پیر, 28 دسمبر 2015 11:00

سورۂ نمل؛ آيات93۔89 پروگرام نمبر 724

 

کلام نور ۔ 274

سورۀ نمل ۔ ١٨

آیات : ٨٩ ۔ ٩٣

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

بعد از حمد و درود و سلام یہ روح پرور گفتگو سورۀ نمل کی آیات نواسی اور نوے کی تشریح و توضیح سے شروع کر تے ہیں ۔ ارشاد رب العزت ہے :

مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آَمِنُونَ (89) وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (90)

( یعنی ) جو کوئی اچھے کاموں کے ساتھ آیا ( قیامت میں ) ہم اس کو ( اس کے انجام دئے گئے کام سے ) بہتر جزا دیں گے اور وہ لوگ اس دن کی گھبراہٹ ( اور خوف و وحشت ) سے امان میں ہوں گے ۔ سورۂ 27 (89:93) اور جو کوئی برے کاموں کے ساتھ آیا ( قیامت میں ) ہم اس کو منھ کے بھل آتش جہنم میں ڈال دیں گے اور اس وقت وه خود اپنے دل سے ) پوچھیں گے کیا تم کو جو کچھ تم کرتے رہے ہو ، اس سے الگ کوئی سزا دی جاری ہے ؟ سورۂ 27 (90:93)

اس سے قبل گفتگو دنیا کے خاتمے اور قیامت میں لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کے موضوع پر چل رہی تھی اب ان آیات میں الٰہی عدالت میں لوگوں کی حاضری اور پورے انصاف کے ساتھ لوگوں کے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا دئے جانے کا ذکر ہے کہ الٰہی علم حکمت خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمم انسانوں کو انھوں نے اچھے برے جو کام بھی انجام دئے ہیں اس کا حساب کتاب لیکر بدلا دیا جائے اور ہر شخص ذاتی طور پر اپنے اعمال کا جواب دہ ہو کیونکہ اللہ نے عقل و شعور دیا ہے اپنے عمل کا مالک و مختار یا صاحب اختیار اور وہ قرار دیا ہے چنانچہ ہر شخص اپنی راہ خود منتخب کرتا ہے اور اس بنیادی حقیقت سے بھی کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اس مادی دنیا میں انسانوں کو ان کے صرف بعض اعمال حصوں کی ہی جزا یا سزا مل سکتی مادی جاسکتی ہے ، یہ دنیا انسان کے تمام اعمال یا اعمال کے تمام گوشوں کی کامل جزا یا سزا کی گنجائش کی نہیں رکھتی ۔ اس کے برخلاف آخرت میں اس دنیا کی طرح زمانے اور جگہ کے لحاظ سے کوئی اور کسی طرح کی محدودیت نہیں پائی جاتی اس لئے وہاں ہر شخص کو خداوند عالم خود اس کے اعمال اور ان کے آثار و نتائج اور افادیت و ضرر کا پورا پورا جائزہ لیکر جزا و سزا دے گا اب جس نے اچھا کام کیا ہے اس اس کے کام سے بھی اچھی جزاء ملے گی البتہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آدمی نے یہ اچھا کام ، رہا اور تکبر و غیرہ کی مانند اعمال کو ضایع کردینے والے کسی محرک کے تحت تو انجام نہیں دیا ہے اور جس نے برا کام کیا ہے اس کو بھی عمل اور اس کے آثار و نتائج کے برابر سزا ملے گی کیونکہ خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔

اس کے بعد سورۀ نمل کی آیات اکیانوے اور بانوے میں خدا اپنے نبی کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتا ہے :

إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (91) وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآَنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ (92)

بیشک مجھے تو بس اس بات کا حکم ہے کہ میں اس شھر کے ( حقیقی ) پروردگار کی عبادت کروں کہ جس نے اس ( شہر ) کو محترم بنایا ہے اور ہر چیز کا وہی مالک ہے اور مجھے ( یہ بھی ) حکم ملا ہے کہ اس کے سامنے سرتسلیم خم رکھنے والا ( مسلمان ) رہوں ۔ سورۂ 27 (91:93) اور یہ کہ اس قرآن کی ( لوگوں کے درمیان ) تلاوت کرو ں ، پس جو کوئی ہدایت پالے اس کے خود اپنے فائدے میں ہے اور جو کوئی گمراہ ہوجائے ( اس نے گویا خود اپنا نقصان کیا ہے ) پس ( اے نبی ! ) کہدیجئے میں تو بس خبردار کرنے والوں میں سے ہوں۔ سورۂ 27 (92:93)

یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت بھی کہ جس پر سورۀ نمل کا اختتام ہوا ہے گویا مشرکین مکہ کے ساتھ رحمت للعالمین کی آخری گفتگو کا خصہ ہے کہ اگر تم لوگ بت پرستی سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہو تو یاد رکھو میں نے الٰہی آیات کی پیغام رسانی یعنی تبلیغ و ہدایت اور ہوشیار و خبردار کرنے کی ذمہ داری پوری کردی اور دنیا الٰہی فریضہ بہترین طور پر انجام دیدیا ہے ایسا یہ تمہارا کام ہے کہ اپنے انتخاب اور فیصلے کے تحت جواره چاہو اپناؤ خدا کی بات مانو اور راہ ہدایت و آگہی اختیار کرلو یا حق کے خلاف اپنی ضد اور کینہ و دشمنی پر اڑے رہو اور اپنی تباہی و نابودی کے اسباب فراہم کرو ، ظاہر ہے راہ کا انتخاب جب تمہارے ہاتھ میں ہے تو اس کے آثار و نتائج فائدے اور نقصانات کے بھی تم ہی ذمہ دار ہوگے نہ تمہارے ایمان لانے اور راہ اسلام اختیار کرنے کا کوئی فائدہ مجھے حاصل ہوگا اور نہ ہی کفر و شرک پر برقرار رہ کر تم لوگ میرا کوئی نقصان کرسکتے ہو اللہ نے مجھ کو جو ذمہ داروی سونپی تھی میں نے بحسن و خوبی انجام دیدی میں اپنے ہر عمل میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں اور ایمان و عقیدے کے ساتھ اپنے ایک اور اکیلے معبود کے سامنے سراپا تسلیم ہوں گے اگر چہ تم نے خانہ کعبہ میں لکڑی اور پتھر وغیرہ کے بہت بت تراش کر طاقوں کی زینت بنادئے ہیں اور تم لوگ ان کی عبادت و پرستش کرتے ہو لیکن میں اللہ کا نمائندہ ہوں اور جانتا ہو ں کہ وہی اس پوری کائنات منجملہ اس شھر مکہ کا بھی پروردگار ہے اور اس گھر خانہ کعبہ کا بھی وہی مالک و مختار ہے لہٰذا مجھے حکم ملا ہے کہ میں اسی کی عبادت کرتا رہوں اور سرا پا تسلیم رہوں وہ صرف اس گھر کا نہیں بلکہ پورے عالم ہستی اور جہان وجود کا مالک و مختار ہے ۔

ان آیات میں نبی اکرم(ص) کی دو مختلف ذمہ داریوں کی طرف اشارہ ہے ایک کا خود ان کی ذات سے تعلق ہے کہ ان کہ دوسروں کی پروا کئے بغیر خود خدا کی عبادت و پرستش اور الٰہی احکام کی پابندی کرلی اور دوسری ذمہ داری الٰہی پیغام رسانی یعنی تلاوت قرآن اور بشارت و انذار کی ہے کہ دوسروں کو راہ حق کی دعوت دیدی البتہ لوگ پیروی کریں یا نہ کریں آپ اپنا کام کرتے رہیں گویا الٰہی رسالت دنیوی حکومت و بادشاہت سے الگ ہے دنیا کے حکمراں صرف حکم دیتے ہیں اور لوگ حکم کے پابند ہیں خود وہ پابندی کریں نہ کریں آزاد ہیں لیکن خا کے رسول جس بات کا حکم دیتے ہیں خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں بلکہ اس میں پیش قدم ہوتے ہیں تا کہ عملی طور پر بھی وہ لوگوں کے لئے اسوہ اور نمونه عمل قرار پائیں ۔

اور اب سورۀ نمل کی آخری آیت ، ارشاد ہوتا ہے :

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آَيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (93)

اور ( اے پیغمبر ! ) کہدیجئے تمام تعریفیں اور ستائشیں خدا سے مخصوص ہیں وہ عنقریب ہی اپنی نشانیاں آپ کو دکھائے گا تو آپ پہچان لیں گے ۔ اور آپ کا پروردگار جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس سے بے خبر نہیں ہے ۔ سورۂ 27 (93:93)

سورے کے اختتام حمد و شکر الٰہی کی تلقین پر ہوا ہے اور خدائے عظیم نے اپنی نبی کریم کو متوجہ کیا ہے کہ قرآنی حکیم جیسی عظیم نعمت ملنے پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے کیونکہ یہ قرآن خدا کی طرف بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے سرچشمہ ہے اور اے پیغمبر عالم بشریت کے لئے یہ بھی حمد و شکر کا مقام ہے کہ ہم نے اس قرآن کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کے جیسے معلم اور ہادی کا انتخاب کیا ہے جو کسی شفیق ہمدرد اتنی کی طرح ہر انسان کو سعادت و کمال کی منزولں پر فائز کردینے کے لئے بے چین رہتا ہے ۔ اس کے بعد خدا فرماتا ہے کہ عنقریب ہی ہم انہی علم و حکمت اور قوت و قدرت کی ایسی بے شمار نشانیاں دکھائیں گے کہ آپ ان کو جان اور پہچان لیں گے ۔ البتہ شناخت و معرفت کے درجے ہیں ہر شخص کا نقطہ نگاہ اور دیکھنے کی نوعیت و کیفیت اور جیسی نہیں ہوتی ۔ ایک ڈاکٹر آپریشن روم میں جس وقت جگر کو چیرتا اور کاٹتا پیٹتا ہے اور طلبہ کے درمیان اس کے اجزاء کی تشریح و تفسیر بیان کرتا ہے اس کا زاویہ نگاہ اس قصاب سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو دوکان میں بیٹھکر جگر کو چیرتا اور اس کو بوٹیاں بناتا ہے کہ اس سے کباب تیار کیا جائے اگر چہ بظاہر دونوں کا کام ایک جیسا نظر آتا ہے ۔ اگر نظام ہستی کو ہم مخلوق تصور کریں تو جو کچھ بھی دیکھیں گے ہر چیز میں خالق کائنات کی نشانی نظر آئے گی ۔ اور اگر اس پوری کائنات کو ہدف و مقصد سے عاری فطرت کی خود روکار ستانی خیال کریں گے اور خالق کائنات کی شناخت و معرفت سے غافل و بے بہرہ رہ جائیں گے چنانچہ خدا کی طرف سے غفلت یا خدا کی شناخت و معرفت انسانی فکر و رفتار میں بہت زیادہ موثر ہوتی ہے ۔

