پیر, 24 اگست 2015 22:22

پاکستان: دہشت گردی کے واقعات میں ستّر فیصد کمی

پاکستان: دہشت گردی کے واقعات میں ستّر فیصد کمی

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں ستّر فیصد کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے پیر کے دن کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک مربوط پالیسی فریم ورک ہے جس پر گزشتہ آٹھ ماہ سے کام ہو رہا ہے، سیکورٹی امور پر ایک ایک اینٹ اکٹھی کر کے پالیسی فریم ورک تیار کیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے ملک کی سیکورٹی میں بڑی تیزی سے بہتری آئی ہے۔ چودھری نثار علی خان نے نیشنل ایکشن پلان کو پاکستان کی سیکورٹی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں ستّر فیصد کمی ہوئی ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ چودھری نثار علی کا کہنا تھا کہ جون دو ہزار تیرہ کے اخبارات کے مطابق روزانہ چار سے پانچ دھماکے ہوتے تھے۔ کوئٹہ کے حالات گھمبیر تھے لیکن اب مہینے گزر جاتے ہیں اور ملک بھر میں سکون رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار پانچ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پُر امن سال تھا۔ دو ہزار چھ میں دہشت گردی کے ایک ہزار چار سو چوالیس واقعات ہوئے۔ دو ہزار دس میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ دہشت گردی ہوئی۔ اس سال پورے ملک میں دہشت گردی کے دو ہزار اکسٹھ واقعات ہوئے۔ دو ہزار چودہ میں ایک ہزار چالیس جبکہ رواں سال میں دہشت گردی کے صرف تین سو پینتالیس واقعات ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقریروں کے خاتمے کے لئے سخت کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے صوبہ بلوچستان کے حالات میں بہتری آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تبدیلی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے جس کی تفصیلات وہ ابھی نہیں بتا سکتے۔

Add comment


Security code
Refresh