف لے گئے تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین اسلام قبول کرنے  کی دعوت دیں ۔ آپ نے طائف پہنچنے کے بعد اس شہرکی ممتازاور عظیم شخصیتوں سے ملاقاتیں اور ان سے دین اسلام کے بارے میں گفتگو فرمائی۔ لیکن انھوں نے آپ کی دعوت قبول نہیں کی بلکہ آپ کو اذیت پہنچانے کی ٹھان لی اور جاہلوں کو اس بات پر آمادہ کیاکہ وہ رسول خدا ۖ کو پریشان کریں اور اذیت پہنچائیں یہ جاہل افراد اپ پر پتھر برساتے تھے یہاں تک کہ آپ کو پتھر مار مار کر زخمی کردیا آپ زخمی حالت میں چلتے چلتے  ایک باغ میں پہنچ گئے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور اپنے محبوب حقیقی سے  رازونیاز کرنے میں مشغول ہوگئے۔ جب باغ کے مالکوں نے آپ کو زخمی حالت میں درخت کے سائے بیٹھے ہوئے دیکھا تو انھیں آپ پر افسوس آیا ایک غلام کو بلاکر اس سے کہا کہ جاؤ ایک انگور لے  کر آؤ،  آپ کے سامنے تھوڑی دیر میں انگور آگئے آپ نے ایک خوشۂ انگور اٹھالیا اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا پھر آپ نے انکور تناول فرمانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا وہ غلام تعجب سے آپ کو دیکھنے لگا پھر اس نے آپ سے پوچھا ابھی آپ کیا کہ رہے تھے ہم نے تو آج تک یہ الفاظ کسی سے  بھی نہیں سنے۔ آپ نے فرمایا، میں خدا کا نام لے رہا تھا پھرآپ نے اس غلام سے پوچھا تمھارا تعلق کہاں سے ہے ؟ غلام نے کہا عراق میں  نینوا کا رہنے والاہوں۔ پیغمبرۖ نے مسکراکر فرمایا "شہر یونس" خدا وند کریم کے پاکیزہ نبی ؟ اس غلام نے عرض کی آپ یونس نبی کو جانتے ہیں؟ آپ نے آسمان کی جانب  نظر کرتے ہوئے  فرمایا ہاں میں بھی ان کی ہی طرح نبی خدا ہوں خدا نے ہی مجھے یونس کے بارے میں آگاہ کیا ہے پھر آپ نے حضرت یونس(ع) کے واقعات اس کے سامنے بیان فرمائے اس غلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس نے اٹھ کر حضرت رسول اکرمۖ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہنے لگا میں آپ کی نبوت  اور آپ کے خدا پر ایمان لاتاہوں ۔ یہ سن کر حضرت بہت خوش ہوگئے جب مکہ کی طرف روانہ ہوئے اپنی ساری تکلیفیں اور پتھروں کے زخم سب کچھ فراموش کرچکے تھے پیغمبر اکرم ۖ صبر تحمل سے کام لیتے ہوئے تبلیغ دین کے فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے بڑے وثوق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دین اسلام کی پیشرفت اور فروغ میں پیغمبرۖکا جذبۂ صبر وتحمل کار فرما تھا۔

اہل بیت رسولۖ کی دعاؤں اور مناجاتوں کا پڑھنا انسانی صفات اور اعلی مدارج کے حصول کا باعث بنتاہے ان مناجاتوں میں سے ایک "مناجات محبّین " ہے یعنی خدا کے دوست داروں کی مناجات ۔ اس مناجات میں محبت و قربت الہی کا ذکر ہے حضرت امام سجاد (ع) اس مناجات کے آغاز میں خدا سے محبت خالص کی درخواست کرتے ہیں۔ حضرت امام سجاد کا پاکیزہ دل محبت الہی سے سرشار ہے لیکن آپ خدا سے  محبت کی انتہا طلب فرماتے ہیں یعنی آپ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی محبت کے سوا آپ کے قلب مطہر میں اور کچھ بھی باقی نہ رہے۔

حضرت امام سجاد(ع) اپنی مناجات میں معبود حقیقی سے راز ونیاز کرتے ہوئے فرماتے ہیں" پروردگارا ہمیں اپنے ان بندوں میں قراردے جنھیں تونے اپنی دوستی اور اپنے تقرب کے لئے منتخب فرمایاہے،اپنی محبت وعشق کے لئے خالص بنا دیاہے ،وہی بندے جوتیرے دیدار کے مشتاق اور تیرے ہر فیصلے سے راضی وخوشنود ہیں" حضرت امام سجاد (ع)  نےخداسے عشق ومحبت خالص کی دعا اس لئے فرمائی ہے کہ ممکن ہے انسان پروردگار سے محبت رکھتاہو لیکن اس کی محبت خالص نہ ہو۔ سعادت کے حصول کے لئے صرف خداسے دوستی کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں چاہیےکہ دوسروں سے زیادہ خدا سے محبت والفت کریں اور اسے دوست رکھیں اور یہ دوستی ہمارے اعمال کے ذریعے ظاہر ہو۔ جب ہم خدا کو دوسروں سے زیادہ دوست رکھیں گے تو پھر خدا ہمیں حقیقی ایمان کی دولت سے نواز دےگا اور یہی حقیقی ایمان اس کی دوستی کا ثبوت قرارپائے گا۔ سورۂ بقرہ کی 165ویں آیت میں اسی سلسلے میں ارشاد الہی ہے " جولوگ صاحب ایمان ہیں خدا سے انھیں بہت زیادہ محبت ہے۔ حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الہی میں مناجات کرتے ہوئے فرماتے ہیں" اے میرے مالک مجھے ان لوگوں میں قرار دے جنھیں تونے اپنے جوار میں جگہ دی ہے اور مقام صدق وصفا پر فائز کیا ہے اور معرفت کے مرتبہ کے حصول کے لئے مختص کرکے اپنی پرستش اور بندگی کے لائق بنارکھاہے"