معلوم ہوا :

۔ اچھے کاموں کی انجام دہی کے ساتھ ، اس سے بھی زیادہ اہم کام یہی ہے کہ اس عمل کو ، ریاکاری ، غرور و افتخار اور گناہ معصیت سے محفوظ رکھتے ہوئے خلوص دل کے ساتھ انجام دیا جائے کیونکہ یہ چیزیں اچھے کاموں کو بھی ضایع کردیتی ہیں اور آخرت میں ان کا کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا ۔

۔ انسان جو بھی اچھے اور پسندیدہ کام کرتا ہے اللہ کی جانب سے اس کا اجر یا بدلا اس عمل کی نسبت اضافی کے ساتھ بہتر اور اچھا دیا جاتا ہے لیکن سزائیں خدا کی طرف سے کام کے مطابق ملتی ہیں اور یہ اللہ کا اپنے بندوں پر بہت بڑا لطف ہے اور اس کے انصاف کی نشانی ہے ۔

۔ خدا کے انبیاء جس وہی کرتی ہیں کہ جس کا خدا حکم دیتا ہے وہ خود سرانہ طور پر نہ کچھ کہتے نہ کرتے نہ معجزے دکھاتے اور ان کو اللہ نے اسی لئے معصوم کیا ہے کہ وہ گناہ معصیت سے پاک و مبرا ہیں ۔

۔ انبیاء و ائمہ علیہم السلام اور اسی طر ح دینی مبلغین اور رہنمائوں کا فریضہ ہے کہ وہ الٰہی آیات کی تلاوت کریں یعنی دینی احکام و تعلیمات ، بشارت دینے یا ہوشیار و خبردار کرنے کے انداز میں ؟؟؟ تک پہنچادیں ، عوام مانتے ہیں یا نہیں مانتے ، ایمان لاتے ہیں کفر پر باقی رہتے ہیں یا خود ان کی ذمہ داری ہے کسی سے زبردستی کوئی بات منوا نے کی اسلام نے اجازت نہیں دی ہے ۔

۔ انسانوں نے ہمیشہ یاد و ذکر خدا کی طرف سے غفلت برتی ہے اور انحراف کا شکار ہوئے ہیں اسی لئے ہر دور میں ہر جگہ خدا نے نبیوں اور ان کے وصیوں کو بھیج کر انسانوں کی ہدایت کا انتظام کیا ہے ۔

۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیم و آلہ و سلم کی آمد ، بعثت اور قرآن کا نزول اللہ کی وہ عظیم نعمت ہے کہ جس کا عالم بشریت کو ہمیشہ شکر ادا کرتے رہتا چاہئیے خدا کی حمد و ستائش شکر انہ کا ہی ایک طریقہ ہے ۔

۔ اب تک ہم نے جتنی الٰہی آیات دیکھی سنی اور سمجھی ہیں وہ الٰہی آیات کا محض ایک حصہ ہیں ، انسانی علوم کی ترقی الٰہی آیات کے مزید انکشافات کا ذریعہ اور عالم ہستی کے بارے میں حدا کی عظمت و قدرت کے مزید آشکار ا ہونے وسیلہ ہیں اسی لئے علم و تحقیق پر اسلام و قرآن نے بہت زیادہ زور دیا ہے ۔

۔ مہلت کو اللہ کی بے خبری تصور نہیں کرنا چاہئیے ، وہ سب کو دیکھ رہا ہے اور نگران و نگہبان ہے اور اس کی ربوبیت کی یہی شان ہے ۔

خدا کا شکر ہے کہ سورۀ نمل کی تفسیر اپنے اتمام کو پہنچی اور قرآن حکیم کے بیس پاروں کی تفسیر حسب استطاعت پوری ہوگئی آئندہ ملاقات میں ہم انشاء اللہ سورئہ قصص کی تفسیر شروع کردیں گے ۔ آپ حضرات سے دعا اور مشورے کے خواہاں ہیں ۔

Add comment


Security code
Refresh