ایران
بدھ, 24 ستمبر 2014 11:07

آج کا ایران

٭ - قائد انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے آئین کی دفعہ 110  کی پہلی شق کے نفاذ کے تحت سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی کا نوٹفكیشن جاری کیا ہے جو مصلحت نظام کونسل  سے مشورہ کے بعد معین کی گئی ہے۔ اس نوٹفكیشن میں آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سن 2025 کے آخر تک ریسرچ و تحقیق سے متعلق بجٹ کو ملک کی داخلی مصنوعات کے کم سے کم چار فیصد تک بڑھانے پر زور دیا ہے۔ دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی میں اہم مقام حاصل کرنے کے مقصد سے مسلسل سائنسی و علمی تحقیقات، سائنس کے میدان میں ترقی،  تخلیقی شعبے میں پیشرفت، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کے مقام کو بلند کرنے اور اسے عالم اسلام میں سائنس و ٹیکنالوجی کا قطب بنانے جیسی باتوں کی سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی میں پیشنگوئی کی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی بازاروں کی توانائیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران میں مصنوعات کی پیداوار اور ڈيزائنگ کی ٹیکنالوجی کا حصول، بیرون ملک رہ رہے ایرانی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور دیگر ممالک خاص کر عالم اسلام کے اہم محققین و ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور ایران کو سائنسی مقالے کے رجسٹریشن کے مرکز میں تبدیل کرنا، سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی پالیسی میں مذکور اہم نکات ہیں۔

٭ - یہ ہفتہ آٹھ سالہ مقدس دفاع سے منسوب ہے ۔ 31 شہریور 1359 ہجری شمسی مطابق 22 ستمبر 1980 میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خلاف سازشوں کے تسلسل میں، عراق نے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت سے ایران کے خلاف حملہ کردیا ۔ 34 سال قبل صدام حکومت نے، امریکہ کے ہری جھنڈی دکھانے کے ساتھ ایران پر حملہ شروع کردیا اور بڑے پیمانے پر مالی اور اسلحہ جاتی امداد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت سے آٹھ سال تک جنگ اور جارحیت کا سلسلسہ جاری رکھا اور اس دوران بہت زيادہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ۔تسلط پسندانہ نظام نے، اسلامی جمہوریۂ ایرا ن کے نظام حکومت کو اکھاڑ پھنکنےکے لئے، مسلط کردہ جنگ کا مذموم نقشہ تیار کیا اور اس پر عملدر آمد بھی کیا اور صدام کو ایران پر حملے کے لئے واسطہ قرار دیا. مسلط کردہ جنگ کے پس پردہ امریکہ، اپنی فوجی حکمت عملی کی بنیاد پر ایران کا اقتصادی محاصرہ کرنے اور علاقے میں اپنی پٹھو حکومتوں کے توسط سے بین الاقوامی سطح پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے، ملت ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ لیکن آج امریکہ کو ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ اس کے یہ اقدامات ایران کو تسلیم یا مرعوب نہيں کرسکتےہیں۔ اس وقت دفاعی قوت واقتدار کے لحاظ سے ایران علاقے میں فوجی توازن برقرار کرنے اور علاقے میں سلامتی کے قیام میں ایک اہم پوزیشن کا حامل ہے۔ اور اس سلسلے ميں ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ تمام شعبوں، خواہ وہ فوجی مقابلہ ہو یا سفارتی جنگ اور یا پھر اقتصادی بائیکاٹ ہو، سب میں مزاحمت کی ثقافت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ جنگ میں ملت ایران کی کامیابی اور مزاحمت کی تاریخ، یادگار اور پرافتخار ایام سے سرشار ہے ۔ ہفتۂ دفاع مقدس کے ایام، مسلط کردہ جنگ کے حقا‏ئق کی یاد آوری اور ساتھ ہی ملت ایران کے دشمنوں کے لئے اس پیغام کے حامل ہیں کہ وہ جان لیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران، دشمنوں کے فوجی آپشن کے مقابلے ميں، جارح عناصر کو منھ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔

٭ - ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز گذشتہ ہفتے سے ہوا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے سیاسی حکام  کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مختلف مسائل میں اختلافات موجود ہیں، لیکن مذاکرات کا ماحول تعمیری اور مثبت ہے اور دونوں فریق ضروری عزم و ارادے اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اتوار کو نیویارک میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ فریقین کے درمیان موجودہ اختلافات کم نہيں ہیں اور تمام وفود ان اختلافات کو کم کرنے کے درپے ہيں ۔ محمد جواد ظریف نے جان کیری سے ملاقات کےبعد نیویارک میں ہمارے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا کہ امریکی وفود سے بھی ملاقاتیں انجام پائی ہیں ۔ انہوں نے جان کیری کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے نائب وزراء خارجہ کی ملاقات کا تسلسل ہے لیکن دونوں ملکوں کی وزراء خارجہ کی سطح پر مذکرات ہوئے ہیں ۔

٭ - عراقی کردستان کے شہروں رانیہ اور قلعہ دیزہ کے کمشنروں پر مشتمل پر ایک وفد ہفتے کے روز ایران کے مغربی آذر بائیجان کے صوبے سردشت پہنچا جہاں اس شہر کے کمشنرنے ان کا خیر مقدم کیا۔ رانیہ کے کمشنر ھیوا قرنی نے سردشت میں داخل ہوتے وقت ارنا کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اس عراقی وفد کے دورۂ ایران کا مقصد، سردشت کی کیلہ سرحد کو سرکاری حیثیت دینے کے لئے مغربی آذربائیجان کے حکام سے ملاقات اور گفتگو انجام دینا اور اس علاقے سے تجارتی لین دین کرنا نیز عراقی کردستان کے عوام کی حمایت کرنے کے سبب ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرنا ہے۔رانیہ کے کمشنر نے کہا کہ سردشت کی کیلہ سرحد کو سرکاری حیثیت دینے کے لئے حکومت عراق کی موافقت  اور عراقی کرستان کے علاقے کے نائب سربراہ کی تاکید کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک اس سرحد کوسرکاری حیثیت حاصل ہوجائے گی۔کیلہ سرحد، سردشت سے 17 کیلو میٹرکے فاصلے پر ہے جبکہ کردستان کے شہروں رانیہ اور قلعہ دیزہ سے نزدیک ہے۔

٭ - ایرانی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ڈپٹی سکریٹری نے ناروے میں ایران کے بعض طلباء کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کاظم غریب آبادی نے ناروے میں بعض ایرانی طلباء کے خلاف عائد پابندیوں کے بارے میں کہا کہ مخصوص کورس کی تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لئے سخت اقدامات انجام دینا، اور ان کے ریزیڈینس پرمٹ کی مدت بڑھائے نہ جانےاور طلباء کے داخلے کی ممانعت سے، اس ملک کو سخت نقصان پہنچے گا۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی طلباء کے خلاف پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مسئلے کا ، ایران کی وزارت خارجہ اور وزارت سائنس و ٹکنالوجی، یونسکو کے ذریعے سے جائزہ لے رہی ہے۔ اس سال کے اوائل میں ناروے کی نیشنل سیکورٹی پولیس نے اس ملک سے 64  ایرانی طلباء کو نکالنے خبر دی ہے۔