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ لقائے الہی کا شوق ، محبت خدا کے فطری آثار میں شامل ہے ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی انسان کسی سے عشق کرتاہو لیکن اس کے دیدار کا مشتاق نہ ہو۔  محبوب تک رسائی کا شوق و اشتیاق جس قدر بڑھتا جائے گا اس کی محبت میں اسی قدر اضافہ بھی ہوتاجائے گا۔ اپنے محبوب کی قربت اور اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہر انسان کی سب سے بڑی تمنّا اور آرزو ہوتی ہے ۔ بلا شبہ قربت الہی اعلی ترین اور عظیم ترین مقام ہے اس مقام تک رسائی کے بعد انسان تمام رنج وغم اور تمام دشواریوں  اور مشکلات سے نجات پالیتاہےاور اسے ابدی سکون حاصل ہوجاتاہے۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ فرعون کی زوجہ آسیہ کو خدا وند متعال اور حضرت موسی(‏ب) کی نبوت  پرایمان لانے کے بعد فرعون کی جانب سے شدید ایذائیں پہنچائی گئیں کہ وہ عقیدۂ توحید و یکتا پرستی سے دست بردار ہوجائیں لیکن انھوں  نےالفت و عشق الہی کا ذائقہ چکھ لیا تھا اس لئے ان کے دل میں صرف اور صرف تقرب الہی کی آرزو تھی۔ سورۂ تحریم کی گیارہویں آیت میں اس واقعہ کی جانب اشارہ کیا گیا ہے ۔ وہ ایسے دشواراور سخت ترین حالات میں بھی خدا سے راز ونیاز کررہی تھیں کہ" پروردگارا بہشت میں اپنے جوار میں  مجھے جگہ عنایت فرما"

قرب الہی اور اس کی عظمت کا ادراک، صرف اس کی بندگی کے ذریعے حاصل ہو سکتاہے اسی لئے حضرت امام سجاد (ع) نے خدا سے دعاکی ہے کہ ان لوگوں میں شامل ہوں جوخدا کی بندگی کے لائق ہیں۔ یعنی انسان اس بات کو صدق دل سے قبول کرے کہ وہ مکمل طور سے اپنے خالق حقیقی کا نیازمند اور محتاج ہے۔خدا کی بندگی کا صرف زبان سے نہیں بلکہ ساری زندگی انسان کے اعمال و کردار ورفتار سے اظہاربھی ضروری ہے۔

 

 

  

 

 

 

  

 

 

 

 

 

 

 

 

    

 

 

    

 

 

 

 

 

 

 

    

 

 

 

 

 

  

 

 

 

  

 

اتوار, 13 جولائی 2014 15:34

بہار ایمان (14 )

روزہ نفسانی خواہشات کے مقابلے میں ایک مضبوط سپر اور ڈھال ہے۔ انسان روزے کے ذریعے ناشائستہ نفسانی خواہشات  ورجحانات پر کنٹرول کر لیتاہے اور اپنے باطن سے ظلمت و غفلت کی تیرگی دور کرکے اپنے نفس کونور الفت الہی سے منور اور  تواضع و انکساری کے  پھولوں سے آراستہ کرتاہے۔ یعنی روزہ،  کھانے پینے سے اجتنات کے علاوہ اعلی مدارج کا بھی حامل ہے  یعنی اپنےنفس اور دل کو تمام گناہوں اورکثافتوں سےدور رکھنا سکھاتا ہے۔

اسلامی اخلاق نے پسندیدہ اور ناپسندیدہ  انسانی صفات کو بہ نحو احسن  پیش کیا ہے اور پیروان اسلام کو اسلامی اخلاق اور اعلی اقدار سے آراستہ ہونے کی دعوت دی ہے۔ اخلاق اسلامی میں تواضع کو اہم مقام و منزلت حاصل ہے تواضع اور انکساری وہ اچھی اور نیک صفت ہے کہ ہر انسان رمضان کے اس مبارک مہینے میں بخوبی اس کا حامل بن سکتاہے" تواضع" کے ذریعے دلوں کو نرم اور دوسروں کو اپنے سےقریب کیا جاسکتاہے۔ "تواضع" محبت، دوستی، مہربانی اور سربلندیوں  کے حصول کا زینہ ہے ۔ تواضع اور فروتنی، وہ گلشن وگلزار ہےجہاں برادری و بھائی چارے،صدق وصفا اور مہر ومحبت کے  دلکش پھول کھلتے ہیں اور انسان کے لئے حقیقی عظمت ومنزلت کا باعث بنتے ہیں ۔ تواضع ، باطنی خشوع وخضوع کی ایک معقول حالت ہے کہ انسان کی رفتار وکردارسے جس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ منکسر انسان لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتاہے ۔ تواضع اور فروتنی کی صفت کے حامل انسان میں وفا اور ایثار کا جذبہ پایاجاتاہے۔ ایسا انسان خدا کے سامنے تسلیم ہو جاتاہے اور نہایت عشق وایمان کے ساتھ طاعت وعبادت الہی بجالاتاہے ۔ اس کا ایمان مستحکم اور دل ایسا مضبوط قلعہ ہوجاتا ہے کہ دشمن اس میں نفوذ کی توانائی نہیں رکھتا۔ تواضع ، خدا کے مخلص بندوں کے لئے تاج افتخار ہے ۔

موسم بہار میں کبھی کسی پتھر پر سبزے نہیں اگتے کیونکہ پتھر سخت ہوتاہے لیکن پتھر کے مقابلے میں مٹی کو دیکھیے کہ اس میں کیسے کیسے رنگ برنگے پھول کھل اٹھتے ہیں اس لئے کہ مٹی میں نرمی اور لطافت پائی جاتی ہے اور وہ اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اس کے اندر پھول پرورش پائیں۔ انسان کے دل کو بھی مٹی کی مانند نرم ونازک ہوناچاہیے پتھر کی طرح سخت نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اہل دوزخ قیامت میں فریاد کریں گے، اور قرآن کے مطابق "کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی اور خاک ہوتا"یعنی اے کاش ہم متواضع اور منکسرالمزاج ہوتے۔ حق بات قبول کرلیتے اور خاکسار انسان ہوتے ۔

آج کے دور میں ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے صدف میں مختلف رنگوں کےخوش نما پتھر تیار ہوتے ہیں اور ہم  انھیں مروارید کا نام  دیا جاتاہے لیکن زمانۂ قدیم میں لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ جب آب نیساں کا کوئی قطرہ صدف یا سیپ میں پہنچ جاتاہے تو وہ مروارید اور موتی بن جاتاہےایران کے عظیم وممتاز شاعر سعدی شیرازی اسی خیال کو انسانوں کے لئے سبق آموز سمجھتے ہیں انھوں نے اپنے نصیحت آموز اشعار میں اسی خیال کو نظم کیاہے وہ کہتے ہیں کہ " پانی کا ایک قطرہ جب دریا میں گرا تووہ دریا کی عظمت کو دیکھ کر شرمندہ ہوگیا اور اپنے آپ سے کہنے لگا اس عظیم دریا کے سامنے میری حیثیت کیا ہے؟ اس کے وجود کے مقابلے میں گویا میں اتنا ناچیز ہوں کہ میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ جب اس قطرء آب نے اپنے کو حقیر سمجھا تو صدف نے اس کی انکساری اور تواضع کی وجہ سے اسے اپنی آغوش میں لے کر ایسی پرورش کی کہ اسے در شہوار میں تبدیل کردیا۔

پروگرام کے اس حصے میں ایک معروف ممتاز عالم دین کے تواضع اور انکساری کا ایک واقعہ سن لیجیے۔ شیخ عباس قمی کی ایک معروف کتاب "منازل الآخرۃ" ہے یہ کتاب شایع ہونے کے بعد علماؤ فضلاء کے درمیان بہت مقبول ہوئی قم میں ایک عالم دین تھے جن کانام شیخ عبد الرزاق تھاوہ ہمیشہ حرم حضرت معصومہ (س) میں آذان ظہر سے قبل مومنین کے لئے احکام شرعیہ بیان کیا کرتے تھے۔ شیخ عباس قمی کی کتاب  منازل الآخرۃ شایع ہونے کے بعد ، شیخ عبدالرزاق احکام شرعیہ بیان کرنے کے بعد اس کتاب سے احادیث وروایات بھی لوگوں کے لئے وعظ ونصیحت کے عنوان سے پیش کردیتے تھے۔ شیخ عباس قمی کے والد شیخ عبدالرزاق کے موعظہ سے بہت متاثر تھے وہ ہر روز ان کا بیان  سننے حرم جاتے تھے اور کتاب منازل الآخرۃ کے مطالب بہت پسند کرتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے فرزند شیخ عباس قمی کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ  بیٹا کاش تم  شیخ عبدالرزاق کی طرح منبر پر جاکر اس کتاب سے میرے لئے مطالب بیان کرتے جس کتاب سے وہ بیان کرتے ہیں " شیخ عباس قمی خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی بار میں نے سوچا کہ والد سے کہوں جس کتاب سے وہ مطالب بیان کرتے ہیں وہ میری ہی تالیف کردہ ہے لیکن میں نےیہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ اباجان دعا فرمائیے کہ خدا وند کریم مجھے توفیق عنایت فرمائے"  شیخ عباس قمی کی کتابوں اور خاص طور سے مفاتیح الجنان کی مقبولیت کی ایک سبب ان  متواضع ہونا تھا۔

حضرت امام سجاد(ع) مناجات "محّبین" میں فرماتے ہیں" پروردگارا ایسا کون ہے کہ جو تیری محبت کی مٹھاس کا ذائقہ لینے کے بعد کسی اور سے عشق کرے ؟ اور ایسا کون ہے کہ تیری قربت کے حصول کے بعد ایک لمحہ کو بھی تجھ سے دور رہنا چاہے " سب سے عظیم لذت، محبت خدا کی لذت ہے جس کو الفت  خدا کا ذائقہ حاصل ہوگیا وہ کسی اور جانب نہیں جاسکتا اور قرب الہی سے دوری اختیار نہیں کرسکتا۔ خدا وند کریم سے عشق و محبت کا راستہ اس کا ذکر اور اسکی عطا کردہ نعمتوں کو یاد کرنا اور اس کا شکر اداکرناہے ۔ خداکی معرفت میں اضافہ اس کی محبت والفت میں اضافے کا باعث بنتاہے ۔ حدیث قدسی میں آیاہے کہ حضرت داؤد (ع) سے خدانے فرمایا مجھے دوست رکھو اور میری مخلوقات کےدرمیان مجھے محبوب بناؤ" حضرت داؤد (ع) نے عرض کی خدایا میں تجھے دوست رکھتاہوں لیکن کیسے دنیا میں تیری محبوبیت کو عام کروں ؟ خدانے فرمایا ان کےسامنے میری نعمتوں کاذکر کرو تو دنیا مجھےچاہنےلگےگی۔