٭ - ایران کے وزیر صحت حسن قاضی زادہ ہاشمی نے گذشتہ جعمرات کو تہران کے بقیۃاللہ ہسپتال جاکر ان تین فلسطینی زخمیوں کی عیادت کی جو  گذشتہ دنوں غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں زخمی ہوگئے تھے. انہوں نے غزہ کے مظلوم اور شجاع عوام کی امداد اوران کے علاج معالجے کے اقدامات پر اطمئنان کا اظہار کیا۔ ایران کے وزیر صحت نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران اس کے بعد سے ان ملکوں کی مساعدت اور کمک سے کہ جو غزہ کی گذرگاہوں کو کھولنے کی توانائی رکھتے ہیں، غزہ کے زخمیوں کو امداد پہنچانے اور ان کے بہتر علاج کے لئے مزيد کوششیں انجام دے گا۔ واضح رہے کہ غزہ کے تین زخمیوں کو علاج کے لئے بدھ کی رات تہران منتقل کیا گیا ہے۔ غزہ پر اسرائیل کےحالیہ 50  روزہ حملوں میں دو ہزار ایک سو پچاس فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

٭ - ایران کی والیبال کی ٹیم نے پولینڈ میں کھیلےجارہے والیبال کے عالمی مقابلوں میں چھٹا مقام حاصل کیا۔ ایران کی والیبال کی ٹیم نے، ہفتے کے روز پولینڈ کے شہرغوچ ميں، پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے لئے روس کے ساتھ مقابلے میں تین – صفر سے شکست حاصل کی۔ 

دوسری جانب ایران نے، جنوبی کوریا کے "اینچیون" شہرمیں کھیلے جارہے 2014 کے سترہویں ایشیائی کھیلوں میں 276 کھلاڑیوں پر مشتمل ایک گروپ کے ساتھ شرکت کی ہے ۔ ان کھیلوں میں جو 19 ستمبر سے چار اکتوبر تک کھیلے جائیں گے، 25 ملکوں کے دس ہزار کھلاڑی مختلف کھیلوں میں شرکت کررہے ہیں۔ ایران، گذشتہ ایشیائی کھیلوں میں جو چین کے "گیونگ جو" میں کھیلے گئے تھے، 20 سونے کے اور 15 چاندی اور 24 کانسے کےتمغے حاصل کرکے چوتھے نمبر پر تھا۔ 

٭ - اور اب اس مرحلے میں ایران اور گروپ جمع ایک کے درمیان جاری مذاکرات کے مزید احوال۔

جینوا میں بیس جولائی کو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری مذاکرات کی مدت چوبیس نومبر تک بڑھائے جانے کے بعد اب ایک بار پھر یہ مذاکرات نیویارک میں شروع ہوگئے ہيں لیکن اس بار یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہورہے ہيں تاکہ حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے ۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ کے مذاکرات بدھ کے روز سے اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھیرین اشٹین کی سربراہی میں شروع ہوئے، جو ماہرین کی سطح پر جاری ہیں۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے حکام کے مذاکرات جمعے کے روز نیویارک میں انجام پائے۔ ساتویں دور کے یہ مذاکرات ایک جامع سمجھوتے تک رسائی کےلئے مشترکہ اقدام کے دائرے میں انجام پارہے ہیں ۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں ایٹمی معاملے میں کسی راہ حل تک پہنچنے کے لیے ایران کی نیک نیتی اور پختہ ارادے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایران، حتمی معاہدہ ہونے کے بارے میں پرامید ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے نیویارک کے خارجہ تعلقات کونسل کے ادارے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہدف و مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا ہے، تو اس مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکی حکومت پابندیوں کی بحث میں غرق ہو چکی ہے اور امریکی کانگریس پابندیوں کو باقی رکھنے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب ان مذاکرات کے موقع پرجوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل نے گذشتہ ہفتے ویانا میں ایک بیان میں، ایران کے ساتھ اتفاق رائے سے متعلق انجام پانے والے اقدامات کی پیشرفت پر اظہار رضا مندی کیا اور کہا کہ آئی اے ای اے، ایران کے ساتھ گفتگو اور تعاون کے ذریعے تمام گذشتہ اور موجودہ مسائل کے حل کا پابند ہے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے بھی آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل کے ساتھ حال ہی میں تہران میں ہونے والی ملاقات میں کہا کہ حکومت ایران کو ترقی و پیشرفت کی راہ میں نئی ٹکنالوجیز منجملہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کی ضرورت ہے اور ملت ایران کے فیصلےاورمجلس شورائے اسلامی کے نظریے کے مطابق ، بجلی، صنعت ، طب اور زراعت کے شعبوں میں پرامن ٹکنالوجی سے استفادہ ایک لازمی اور مسلمہ امر ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے آمانو سے درخواست کی کہ وہ ایران کے ساتھ  ایجنسی کے تعاون اور مذاکرات میں قدم بہ قدم پیشرفت کے عمل سے متعلق رپورٹیں منظر عام پر لائیں ۔ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان بات چیت، درحقیقت مشترکہ اقدام کے دائرے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی سمجھوتے کا ایک حصہ ہے۔

 

 