گویندہ اول جو شخص لوگوں کے حق میں اچھائیاں کرتاہے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں بنابریں  ہم خدا کی عطا کردہ نعمتوں پر جتنی زیادہ توجہ دیں گے اور اس کی نعمتوں کی اہمیت سمجھیں گے اتنی ہی زیادہ خدا سے ہماری الفت میں اضافہ ہوتا جائے گا کیونکہ دوست رکھنا عارضی جذبہ نہیں ہے بلکہ ایک پائیدار حالت شفقت ومہربانی ہے۔جب کوئی انسان کسی سے محبت کرتاہے تو اس سے اپنے انس و علاقہ کا اظہار بھی کرتاہے اور کچھ عرصے تک اس کا دیدار نہیں ہوتاتو اس کے فراق میں رنجیدہ و محزون ہوجاتاہے۔ خداوند متعال سے ایسی محبت کے لئے اس کے ذکر اور اس کی نعمعتوں کوبھی متواتر یاد کرنا چاہیے اگر ایسا کیا جائے تو خدا کی محبت، انسان کے دل میں بیٹھ جائے گی۔ محبت الہی کو دل میں جاگزیں کرنے کا ایک مناسب راستہ خلوص واخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت ہے۔ رسول اکرم ۖ   عبادت الہی سے عشق کے بارے میں فرماتے ہیں" سب سے افضل و بہتر وہ انسان ہے جو عاشق عبادت اور اس سے مانوس ہو،  دل کی گہرائی سے عبادت کو دوست رکھتاہواور اس کی انجام دہی کے وقت کسی دوسرے کام میں مشغول نہ رہے  ایسےشخص کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کی دنیوی زندگی آسائش میں یا مشکلات میں بسر ہورہی ہے" حضرت امام سجاد(ع) مناجات (محبّین ) میں فرماتے ہیں خدایا مجھے اپنے ان بندوں میں شامل فرما جو تجھ سے ہر حال میں خوش اور راضی ہیں اور دل کی گہرائی سے تجھے پکارتے ہیں اور ساری عمر تیرے عشق میں آہ ونالہ کرتے ہیں ان کی پیشانیاں تیری عظمتوں کے سامنے خم ہیں اور ان کی آنکھیں بیدار اور تیرے تقرب کی راہ پر مرکوز ہیں اور ان کے دل تیرے بحرعشق ومحبت میں ڈوبےہوئےہیں اورہیبت وجلال سےسرشار ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  

 

 

 

   

 

 

 

 

  

 

 

 

 

  

 

 

 

  

 

 

 

 

  

 

 

 

     

اتوار, 13 جولائی 2014 15:33

بہار ایمان(13)

 

آپ جانتے ہیں کہ کوئلے جب ایک جگہ اور ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں تو ان میں حدت و حرارت زیادہ ہوجاتی ہے اور کوئلے زیادہ دیر تک باقی رہتے ہیں۔اگر ایک ساتھ  نہ ہوں الگ الگ ہوں تو بہت جلد جل کر راکھ بن جائیں گے یعنی ان کی عمر کم ہوجاتی ہے اور الگ ہونے سے ان کی سوزش وحرارت اور گرمی میں بھی کمی آجاتی ہے۔ یہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں موجود ہے وہ غور وفکر کرنے والے انسان کے لئے سبق آموز ہے۔  یہاں تک کہ  کوئلے سے بھی سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔ فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) فرماتےہیں " دنیا کی ہر چیز سے درس لیا جاسکتاہے" کوئلے کے ٹکڑوں کے باہم اور ایک ساتھ رہنے سے ان کی گرمی زیادہ ہوجاتی ہے، اس سے یہ سبق ملتاہے کہ طول عمر کا راز باہمی زندگی میں پنہاں ہے اور انسان اس وقت خوش حال ہوتاہے جب دوسروں کے ساتھ زندگی بسر کرتاہے اور  اس کے رزق وروزی میں اضافہ ہوتاہے ۔ اس کے برعکس جو شخص صلۂ رحم اور دوسروں سے ملنا جلنا پسند نہ کرتا ہو، تنہائی پسند ہو،تو اس کی حیات اور اس کی عمر کم ہوجاتی ہے لہذ ا انسان کو چاہیے کہ ماں باپ کی خدمت کرے ان کے ساتھ حسن سلوک کرے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرے ان کو خوش کرے اور ان سے اپنے لئے دعائیں کرنے کی خواہش کرے ۔ آپ نے رسول اکرمۖ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ آپ نے فرمایا " فرزند کے حق میں والدین کی دعا، اپنی امت کے حق میں پیغمبرۖ کی دعا کی مانند ہے" ایک جوان لڑکا پیغمبراکرمۖ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کا ارتکاب  میں نے نہ کیا ہوکیا میری بخشش کی بھی امید کی جاسکتی ہے؟  رسول اکرم ۖ نے اس جوان سے فرمایا تمھارے والدین ہیں ؟ اس نے کہا والدہ تو نہیں ہیں مگر والد حیات ہیں۔ آپ نے فرمایا اپنے والد کی خوب اچھی طرح خدمت کرو " یہ سن کر وہ جوان خوش ہوکر چلا گیا ۔ جیسے ہی وہ جوان رسول ۖ کے پاس سے ہٹا آپ نے فرمایا کہ کاش اسکی ماں ہوتی تو اور جلدی اسے اس کے عمل کا نتیجہ مل سکتاتھا"

قرآن کریم کے سورۂ اسرا کی 23اور 24 ویں آیت میں ارشا ہوتاہے"اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ کہ تم سباس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اوراگر تمھارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبر دار ان سے اف بھی نہ کہنا،اور انھیں جھڑکنا بھی نہیںاور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنااور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینااور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا، کہ پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرماجس طرح کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالاہے"

ایک روز حضرت موسی (ع) نے مناجات کے دوران پروردگار سے عرض کی میرے مالک مجھے یہ بتادے کہ بہشت میں میرا ساتھی اور ہمنشیں کون ہوگا؟  آواز معبود آئی موسی فلاں جوان ہے جو فلاں جگہ رہتاہے وہی بہشت میں تمھارا ہمنشیں اور ساتھی ہوگا ۔ حضرت موسی (ع) اس کی تلاش میں نکلے ۔ حضرت موسی ایک جوان قصاب کو دیکھا اور دور سے اس کا پیچھاکرنا شروع کیا تاکہ دیکھیں کہ وہ خداکی نظر اہمیت کا حامل کون کا عمل انجام دیتاہے کہ بہشت میں اس کا مرتبہ اتنا زیادہ ہے ۔ جس قدر بھی حضرت موسی نے اس کے عمل کو دیکھا وہ کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں تھا ۔ رات ہوئی تو اس جوان نے اپنی دوکان بند کی اور اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگیا حضرت موسی نے اپنا تعارف کرائے بغیر اس کے قریب آکر اس سے کہا کہ ہم آج تمھارے مہمان رہنا چاہتے ہیں ۔ اس جوان نے قبول کرلیا اور حضرت موسی (ع) کو اپنے گھر لے آیا ۔ حضرت موسی (ع) نے دیکھا کہ جب وہ جوان اپنے گھر میں داخل ہوا، سب سے پہلے غذا تیار کی اور پھر ایک بوڑھی عورت کے پاس گیا جوبالکل مفلوج تھی اور اس نے اس عورت کو آہستہ آہستہ ایک لقمہ کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ بوڑھی عورت شکم سیر ہوگئی پھر اس جوان نے اس ضعیفہ کے کپڑے بدلے اور اس کے ساتھ بڑی الفت ومہربانی کا برتاؤ اور ہر کام میں اس کی مدد کرتارہا۔ پھر اس نے اس عورت اس کے بستر پر لٹا دیا۔ حضرت موسی نے دیکھا کہ اس جوان نے اس رات ضروری مذہبی فرائض کے علاوہ اور خاص عبا دت اور اہم عمل انجام نہیں دیا نہ نماز شب نہ دعاؤ مناجات اور نہ کوئی دوسرا عمل۔ دوسرے روز گھر سے نکلنے سے پہلے اس جوان نے غذا تیار کی اور اس بوڑھی عورت کے پاس جاکر اسے بڑے پیار سے ایک ایک لقمہ کھلانے لگا اور اس کے تمام امور میں اس عورت کی مددکی ۔ جب دونوں ایک دوسرے سے جداہونے لگے تو اس وقت حضرت موسی نے اس جوان سے دریافت کیا "وہ بوڑھی عورت کون تھی؟ تمھارے کھانا کھلانے سے پہلے وہ آسمان کی جانب نطریں اٹھا کر نہ جانے کیا دعا مانگ رہی تھی وہ کیا کہ رہی تھی؟ جوان نے کہا وہ میری ماں ہے جب میں اسے کھانا کھلاتاہو ں تو وہ میرے لئے خدا سے دعا کرتی ہے اور کہتی ہے" خدایا میرا بیٹا جو میری خدمت کرتاہے اس کے عوض بہشت میں اسے موسی ابن عمران کی ہمنشینی عطا فرما" جب حضرت موسی (ع) نے یہ ماجرا سنا تو اس جوان سے فرمایا تمھارے بارے میں تمھاری والدہ کی دعا قبول ہوگئی۔

پروگرام کے اس حصے میں حضرت امام سجاد (ع) کی ایک اور مناجات آپ کی حدمت میں پیش کررہے ہیں۔"مناجات پیروان خدا" میں حضرت امام سجاد (ع) باگاہ الہی میں دعا کرتے ہیں " بارالہا اپنی طاعت وبندگی کا جذبہ سے میرے دل کے سرشار اور غم وغصّہ مجھ سے دورکردے ،اور میرے رزق وروزی اور میری آرزوئیں پوری کرنے کے لئے وہ راہ فراہم کر جس سے تو راضی وخوشنود ہے اور مجھے بہشت جاوداں جگہ عنایت فرماہماری چشم بصیرت کے سامنے سے شکوک وشبہات کے کالے بادل ہٹادے اور میرے دل سے لیت ولعل کے تاریک پردے  اورباطل کو میرے باطن سے دور کر، حقیقت کو میرے باطن میں نفوذ عطاکر میرے مالک بے شک شکوک واوہام  فتنے ایجاد کرنے کےدرپے ہیں اور تیری نعمتوں اور بخششوں شادابی کو ناگوار بنانے کے خواہاں ہیں"