بدھ, 03 ستمبر 2014 13:00

آج کا ایران

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ بدھ کو ہفتۂ حکومت کی مناسبت سے صدر جمہوریہ ڈاکٹر حسن روحانی اورکابینہ کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں شہید رجائی اور شہید باہنر کی یادتازہ کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا  اور اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول اور انقلابی جذبے اور انقلابی سمت و سو کو ان دو شہیدوں کی اہم خصوصیات قراردیتے ہوئے اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہم سب کو اسلامی نظام کے حکام ہونے کے لحاظ سے انقلابی جذبے اور سمت و سو کی ہمیشہ حفاظت کرنی چاہیے اور مقصد بھی اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ آٹھ شہریور مطابق تیس اگست 1981 کو اس وقت کے صدر اور وزیر اعظم محمد علی رجائی اور محمد جواد باہنر، کابینہ کے بعض اراکین کے ہمراہ تہران میں وزیراعظم کے دفتر میں ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیئے گئے تھے۔ یہ دہشت گردانہ کاروائی ایران کے اسلامی انقلاب کے دشمنوں کی سازشوں سے دہشت گرد گروہ منافقین کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے صدر جمہوریہ اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گذشتہ ایک برس میں علاقائي اور عالمی مسائل کے تعلق سے حکومت کے صریح اور ٹھوس مواقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے بارے میں شفاف اور صریحی مواقف قوموں کے نزدیک اسلامی جمہوری نظام کی حیثیت اور اسکی اسٹراٹیجی کا تحفظ کریں گے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز ایک پریس نیوز میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران ہمیشہ سے علاقے اور دنیا میں دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا آرہا ہےکہا کہ تہران ، دنیا کے ہر خطے ميں انجام پانے والے قتل و دہشت گردی کا مخالف ہے اور اسلامی جمہوریۂ ایران عراق، شام ، لبنان میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مدد کریگا۔ اسلامی جہموریۂ ایران کے صدر نے علاقے میں داعش سے مقابلے کے لئے امریکہ کے ساتھ ایران کے تعاون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ  جو بھی ملک دہشت گردی سے مقابلہ کرے ہم اس کے ساتھ ہیں لیکن دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے، امریکہ کے ساتھ تعاون کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ کیوں کہ امریکہ دہشت گردی سےمقابلے میں سنجیدہ نظر نہيں آتا ہے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ گذشتہ ہفتے ماسکو کے دورے پرگئےاور انہوں نے روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں شام و عراق اور گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات جیسے مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعے کے روز ماسکو میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف مہم میں ایران اور روس کے نظریات میں یکسوئی پائی جاتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام اور عراق میں عوام کے خلاف انتہا پسند گروہوں کی جانب سے جرائم کے ارتکاب کے، یورپ و امریکہ میں بھی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، کہا کہ اس قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں ایران اور روس، اہم کرداکر ادا کرسکتے ہیں۔اس موقع پر روس کے وزیر خارجہ لاوروف نے بھی ایران کے ساتھ اپنے ملک کے تجارتی روابط کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ روس، باہمی تعاون کے فروغ اور دونوں کے ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں توسیع کو خاص اہمیت دیتا ہے ۔ لاوروف نے کہا کہ ماسکو، انصاف کی بنیاد پر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جانے کا خواہاں ہے۔ انھوں نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق ایران کا حق، باضابطہ طور پر تسلیم کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ ایران کے وزیر خارجہ، روس کے دورے سے قبل رجب طیب اردوغان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ترکی کے دارالحکومت انقرہ گئے۔  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کئي یورپی ملکوں کے دورے پر پیر کی صبح برسلز کے لئے روانہ ہوئے۔ وزیر خارجہ کے ہمراہ ان کے معاون سید عباس عراقچی اور مجید تخت روانچی بھی ہیں۔ وزیر خارجہ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں برسلز میں بلجیم کے حکام سے ملاقات کرنے کے علاوہ یورپی یونین کے شعبۂ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ایران کے ایٹمی معاملے کے تعلق سے، مجوزہ جامع حل کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ محمد جواد ظریف بلجیم کے بعد لگزامبرگ جائيں گے اور بدھ کو اٹلی پہنچيں گے۔  وہ بدہ کو روم میں  اپنے اطالوی ہم منصب فدریکا موگرینی اور اس ملک کے دیگر حکام سے بھی ملاقات کریں گے یہ دورہ اٹلی کے وزیر خارجہ کی دعوت پر انجام پارہا ہے۔ یہ ڈاکٹر ظریف کادوسرا دورۂ روم ہے۔

*امریکہ کی وزارت خزانہ نے ایٹمی اور میزائیلی پابندیوں کی خلاف ورزی کے بہانے، ایران کی بعض کمپنیوں اور اداروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے ۔

*ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل حسن فیروزآبادی نے ہفتے کے روز فارس نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں ایران کی فضائی حدود میں اسرائیلی ڈرون  طیارے کی حالیہ یلغار اور اسے ایران کے مرکز نطنز کے اطراف میں مار گرائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی حملہ آور طیارہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ  گذشتہ اتوار کو پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ اس نے جوہری تنصیبات نطنز کی جانب پرواز کر رہے ایک اسرائیلی جاسوسی طیارے کو مار گرایا ہے۔ بریگیڈیر فرزاد اسماعیلی نے بھی اسرائیلی ڈرون مارے جانے کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ 24 اگست کو نطنز کے اطراف میں مارا جانے والا اسرائیلی ڈرون طیارہ تین ہزار 700 میٹر کی بلندی پر پرواز کررہا تھا۔

*ایران کے نائب وزیر خارجہ ابراہیم رحیم پور نے جو  بحیرۂ خزر کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے گذشتہ ہفتے ماسکو گئے تھے کہا ہے کہ روس کے شہر آسترا خان ميں بحیرۂ خزر کے ساحلی ملکوں کے آئندہ سربراہی اجلاس کے سمجھوتے کی اہم دستاویز کا حصہ حتمی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر 29 ستمبر 2014 کو روس کے شہر آستارا خان کا دورہ کریں گے تاکہ بحیرۂ خزر کے ساحلی ملکوں کے اجلاس میں شرکت کریں ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران ، روس، قزاقستان، جمہوریۂ آذربائیجان، اور ترکمنستان، بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا کہ امريکي وزرات خزانہ نے، ايران کي مزيد متعدد  کمپنيوں اورمالي اداروں پر ايٹمي اور ميزائيلي  پابنديوں کي خلاف ورزي کے بہانے نئي پابندياں عائد کردي ہيں ۔امريکي وزارت خزانہ کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ بيس کمپنيوں اور مالي اداروں کےساتھ ساتھ جن ميں ايران کے آئيل ٹينکر کي کمپنياں بھي شامل ہيں آٹھ ايراني شخصيات پر بھي پابندياں عائد کردي گئي ہيں۔ امريکي وزارت خزانہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ امريکي منڈيوں ميں سرگرم کمپنيوں کو ايران کي ان کمپنيوں اور افراد سے کسي بھي طرح کا معاملہ کرنے کا حق نہيں ہوگا ۔

 ايران کي مالي اور تجارتي کمپنيوں اور شخصيات پر پابنديوں کے ساتھ ساتھ ترکي،  متحدہ عرب امارات،اٹلي اور تھائيلينڈ کي بھي متعدد  کمپنيوں پر ايران کے ساتھ تعاون کے الزام کي بناپر پابندياں عائدکردي گئي ہيں ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کو جنیوا اقدام کے منافی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کی کچہ شخصیتوں، کمپنیوں اور مالی اداروں کے خلاف امریکہ کی نئي پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  یہ اقدام ، ایران کے ایٹمی مسئلےکے حل کےلئے موجودہ عمل کے پوری طرح منافی ہے۔ مرضیہ افخم نے مزيد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، امریکہ کی جانب سے جنیوا معاہدے کی یک طرفہ ، ناقابل قبول اور من مانی تشریح کو مسترد کرتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اعلان کی جانے والی پابندیاں جنیوا معاہدے کی بنیاد پر امریکی وعدوں کے بر خلاف ہیں۔مرضیہ افخم نے کہا کہ ایسے عالم میں جب ایران، جنیوا معاہدے کی بنیاد پر بحالی اعتماد کے اقدامات انجام دے چکا ہے جس کا ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ میں بھی ذکرکیاجاچکا ہے تو تہران کو بھی توقع ہے کہ امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک کے دوسرے اراکین عملی میدان میں بھی اپنے معاہدے پرعمل کریں۔ ایران کے خلاف یہ نئي پابندیاں ایسے عالم ميں عائد کی گئی ہیں کہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ ستمبر ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے سالانہ اجلاس سے قبل مذاکرات انجام دینے والے ہیں۔ واضح رہے کہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ نے گذشتہ برس نومبر ميں ايک ابتدائي سمجھوتہ کيا تھا کہ جس ميں کہا گيا تھا کہ پابندياں نرم کئے جانے کے عوض ايران بھي اپني کچھ ايٹمي سرگرميوں کو معطل کردے گا ۔ اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹرحسن روحاني نے سنيچر کو   تہران ميں منعقدہ ايک تقريب ميں کہا ہے ، پابندي، ظلم اور جارحيت ہے اور ہميں اس ظلم اور جارحيت کو روکنا اور ظالموں کو ان کے ظلم کا جواب دينا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہميں اس بات کي اجازت نہيں ديني چاہئے کہ يہ پابندياں اسي طرح ايراني عوام پر مسلط رہيں اور ان کي بار بار تکرار ہوتي رہے ۔

 اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے اتوار کے روز تہران میں فنلینڈی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مذاکرات میں ایران، دونوں فریقوں کی کامیابی کا خواہاں ہے اور ایران کی حکومت، اس سلسلے میں جتنا ہوسکتا ہے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر، ایران پر زبردستی کا دباؤ ڈالنے سے گریز اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا گیا تو مذاکرات کا نتیجہ حتمی سمجھوتے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایران نے جوہری سرگرمیوں میں کبھی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور وہ جوہری مسئلے میں بین لاقوامی قوانین و اصول کے مطابق اقدامات عمل میں لائے جانے کا خواہاں ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ ان پابندیوں سے ایران اور یورپی یونین سمیت سب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انھوں نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات، مذاکرات کے عمل میں دشواری کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

بدھ, 27 اگست 2014 18:55

آج کا ایران

اس ہفتے اتوار کے روز سےایران میں ہفتۂ حکومت منایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ 24 اگست 2014 کی تاریخ، اسلامی جمہوریۂ ایران میں ہفتۂ حکومت کے آغازسے موسوم کی گئی ہے۔ ایران کے سابق صدرمحمدعلی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر، 1981 میں وزیر اعظم کے دفتر میں دہشت گرد گروہ منافقین کی ایک دہشت گردانہ کاروائی میں شہید ہوگئے تھے ۔ اسی مناسبت سے 24 سے 30 اگست کے ایام کو ایران میں ہفتۂ حکومت کا نام دیا گيا ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی کابینہ نے ہفتۂ حکومت کے آغاز کے موقع پر بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے مرقد مطہر پر حاضری دے کر فاتحہ پڑھی اور ان کے اھداف و مقاصد پر قائم رہنے کا عھد کیا۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ ہم آگے چل کر پیش کریں گے۔

*ایران میں نطنز ایٹمی تنصیبات کے قریب صہیونی حکومت کے جاسوسی طیارے کو مار گرائے جانے کی خبر ایران کی اس ہفتے کی سب کی سب سے اہم خبر ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ کے دفتر نے ایک بیان میں، جو اتوار کو شائع ہوا، اعلان کیا ہے کہ تباہ کیا جانے والا ڈرون طیارہ راڈار پر دکھائی نہ دینے والا طیارہ تھاجو نطنز کے ایٹمی علاقے کی حدود میں نفوذ کرنا چاہتا تھا تاہم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم کے ذریعے اس ڈرون کی شناخت کرکے اسے مار گرایاگیا۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان میں صراحت سے کہا گيا ہے کہ سپاہ پاسداران، اسلامی جمہوریۂ ایران کی دیگر مسلح افواج کے ساتھ ایران کے دفاع کے لئے ہرطرح کی مکمل آمادگي رکھتی ہے اور اس قسم کے اقدامات کا دنداں شکن جواب دے گی۔  

*گذشتہ ہفتے ایران کی خبروں میں سے ایک ہے کہ ایران کے وزیر سائنس و ٹکنالوجی رضافرجی دانا کو پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کا ووٹ دیا ہے ۔ رضا فرجی دانا کا، بدھ کے روز ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں مواخذہ ہوا اور وہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اکثریت سے ووٹ حاصل نہيں کرسکے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے محمد علی نجفی کو ایران کی سائنس و ٹکنالوجی کی وزرات کا سرپرست متعین کیا ہے۔

*ہفتۂ حکومت اور  یوم دفاعی صنعت کی مناسبت سے صدر جمہوریۂ کی موجودگي میں چار نئی دفاعی مصنوعات کی رونمائی ہوئی۔ دفاعی مصنوعات میں قدیر اور نصر بصیر نامی دو بحری کروز میزائیل، اور کرّار چار اور مہاجر چار نامی دو ڈرون طیاروں کی رونمائی شامل ہے۔ قدیر میزائیل ایک ایسا جدید میزائیل ہے جو تین سو کلو میٹر کی دوری پر سمندر میں دشمن کے اہداف کو نہایت دقّت کے ساتھ نشانہ بناکر انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نصر بصیر، بحری کروز میزائل بھی اپنی تیز رفتار کارکردگی و توانائی کے ساتھ، ایران کی مسلح افواج کی بحری توانائی کو فروغ دینے میں قابل ذکر اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح کرّار چار نامی ایرانی ساخت کا جدید قسم کا ایک ڈرون طیارہ ہے جو جارحین کے ڈرون طیاروں کا پتہ لگانے کی بخوبی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور فضا سے نقشہ برداری کے سسٹم کا حامل مہاجر چار قسم کا بھی، ایک اور ڈرون طیارہ ہے جو ایران کی فضائی حدود کے دفاع اور فضائیہ کے دفاعی نظام میں توانائی کو فروغ دینے میں اہم کردار کا حامل ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت، دوست، پڑوسی اور اسلامی ملکوں کے خلاف نہیں ہے، صراحت کے ساتھ کہا کہ پڑوسی ملکوں کو اس بات کو جان لینا چاہیئے کہ دفاعی صنعت میں ایران، جتنا بھی مضبوط ہوگا، وہ صرف اس کیلئے نہیں، بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے بہتر ہوگا۔ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران ہتھیاروں کی دوڑ کے درپے نہيں ہے تاہم اپنے دفاع کے لئے جو بھی لازم ہوگا اسے انجام دینے سے دریغ نہيں کریگا اور اس سلسلے میں کسی کی اجازت کا بھی منتظر نہيں رہے گا۔ ڈاکٹر روحانی نے دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی کی ضرورت پرتاکید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کومہلک ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہئے کیوں یہ ممکن نہیں ہے کہ این پی ٹی معاہدے کی بعض شقوں پر عملدر ہو اور بعض پر عملدر آمد نہ ہو۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان ایٹمی مذاکرات میں جامع سمجھوتے تک رسائی کا امکان موجود ہے ۔ محمدجواد ظریف نے ہفتے کی رات ایران کے ٹی وی چینل دو کے ساتھ گفتگو میں خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کا وضاحت سے ذکر کرتے ہوئے، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے انعقاداور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ضمن ميں مذاکرات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ فریق مقابل ميں ٹھوس عزم و ارادہ پائے جانے کی صورت میں جامع سمجھوتے تک رسائی کا امکان موجود ہے لیکن اگر مغربی ممالک کے دباؤ ڈالنے والے سیاسی گروہوں کی خواہش پورا کرنا مقصدہوگا تو پھر کسی سمجھوتے کا امکان نہیں ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ کوئی بھی ایران پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ ایران مذاکرات برائے مذاکرات یا وقت تلفی کے لئے کررہا ہے۔ اس لئے کہ ہم نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ ہم کسی حتمی راہ حل کے خواہاں ہیں اور فریق مقابل بھی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بائیکاٹ اور پابندی، ایران سے ٹکراؤ کا راستہ نہیں ہے ۔ در ایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے ہفتے کی شام ارنا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل یعنی 17 ستمبر کو ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار نے اسی طرح یکم ستمبر کو بریسلز میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبہ کی سربراہ کیتھرین اشٹین کے درمیان ہونے والی ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کی کہ اس ملاقات میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی آخری صورت حال اور مذاکرات کے طریقہ کار  کا جائزہ لیا جائے گا۔ سید عباس عراقچی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ظریف اور اشٹین کے معاونین بھی بریسلز میں جوہری مذاکرات میں ہونے والی آخری پیشرفت کے حوالے سے صلاح مشورہ کریں گے انہوں نے کہا کہ نیویارک اجلاس سے قبل بھی دو جانبہ ملاقاتیں انجام پائیں گی اور ان ملاقاتوں کی تاریخ اور مذاکرات کی سطح کے تعیّن کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے۔

*اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کو عراق کے اپنے سرکاری دورے کا آغاز کیا۔ انہوں نے یہ دورہ ایسے حساس حالات میں کیا ہے جب کہ عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران بعثی- داعشی دہشت گرد گروہ کے پیدا کردہ بحران کے سبب شدید فرقہ وارانہ لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ جواد ظریف نے بغداد ميں کہا کہ دہشت گردی ایک علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے اور اس کی بیخ کنی کے لئے عالمی سطح پر مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا دہشتگردی کےخلاف ہمہ گیر جدوجہد کا وقت آگیاہے اور تہران اس سلسلے میں تیار ہے اور ایران ہمیشہ عراقی عوام کے ساتھ رہا ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ عراقی عوام ميں دہشت گردی سے مقابلے کی توانائی پائی جاتی ہے ۔ جواد ظریف کے اس دورے کے موقع پر ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران دو طرفہ تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کی بناء پر عراق کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ تمام شعبوں میں عراق کے ساتھ تعاون پر غور کررہا ہے۔انہوں نے بعض مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے جواب میں کہا کہ ایران نے اپنا کوئی فوجی عراق نہيں بھیجا ہے اور اس سلسلے میں اس کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہے ۔ جواد ظریف نے اپنے دورۂ عراق ميں اس ملک کے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی، سابق وزیر اعظم نوری المالکی، پارلیمنٹ اسپیکرسلیم جبوری ، صدر فواد معصوم، عراق کی مجلس اعلائے اسلامی کے سکریٹری جنرل سید عمار حکیم اور عراق نیشنل الائنس کے سربراہ ابراہیم جعفری سے ملاقات کی ۔

*ہفتے کے روز سے ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں کی پارلیمانوں کی جنرل اسمبلی کے سترھویں اجلاس کاتہران میں آغاز ہوا ۔ اس اجلاس میں ماحولیات کے مسائل کا جائزہ لیا گيا۔ یہ اجلاس عالمی سطح پر پائیداری کی غرض سے علاقائي ملکوں کی مشارکت کے زیر عنوان انجام پایا۔ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں کی پارلیمانوں کا یہ ا جلاس دو دنوں تک جاری رہا۔ اس اجلاس کا افتتاح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے کیا اور ماحولیات کے مسائل کے بارے میں ایران کے مواقف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے غزہ میں نہ صرف انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں بلکہ اس علاقے کے ماحولیات کو بھی تباہ کردیا ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ تقریبا دومہینوں سے صیہونی حکومت نے چھے ایٹم بموں کے برابر غزہ کے عوام پر بم برسائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج کی دنیا ماحولیات کی تباہی کی شاہد ہے اور اسکے پاس زیادہ وقت بھی نہيں ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے آئين کے مطابق ماحولیات کے تحفظ اور برقراری کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اس اجلاس سے خطاب میں ایران کے محکمہ موحولیات کی سربراہ ڈاکٹر معصومہ ابتکار نے کہا کہ تہران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو خط بھیج کر کہا ہےکہ غزہ میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں ماحولیات کی تباہی کا جا ئزہ لینے کےلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے کہاکہ تہران بان کی مون کے مثبت جواب کا منتظر ہے تاکہ غزہ کے ماحولیات کے مسئلے کے حل کے لئے مناسب چارہ جوئی کی جاسکے۔

*ایران کے صوبہ اصفہان کی ایٹمی تنصیبات میںاس ہفتے یورینیم ڈی آکسائيڈ بنانے کے یونٹ کا افتتاح ہوا ۔ ڈی آکسائیڈ یوریینم پانچ فیصد سے کم افزودہ یورینیم سے بنائي جارہی ہے ۔ اس یونٹ کا افتتاح ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کیا۔ یورینیم ڈی آکسائیڈ ایٹمی بجلی گھروں کا ایندھن بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ مغرب کے پاس ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس قدر آگے بڑھ چکا ہےکہ بڑی ہوشیاری سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہےاور مغرب کے پاس ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اب کوئي چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے علمی اور تحقیقاتی مراکز اب گوشہ نشینی سے نکل آئے ہیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں آئی اے ای اے کے ڈائرکٹرجنرل یوکیاآمانو سے ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتےہوئے کہ ایران نے ہمیشہ ہر جہت سے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا ہے کہا کہ حکومت ایران کو ترقی و پیشرفت کے لئے،جدید ٹکنالوجی منجملہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کی ضرورت ہے اور ایران ، بجلی ، طب، زراعت، اورصنعت کے شعبوں ميں پرامن ایٹمی توانائی سے استفادے کے لئے ملت ایران  اور مجلس شورائے اسلامی کے فیصلے کی بنیاد پر آگے قدم بڑھاتا رہے گا۔    

 

 

 

 

 

 

بدھ, 07 مئی 2014 17:16

آج کا ایران

آج کا ایران ۔

محنت کشوں اور مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گذشتہ بدھ کے روز اپنے عظیم خطاب میں فرمایا کہ اسلام نے محنت اور جدوجہد کرنے پر تاکید کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام، اسی تناظر میں محنت کش طبقے اور پیداواری شعبے میں مشغول افراد کی قدر و منزلت اور حقوق پر تاکید کرتا ہے اور یہ اسلام کی ترقی پسندی کی وجہ اور دلیل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ آجر اور اجیر کے درمیان تضاد اور دشمنی پر مبنی نظر، مارکس ازم اور مغربی فکر کی مشترکہ سوغات ہے۔ آپ نے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام نے ان تمام امور منجملہ محنت کشوں اور پیداواری امور کے احکام بیان کئے ہیں اور احترام، تعاون اور باہمی معاملات کو بنیاد قرار دیا ہے اور اسلام کے اس بنیادی اصول کو تمام سماجی اور اقتصادی شعبوں میں معیار قرار دیئے جانے کی ضرورت ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ملت ایران کے ذلت آمیز دور کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ملت ایران چاہتی ہے کہ اقتصادی ، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی میدانوں میں اعلی اور شائستہ مقام حاصل کرے تو اسے علمی وسائنسی پیشرفت کے محور میں تبدیل ہونا ہوگا۔ آپ نے استقامتی معیشت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ملک کو ترقی و پیشرفت سے ہمکنار کریں اور عالمی منڈیوں ميں بھی  فعال اور موثر کردار ادا کریں ۔