جو انسان اپنے الہی فریضے کی انجام دہی کا خواہاں ہے،وہ معبود حقیقی سے ہر دعا سے پہلے واجبات کی ادائگی اور محرمات سے دوری اختیار کرنے کی توفیق کا طالب ہوتاہے۔ کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ گوہر تقوی تک رسائی اور رضائے الہی کے حصول کے لئے شرعی فرائض کی انجام دہی وادائگی لازم ہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) نے اپنی اس مناجات میں اپنے خالق سے توفیق بندگی اور الہی  احکام و فرائض کی انجام دہی کی توفیق طلب کرنے کے بعد، دلوں سے شک وشبہ دورہونے کی دعا فرماتے ہیں۔ اور اس طرح آپ نے  فاسد شک اور وہم وگمان کو ہر برائی کی جڑبتایا ہے اس لئے کہ اگر دینی اعتقادات واحکام میں وہم وگمان یقین کی جگہ لے لے تو وہیں سے انسان کی کجروی کا آغاز ہوگا البتہ کبھی کبھی انسان عارضی شک وتردید اور غفلت کا شکار ہوجاتاہے لیکن وہ لوگ جو نور ہدایت سے بہرہ مند ہونے کی صلاحیت کے حامل ہیں، لطف وعنایت پروردگار ان کے شامل حال ہوتی ہے  اور انھیں توجہ دلائی جاتی ہے جس کی بدولت ان کی آنکھیں اور دل  نور بصیرت سے منور ہوجاتےہیں اور شیطان ان سے دور ہوجاتاہے لیکن جولوگ غفلت کے مارے ہیں اور نور ہدایت سے فیضیاب ہونے کے لائق نہیں ہیں ، شیطان ان کے سامنے جب مظاہر دنیا کو آراستہ کرپیشکرتاہےتو بجائے اس کے کہ وہ متوجہ ہوں ،اور شیطان کے فریب سے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کریں ،مزید پیروشیطان بن جاتے ہیں اس لئے انکی آنکھوں اور دلوں پر اور زیادہ پردے پڑ جاتے ہیں اور دل تاریک ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قعر غفلت میں گر جاتے ہیں اور اور یادو ذکر الہی سے بھی انھیں نفرت ہوجاتی ہے ۔

حضرت امام سجاد (ع)  اپنی مناجات میں بارگاہ الی میں عرض کرتے ہیں " پروردگارا ہمیں اپنی نجات کی کشتیوں میں جگہ عنا یت فرما، اور اپنی مناجات کی لذت کے فیض سے کامیابی عطافرما، اپنے چشمۂ محبت سے فیضیاب کر اور اپنی دوستی و قربت کی لذت سے آشنا کراور اپنی معرفت کے حصول کی راہ میں سعی وکوشش کی توفیق عطا فرمااور ہماری قوت وطاقت و حوصلے کو اپنی طاعت و عبادت میں صرف کرنے کی توفیق عطافرما،  اپنے معاملے میں ہماری نیت میں پاکیزگی اور خلوص پیدا کر، ہمارا وجود تیری ذات سے قائم اوروابستہ ہے اور تیری قربت کے حصول کے لئے ہمارے پاس تیرے سوا دوسرا کوئی وسیلہ نہیں ہے۔"

حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات کے اس حصّہ میں خدا سے دعافرماتے ہیں نجات کی کشتیاں عنایت اور اپنی رحمت شامل حال فرمائے تاکہ اپنے معبود حقیقی سے دعاؤ مناجات کی لذت سے سرشار ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خداسے مناجات کا ذائقہ اور اس کی لذت کا حاصل کرنا ہرایک کا نصیب نہیں ہے۔ یہ عنایات انھیں نصیب ہوتی ہیں جو اپنے دلوں کو ظلمتوں سے پاک کرتے اور انوار ہدایت الہی سے دلوں کو منور کرتے ہیں۔ کبھی انسان منتظر رہتاہے کہ ماہ رمضان آئے اور وہ اس کی بابرکت راتوں اور خاص طور پر شبہائے قدر میں خداسے دعاؤ مناجات کے ذریعے اپنے دل کو نورانی بنائےاورجب ماہ رمضان اپنے دامن میں برکتیں اور الہی رحمتیں لئے ہوئے آتاہے تو انسان مشغول دعاؤ مناجات ہوجاتاہے راتوں بیدار رہ عبادت الہی میں مصروف ہوتاہے لیکن خدا سے مناجات میں اسے حقیقی لذت حاصل نہیں ہوپاتی ۔ اس لئے کہ اس نے لذت مناجات اور اپنے معبود سے قربت و دوستی کے شیریں ذائقے کے حصول کےلئے اپنے نفس کو آمادہ نہیں کیا ہے۔

 

 

  

 

 

 

 

 

 

  

 

 

 

 

 

     

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

        

اتوار, 13 جولائی 2014 15:31

بہار ایمان (12)

خداوندعالم نے اپنے پیغمبر حضرت موسی (ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا " اے موسی جو ہمیں دوست رکھتا ہے وہ ہمیں بھولتا نہيں ہے اور جو کوئی میرے احسان سے امیدیں لگائے بیٹھتا ہے وہ مجھ سے التجا کرتا ہے ۔ اے موسی میں ہرگز اپنے بندوں سے غافل نہيں ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے فرشتے میرے بندوں کی دعاؤں اور مناجاتوں کو سنیں

روزہ کی حالت میں عشق وامید کے ساتھ رحمت و لطف الہی کا زمزمہ کرتے ہیں ۔" قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھوا لغفور الرحیم " پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ( سورۂ زمر آیۃ 53 )

گویندہ : روزہ اسی طرح نفسانی خواہشات کے سامنے مضبوط سپر ہے ۔ انسان روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو بری خواہشات اور رجحانات سے دور رکھتا ہے اور اپنے باطن سے تمام برائیوں اور خباثتوں کو دور کرتا اور اچھائیوں اور نیکیوں سے خود کو آراستہ کرتا ہے ۔ امید ہے کہ ماہ رمضان کے جو ایام ابھی باقی ہیں ان میں اپنی پاکیزہ فکر و عمل کے ذریعے ہم خود کو  مزید سنواریں گے ۔

جو لوگ عنیک لگاتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی عینک صاف کرتے رہتے ہیں تاکہ صاف دکھائی دے ۔عینک کا شیشہ اگر سفید نہ ہوتو ہر چیز ہر چیز تاریک سی دکھائی دیتی ہے ۔ عینک کی صفائی بھی ملائمت اور نرم و لطیف رومال یا ٹشو پیپر سے ہونی چاہئے آپ کسی کو نہيں دیکھیں گے جو اپنی عینک کا شیشہ کسی کھردرے اور سخت کپڑے یا کسی اورچیز سے کرے ۔ ہم یہ کہ سکتے ہيں کہ  ایک طرح سے سبھی انسان، اپنی آنکھوں پر عینک لگائے ہوئے ہیں اور وہ عینک ہمارا ذہن ہے یعنی ہم اپنی فکر اور ذہنیت کے اعتبار سے تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہمارے خیالات و افکار ہی  ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

ایک شخص کہتا ہے کہ میں کسی ایئرپورٹ پر گیا ایک بک اسٹال سے ایک کتاب خریدی اور ایک دکان سے بسکٹ لیا ۔اور آکر ایک کرسی پر بیٹھ گيا میں نے اپنے پاس رکھے بسکٹ میں سے ایک بسکٹ لیا لیکن میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا مرد جو ہمار ے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے بھی ان بسکٹ میں سے بغیر اجازت کے ایک بسکٹ اٹھا لیا ۔ میں نے ایک اٹھایا تو  اس نے بھی ۔ مجھے بہت برا لگا، لیکن میں نے اس کا اظہار نہيں کیا ۔ پھر میں نے بسکٹ اٹھایا تو اس نے بھی اٹھا لیا میں نے اسے گھور کر دیکھا لیکن وہ مجھے مسکراکر دیکھنے لگا ۔ یہاں تک کہ جب آخری بسکٹ بچا تو اس بوڑھے انسان نے اس بسکٹ کے بھی دو حصے کردیئے اور اس کا ایک حصہ خود کھایا اور دوسرا میرے سامنے  رکھ دیا ۔ میں غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور غیض و غضب کے عالم میں اس سے دور ہوکر بیٹھ گیا ۔ جب میں پرواز میں بیٹھا اور کتاب پڑھنے کے لئے اپنا بیگ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میرے بسکٹ کا پیکٹ میرے بیگ میں پڑا ہوا ہے اس وقت میں متوجہ ہوا کہ میں نے ہی اس بیچارے کے سارے بسکٹ کھالئے ہیں جب کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بسکٹ میرے ہيں اور اسی غلط خیال کے سبب ، میرا ذہن و خیال ، اس کو  غلط سمجھ رہا تھا ۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمارے زیادہ تر تنازعے اور لڑائیاں ہمارے غلط اور نا معقول طرز فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ اسی لئے اسلام نے اس قسم کے خیالات اور بد گمانیوں کو باطل اور غلط قرار دیا ہے ۔ آیات و روایات میں بد گمانی کی جو مذمت کی گئی ہے اس کی وجہ یہی ہے ۔ انسان کو اپنے ذہن کو پاک کرنا چاہئے خداوند عالم سورۂ یونس کی آیۃ 36 میں ارشاد فرماتا ہے اور ان کی اکثریت تو صرف خیالات کا اتباع کرتی ہے جب کہ گمان ، حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہيں پہنچاسکتا بیشک اللہ ان کے اعمال سے خوب واقف ہے ۔ البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارے خیالات میں جو کچھ گذرتا ہے اس کا اہم حصہ ہماری سنی سنائی باتوں سے ہوتا ہے اسی بناء پر دین اسلام میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ دوسروں کی بری باتوں کو نہ سنیں  لیکن ان کی اچھی باتوں کو پر ضرور کان دھریں ۔ یعنی اگر کسی نے دوسرے کی خوبی بیان کی تواس کو ضرور سنئے  لیکن جہاں دوسروں کی برائی کا ذکر ہو وہاں آپ یہی کہئے کہ میں جب تک خود اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں آپ کی بات کو قبول نہیں کرسکتا ۔