٭ - روس کے وزیر بجلی اور روس کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے سربراہ الگزینڈر نوواک نےگذشتہ ہفتے تہران میں توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ اپنے ملک کے تعاون کے عمل کا جائزہ لیا ۔  الگزنڈر نوواک نے ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن زنگنہ ، وزیر بجلی حمید چیت چیان اور مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور مختلف مسائل پربات چیت کی ۔ نوواک نے اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر روحانی نے دونوں ملکوں کے اقتصادی و تجارتی تعاون اور اچھے تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کا سیاسی عزم ، دو طرفہ تعلقات اور تجارت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا ۔ ایران کے وزیر بجلی حمید چیت چیان اور روس کے وزیر بجلی الگزنڈر نوواک نے بھی تہران میں ہونے والی ملاقات میں بجلی گھر کی تعمیر کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ چیت چیان نے اس ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ روس ، جمہوریۂ آذربائیجان اور ایران کے بجلی نٹ ورک سے متصل کئے جانے کے مقصد سے عنقریب ہی 500 میگاواٹ کے بجلی گھر کی تعمیرکا کام  شروع کیا جائے گا۔ روس کے وزیر بجلی نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ روس کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کا طویل تجربہ حاصل ہے، کہا کہ بجلی اور پانی کےشعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی اور روسی صدر پوٹین کے درمیان ، 14 ستمبر 2013  ميں ایک ملاقات میں قیرقیزستان کے شہر بیشکک میں شنگھای تعاون تنظیم کے تیرھویں سربراہی اجلاس کے اختتام پر دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت ہوئی تھی جس کا جائزہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران دونوں ملکوں کے حکام کی جانب سے لیا  گيا ۔

٭ - ایران اور جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے درمیان جاری بات چیت کے مقصد سے آئی اے ای اے کے ٹکنیکل مبصرین کا ایک وفد تہران آیا ۔ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین اور ٹیکنیکل وفد کے تہران پہنچنے کے ساتھ ہی ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان سات شقوں پر مشتمل معاہدے کے آخری مرحلے پر عمل درآمد شروع ہوگیا ۔ تہران میں فروری دوہزارتیرہ میں ایران  اور آئی اے ای اے کے وفد کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایران اور آئی اے ای اے نے سات عملی اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔ ان اقدامات میں، طرفین  کے درمیان متفقہ مسائل کے سلسلے میں اطلاعات پیش کرنا، یزد کے ساغند ذخائر اور اردکان کے ایلو کیک کے کارخانے تک منظم دسترسی، اور اراک کے ہیوی واٹرپلانٹ کے بارے میں جدید ترین اطلاعات پیش کرنا شامل ہے۔ معاہدوں کی ان شقوں پر آئی اے ای اے کے ٹیکنیکل وفد کے دورے اور یزد اور اردکان میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ان دونوں مراکز کے معائنے کے موقع پر عمل درآمد شروع ہوجائےگا۔  ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان، جامع اور طویل مدت منصوبے کے حصول کی غرض سے ایٹمی مذاکرات کا چوتھا دور آئندہ ہفتے شروع ہوگا۔ فریقین نےاعلان کیا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں جامع مذاکرات کے لئے مسودہ تیار کرنے پر بحث ہونے کا امکان ہے۔ اس طرح حتمی نتائج تک پہنچنے کےلئے ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مذاکرات، میں تیزی آگئي ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پاگیا تو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک عشرے سے جاری ہنگامہ آرائی ختم ہوجائےگی۔

٭ - اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں کتاب کی ستائیسویں بین الاقوامی نمائش کا افتتاح اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کی شرکت سے ہوا۔ یہ نمائش 30 اپریل سے دس دنوں کے لئے مصلائے امام خمینی (رح) میں منعقد کی گئی ہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے دارالحکومت تہران میں کتاب کی ستائیسویں بین الاقوامی نمائش کے مختلف اسٹالوں کا معائنہ کیا۔ یہ نمائش 10 مئی تک جاری رہے گي۔اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کتابوں کي عالمي نمائش کو دنيا کے ساتھ ايک طرح کے تعميري تعاون سے تعبير کيا ہے-  ایران کے وزیر ثقافت علی جنتی نے بھی اس نمائش کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ اس سال نمائش میں 66 ہزار موضوعات پر کتابیں موجود ہیں جن میں سے نصف کتابیں وہ ہيں جن کی اشاعت پہلی بار ہوئی ہے ۔ اس سال نمائش میں دوہزار تین سو تیس ایرانی ناشروں نے شرکت کی ہے جبکہ ساڑھے چار سو ناشرین جرمنی ، فرانس ، ترکی ، جاپان ، ونزوئلا ، میکسیکو ، روس ، قطر ، شام ، کویت ، عمان ، لبنان ، آذربائیجان ، آرمینیہ اور چین سے شریک ہیں ۔ اس نمائش میں ایک حصے کو خلیج فارس کے موضوع سے مختص کیا گيا ہے جس میں خلیج فارس سے متعلق تاریخی دستاویزات اور نقشے  مل جائیں گے جو ماضی کے دوران مختلف زبانوں ميں شائع ہوئے ہیں ۔

٭ - گذشتہ ہفتے امریکی وزارت خارجہ نے دہشت گرد گروہوں سے متعلق اپنی نئی رپورٹ ميں ایران کا نام بھی ، دہشت گردی کے حامی ملکوں میں قرار دیا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا ہے کہ ایران، امریکہ کی جانب سے  ایران پر لگائے جانے والے دہشتگردی کی حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لۓ خطرہ سمجھتا ہے۔ مرضیہ افخم نے دہشتگردی سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ناقابل انکار ثبوتوں کی بنیاد پر حالیہ تین عشروں کے دوران ایران، سب سے زیادہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا ہے۔مرضیہ افخم نے زور دے کر کہا کہ حالیہ تین عشروں کے دوران دہشتگردی کی سب سے زیادہ بھینٹ چڑھنے والے ملک پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگانا، حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے پندرہ ہزار سے زیادہ شہریوں اور اعلی حکام کو شہید کرنے والے دہشتگردوں کی امریکہ میں موجودگي، خطے کے نہتے اور بے گناہ عوام پر ڈرون حملوں  اور فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے صیہونیوں کے مظالم سے چشم پوشی کی وجہ سے دہشتگردی سے مقابلے کے امریکی دعوے پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کے دن دہشتگردی کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا بھر میں دہشتگرد گروہوں کو وجود میں لانے کے سلسلے میں واشنگٹن کا کردار نظر انداز کیا گيا ہے جبکہ امریکہ نہ صرف خود دہشت گردی کا حامی ہے بلکہ صہیونی حکومت کے دہشت گردانہ اقدامات کی پردہ پوشی کرتا ہے اور شام میں بھی دہشت گردوں کو مسلح کررہا ہے ۔

٭ - ناروے کی یونیورسٹیوں سے ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کے شعبے سے 64 ایرانی طلبا کے اخراج کے خلاف ناروے کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے انہیں ایران کے اعتراض سے آگاہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے پریس نوٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بدھ کی شام تھران میں ناروے کے سفیر کے چھٹی پر ہونے کی بنا پر سفارت خانے کے انچارج کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور ناروے کی یونیورسٹیوں سے کئی ایرانی طالب علموں کے اخراج پر ایران کی ناراضگی سے آگاہ کیا گیا اور ناروے کی پولیس کی جانب سے غیر مروجہ رویّہ اپنائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔. ناروے نے یہ اقدام ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایماء پر انجام دیا ہے امریکہ نے اس سے پہلے بھی امریکہ میں علمی و سائنسی اداروں کو، ایران کے علمی و سائنسی مضامین کی اشاعت ميں تعاون سے روک دیا تھا ۔ تہران نے ناروے کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی طلبا کے تعلیم کے حصول کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کریں . تہران میں ناروے کے نائب سفیر نے بھی ایرانی طلباء کو بہترین غیر ملکی طلبا کی صف میں بتایا اور کہا کہ ناروے میں موجود ایرانی طلبا علم میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایرانی طلبا کے سلسلے میں ناروے حکومت اور خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی ہے پھر بھی وہ ایرانی طلبا کے موضوع سے اوسلو حکومت کو آگاہ كرائیں گے اور اس کے بعد ملنے والے نتائج سے ایرانی فریق کو بھی مطلع کریں ۔  اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ناروے میں ان ایرانی طالبعلموں کی تعلیم کے جاری رہنے میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر برطرف کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور ناروے کے حکام سے اس حوالے سے بھرپور تعاون کیئے جانے کا مطالبہ کیا۔تھران میں ناروے کے سفارت خانے کے انچارج نے اس موقع پر کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لائینگے۔