دو بھائی تھے جو برسوں تک اپنے باپ سے ورثے میں ملنے والے ایک کھیت ميں زراعت کا کام کرتے تھے اور اپنی زندگي چلاتے تھے ایک دن ایک ذرا سی غلط فہمی پر دونوں بھائیوں میں بحث ہوگئی ۔ کئی ہفتے گذرنے کے بعد، ان کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ۔ ایک دن بڑے بھائی کے دروازےپر ایک آواز سنائی دی ۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا ایک بڑھئی کھڑا ہے ۔ بڑھئی نے پوچھا میں کام کی تلاش میں ہوں کوئی کام ہے جس میں میں تمہاری مدد کرسکوں ؟ بڑے بھائی نےجواب دیا ۔ ہاں اتفاق سے میں بھی ایک بڑھئی کی ہی تلاش میں تھا۔ اس نے بڑھئی سے کہا وہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر دیکھ رہے ہو ۔ وہ پڑوسی جو حقیقت میں میرا چھوٹا بھائی ہے گذشتہ ہفتے اس نے کئی مزدوروں کو بلایا تاکہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر کھودوائے اور اس طرح سے نہر کے ذریعے کھیت کا بٹوارہ کردے اور اس نے یہ کام یقینا دل میں  مجھ سےجو کینہ ہے اس کی وجہ سے کیا ہے ۔ پھر اس نے کھیت  کے انبار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس انبار ميں کچھ لکڑیاں ہیں اور میں تم سے یہ چاہوں گا کہ میرے اور میرے بھائی کے کھیت کے درمیان  لکڑی کی دیوار کھینچ دو تاکہ میں اسے کبھی نہ دیکھ سکوں ۔ بڑھئی نے اس کی بات مان لی اور پھر لکڑی کا ناپ لینے اور اسے چیرنے کا کام شروع کردیا ۔ بڑا بھائی ان ہي دنوں خریداری کے لئے شہر گیا اور بڑھئی اکیلا رہ گیا ۔ جب وہ غروب کے وقت شہر سے گھر واپس آیا تو تعجب سے اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔ اس نے دیکھا کہ بڑھئی نے دیوار کے بجائے اس کے اور اس کے بھائی کے کھیت کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے ۔ اس شخص نے غصے سے بڑھئی کو دیکھا اور کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہيں کہا تھا کہ ہمارے لئے  دیوار اور حصار بناؤ ۔ اسی وقت اس کا چھوٹا بھائی کسی طرف سے آگیا اور اس پل دیکھ کر یہ سمجھا کہ اس کے بھائی نے یہ پل بنانے کو کہا ہے ۔ وہ پل پار کرکے  اپنے بڑے بھائی کے پاس آیا اور اس سے گلے لگ گیا اور پھر اس نے نہر کھودوانے پر بھائی سے معذرت کی ۔ کاش ہم بھی اس ماہ مبارک اور ماہ عزیز میں اس بڑھئی کی مانند، غمزدہ دلوں کے درمیان صلح و آشتی کا پل بنائیں ۔

پروگرام کے اس مرحلے میں گذشتہ پروگراموں کی طرح آج بھی حضرت امام سجاد علیہ السلام کی مناجات کے ایک حصے میں غورو فکر کرتے ہیں ۔

شکر، دین اسلام میں بہت زیادہ فضیلتوں کا حامل اور تمام اعمال ميں سے ایک افضل ترین عمل ہے ۔ شکرگذار بندہ ، ہمیشہ خداوند عالم کی نعمت کی یاد میں رہتا اور اس کی تعظیم کرتا ہے اور خداوند عالم کی عظمت کے مقابلے ميں حقارت اور نیازمندی کا اظہار کرتا ہے ۔ ایک شکر گذار انسان کے قلب سے، شکر کے سرچشمے اس  کی زبان پر جاری ہوتے ہيں اور وہ دل سے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرتا اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہتا ہے ۔ اور یہ رضامندی اور شکر، انسان کے قلب کو خدا کے شکر سے سرشار کرنے کے علاوہ ، اس کے کردار و عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ یعنی شکر گذار انسان، خداوند عالم کی تسبیح و تقدیس کرتاہے اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر کرتا ہے۔ خداوند عالم کی نعمتوں میں جو معنوی نعمتیں ہيں وہ دین اور ایمان ہیں ۔ فرزند رسول خدا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ، پندرہ مناجاتوں ميں سے چھٹی مناجات ، مناجات شاکرین کے ایک حصے میں فرماتے ہیں ۔ نعمت انوار ایمان ، ایسی زینتیں ہے کہ جن سے تونے ہمیں آراستہ کیا ہے اور تونے اپنے جود وکرم سے عزت کا تاج میرے سر پر رکھ دیا ہے اور تونے اپنی عطا و احسان کی خوبصورت مالا ، میری گردن میں ڈال دی ہے جو کبھی بھی کھل نہيں سکتی ۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی مناجات ميں ، لطیف و زیبا تشبیہات کے ساتھ انوار ایمان کو ایسے زیوروں سے تشبیہ دیتےہیں کہ جو انسان کی آراستگي کا باعث بنتی ہیں ۔ امام سجاد علیہ السلام ، خداوند عالم کےاحسان و کرم کو ایک تاج سے تعبیرکرتے ہیں جو انسان کے سر پر رکھا گیا ہے ۔ ان تعبیروں کو قرآن میں بھی بیان کیا گیا ہے جو حقائق اور ایمان کی باطنی صورت کی آئینہ دار ہیں ۔چنانچہ یتیم کا مال کھانے کی باطنی صورت ، یعنی آگ کا کھانا ہے ۔ اور یا غیبت کی باطنی صورت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے ۔ اسی طرح بہت سی ایسی روایتیں ہيں جو اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ بعض عمل، عالم برزخ ميں خوبصورت حالت میں یا بری اور وحشتناک حالت میں ظاہر ہوتے ہيں جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بارے میں فرماتے ہيں " نماز، سفید انسان کی صورت میں مرنے والے کی قبر میں داخل ہوتی ہے اور اس سے مانوس ہوتی ہے اور اس سے برزخ کی وحشت اور خوف کو برطرف کرتی ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام اس مناجات کے آخر میں فرماتے ہیں خدایا جس طرح سے تونے ہمیں اپنے لطف وکرم سے کھانا دیا اور اپنے احسان کے ذریعے ہماری پرورش کی ، تو ہمارے اوپر اپنی تمام نعمتیں کامل کردے ۔ اور جو برائیاں ہیں ان کو ہم سے دور کردے اور دونوں جہان کی بھلائیاں اور نیکیاں ہمیں عطا کر ۔ تمام حمد و ثناء تیرے ہی لئے ہے ہر بلا اور آزمائش میں ، اور ایسی شکر کی توفیق عطا کر جو تیری شایان شان ہو۔ اے عظیم ، اے کریم اور اے سب سے مہربان پروردگار ۔            

صفحہ 1 کا 60