٭ - ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے کہا ہےکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کے لئے موثر اقدامات کرے۔ جناب رضا نجفی نے کمیٹی برائے این پی ٹی جائزہ کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں کہا کہ  ایران نے انیس سو چہتر میں مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے عاری رکھنے کی تجویز پیش کی تھی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خصوصی نشست میں اس اہم مسئلے پر تاکید کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہرسال جنرل اسمبلی کےاجلاس میں ایٹمی ترک اسلحہ کے بارے میں قرارداد کی منظوری اس بات کی نشاندھی کرتی ہے کہ مشرقی وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے عالمی برادری موثر حمایت کرنے کو تیار ہے۔ رضا نجفی نے کہا کہ مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے عاری کرنے کے لئے عالمی کانفرنس صرف صیہونی حکومت کی مخالفت کی وجہ سے منعقد نہیں ہوئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کو منعقد کرنے کےلئے کوششیں تیز ہوني چاہیں۔ جناب رضا نجفی نے نیویارک میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے "این پی ٹی" پر نظر ثانی کانفرنس کی مقدماتی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں کہا کہ این پی ٹی معاہدے کے بنیادی اہداف میں سے پر امن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ، ہر رکن ملک کا مسلمہ حق ہے۔ انہوں نے کہا تمام ملکوں منجملہ ترقی پذیر ملکوں کو، مکمل احترام اور اس معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے  پر امن ایٹمی توانائی سے بہرہ مند ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ جناب نجفی نے کہا کہ این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر کوئی بھی عامل، دیگر ملکوں کے مسلمہ حق پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیئے اور اس سلسلے میں معاہدے میں سب کچھ واضح  اور روشن ہے اور کچھ مزید کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے ۔

بدھ, 12 مارچ 2014 17:49

آج کا ایران

ایران میں گذشتہ ہفتے رونما ہونے والی اہم خبروں کی سرخیاں - رہبر انقلاب اسلامی سے مجلس خبرگان رہبری یا ماہرین کی کونسل کے سربراہ اور ممبران کی ملاقات / ایران اور یورپی یونین  کے جاری ایٹمی مذاکرات / یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹین کا دورۂ تہران / اور ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر کا ، دو افریقی ملکوں کے دورے کا اختتام /  گذشتہ ہفتے کی اہم خبریں ہیں ۔

٭رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے گذشتہ ہفتے تہران ميں، ماہرين کي کونسل، مجلس خبرگان کےسربراہ اور ممبران کے اجتماع سے خطاب میں ، آج کي دنيا کے بعض حقائق کي تشريح کرتے ہوئے فرمايا کہ عالمي سطح پر ظاہري امن وسکون کےغارت ہونے کي ايک علامت ، امريکا اور يورپ کے اقتصادي بحران ہيں کہ جن کے اقتصادي نظام ديواليہ ہوتے جارہے ہيں -

رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ آج کي دنيا کے حقائق ميں يہ بھي ہے کہ مغربي تمدن اور سائنس کي بنياديں متزلزل ہوچکي ہيں اور امريکا نيز ديگر طاقتوں کے تئيں عالمي رائے عامہ میں نفرتوں ميں اضافہ ہوتا جارہا ہے - قائد انقلاب اسلامي نےفرمايا کہ اقوام کي بيداري خاص طور پر اسلامي ملکوں ميں اسلامي بيداري کي لہر اور اسلامي استقامت کا عروج بھي آج کي دنيا کي ايک حقيقت ہے – قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ اگر امريکا آج لفظي دھمکياں دے رہا ہے تواس کي وجہ يہ ہے کہ ايران کے خلاف پابنديوں کا اس کا حربہ ناکام ہوچکاہے -

آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا کہ آج ايران کے نظام حکومت کے تينوں شعبوں اور حکومتي عہديداروں کے درميان مزاحمتي اقتصاد کے نفاذ کے تعلق سے جو اتحاد و ہم آہنگي پائي جاتي ہے اس کے پيش نظر ، يہ يقين سے کہا جاسکتا ہے کہ خداوندعالم کے لطف وکرم سے مزاحمتي اقتصاد، پابنديوں اور دشمنوں کے حربوں کو ناکام بنادے گا ۔

٭گذشتہ ہفتے ویانا میں تین روز تک ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے ماہرین کی سطح کے مذاکرات انجام پائے یہ مذاکرات بہت اچھے ماحول میں منعقد ہوئے ۔ ماہرین کی سطح کے مذاکرات کا مقصد و ہدف ، ویانا میں 17 سے 19 مارچ کے دوران ویانا ميں ہونے والے اعلی سطحی اجلاس کے لئے ایجنڈہ تیار کرنا اور فنی و ٹیکنیکل مسائل پر غور کرنا تھا۔

٭گذشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جاپان کےوزیر اعظم شینزو آبہ کے ساتھ ملاقات میں دو جانبہ تعلقات کے فروغ پر تاکید کی  ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو دیرینہ اور دوستانہ قرار دیا اور کہا  کہ تھران ، ٹوکیو کے ساتھ اچھے تعلقات کے لئے خاص اہمیت کا قائل ہے ۔ جاپان کے وزیر اعظم "شینزو آبہ" نے بھی ٹوکیو میں ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے ساتھ ملاقات میں ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر امید کا اظہار کرتے ہوئے ، دو جانبہ تعاون کی تقویت کے لئے اپنے ملک کی مکمل آمادگی کا اعلان کیا ۔ ڈاکٹر جواد ظریف نے مشرقی ایشیاء کے دورے میں انڈونیشیا کے وزیر خارجہ "محمد مارتی ناتالگاوا" کی دعوت پر انڈونیشیا کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ ناتالگاوا اور صدر "سوسیلیو یودیونو" کے ساتھ ملاقات کی ۔

٭اسلامی جمہوریۂ ایران کے مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی گذشتہ ہفتے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ جنوبی افریقہ  اور کنگو کا دورہ کیا جہاں  انھوں نے جنوبی افریقہ کے صدر جاکوب زوما سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں فروغ کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور جنوبی افریقہ کے پارلیمانی تعلقات نہایت اہمیت کےحامل ہیں۔

ڈاکٹر لاریجانی نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر"مکس سیسولو" سے ملاقات میں سیاسی اوراقتصادی میدانوں میں پائیدار تعلقات کےلئے دونوں ملکوں کی پارلیمنٹ کے کردار کواہم قرار دیا اور تمام میدانوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی سطح بڑھانے پرزور دیا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کنگو میں بھی اقتصادی تعاون کے سلسلے میں اس ملک کے حکام کے تبادلۂ خیال کیا۔

٭اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نےصہیونی حکومت کے نئے دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے  محض جھوٹ اور بے بنیاد دعوی قرار دیا ۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حال ہی ميں دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے ہتھیاروں سے بھرے ایک جہاز کو روکا ہے جو غزہ کی سمت جارہا تھا ۔

ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے صہیونی حکومت کے وزیر اعظم کے دورۂ واشنگٹن اور آیپک اجلاس کے موقع پر، کہ جس کا اہم ترین مقصد مشرق وسطی کے اصلی مسئلے سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا اور ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپگنڈہ کرنا ہے ، کہا کہ گذشتہ سال بھی اس شکست خوردہ اسرائیلی لابی نے اپنے اجلاس کےدوران امریکی قوم اور کانگریس پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کے لئے وسیع کوشسیں انجام دیتے ہوئے صراحتا ہرقسم کے سفارتی مذاکرات کی مخالفت کی تھی ۔ افخم نے کہا کہ مذکورہ لابی نے ایران کے ایٹمی مسئلے میں سفارتی مذاکرات کے آغاز کی روک تھام کے لئے ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد اس وقت صراحتا اعلان کیا ہے کہ وہ جاری مذاکرات کو نابود کرنے اور اسے منحرف کرنے کے درپے ہے ۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی حکومت کے جھوٹے پروپگنڈوں پر توجہ دینے اور ایران کے خلاف الزام تراشی میں اس کا ساتھ دینے کے بجائے ، جنگ افروزی ، سرکاری دہشت گردی اور مظلوم ملت فلسطین کے خلاف غیرانسانی اقدامات کی روک تھام کرنے کے ذریعے، علاقے کے اہم مسائل پر توجہ دے ۔

*اس ہفتے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹین نے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹین نے اسلامی جمہوریۂ ایران کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی اہم مسائل میں فریقین کے باہمی تعاون کے فروغ کی راہوں کا جائزہ لیا۔

 صدر جناب حسن روحانی کے ساتھ کیتھرین اشٹین کی ہونے والی ملاقات میں صدر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کی بنیادوں پر یورپ کے ساتھ تعمیری تعاون کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران ، یورپ کے ساتھ اقتصادی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ صدر جناب حسن روحانی نے محترمہ ایشٹین کے دورہ تہران کو ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے یورپی یونین کے عزم کی علامت قراردیا۔ انہوں نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرحلے سے صحیح طرح سے عبور کرنے کے بعد فریقین ایک اہم اور اسٹراٹیجیک مرحلے میں داخل ہوجائيں گے اور انرجی اور ٹرانزیت کے شعبوں میں اسٹراٹیجیک تعلقات و تعاون کے حامل بن سکتے ہیں۔ کیھتریں ایشٹن نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کا دورۂ ایران ایک اچھا موقع ہے جس میں ایرانی حکام کے ساتھ ایٹمی معاملے سے ہٹ کر دیگر مسائل پر گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ ، تہران کے ساتھ اہم تعاون کا آغاز ہے۔ اس ملاقات میں کیتھرین ایشٹن نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یورپ کے 28 ملکوں کے نیک نیتی کے پیغام کے ساتھ انہون نے تہران کا دورہ کیا ہےکہا کہ یورپی یونین کو مکمل طرح سے اس علاقے میں ایران کی اہمیت کا خیال ہے اور یورپی یونین ایٹمی مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں اچھے اور پائیدار تعلقات بھی رکھنا چاہتی ہے۔    

کیتھیرین ایشٹن کا یہ دورۂ تھران  ایسی حالت میں انجام پایا ہے کہ ایران اور مغرب کے درمیان سنجیدہ گفتگو انجام پارہی ہے کہ جس کا اصل محور ایٹمی مسئلہ ہے ۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے ان مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ یونین ، علاقے کی سطح کے اہم مسائل اور ایٹمی مسئلے کے مکمل حل کے لئے ایران کے ساتھ تعاون کی پابند ہے ۔ سیاسی مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے اشٹین کا دورۂ تہران ایٹمی سمجھوتے پر عملدرآمد میں آسانیاں پیدا کرسکتا ہے اور آئندہ کے مذاکرات کی تقویت کا سبب بن سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ اور محترمہ کیتھرین ایشٹین کی موجودگي میں وزرائے خارجہ کی سطح کے اجلاس ان مذاکرات کے لئے سنگ میل شمار ہوتے ہیں ۔ مختلف ملکوں کے حکام کا دورۂ تہران، دوطرفہ دلچسپی کے مسائل کے بار ےمیں مذاکرات کےلئے مناسب موقع ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں کسی سمجھوتے تک رسائی کے ساتھ ہی ایران اور یورپی یونین کے تعلقات میں فروغ آئےگا ۔

 

 

 

آج کے پروگرام میں ہم نیوکلر لاء سے متعلق ایک سیمینار کا جائزہ لے رہے ہیں جس کا انعقاد  رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے حرام ہونے کے  فتوے کی بنیاد پر عمل میں لایا گيا تھا۔

شریعت اسلامی  چونکہ آخری آسمانی شریعت ہے اس لۓ اس میں تمام زمانوں کے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات پوری کۓ جانے کا سامان موجود ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تمام واقعات اور مسائل ان ہی واقعات و مسائل تک محدود نہیں ہیں جو رسول خدا )ص( کے زمانے میں رونما ہوئے، بلکہ ہر روز واقعات رونما ہو رہے ہیں اور انسان کی کوششوں سے نئی چیزیں بن رہی ہیں اور نئے حالات پیدا ہورہے ہیں جن میں سے ہر ایک کا اپنا خاص شرعی حکم ہے۔ اسلام نے، کہ  جو اللہ تعالی کا ایک مکمل اور جامع دین ہے ، اس طرح کے نئے ظہور پذیر ہونے والے واقعات کے بارے میں خاموشی اختیار نہیں کی ہے اور اس نے انسانیت کو رونما ہونے والے نئے واقعات کے بارے میں سرگرداں نہیں رکھا ہے۔ مسلمان فقہاء خاص طور پر شیعہ فقہاء ، قرآن و سنت ، اجماع اور عقل کی روشنی میں نئے موضوعات کے احکام کا استنباط کرکے پیش کرتے ہیں۔ اس عمل کو اجتہاد کا نام دیا جاتا ہے۔ شیعہ علماء نے اسی زندہ اور مسلسل آگے بڑھنے والے اجتہاد کی بدولت انسانیت کی بدلتی ہوئی اور گوناگوں ضروریات کو پورا کرنے والی ایک جامع شریعت،  اور عظیم علمی خزانہ انسانیت کی خدمت میں پیش کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ نیوکلر لاء سے متعلق قومی سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ اس سیمینار کے انعقاد کا محرک ، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کے حرام ہونے سے متعلق رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا تھا۔ چار سال قبل رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ، تہران میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی ترک اسلحہ و عدم پھیلاؤ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں فرمایا تھا کہ ہم عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کو حرام اور بنی نوع انسان کواس بڑی مصیبت سے نجات دلانے کے لئے کوششیں بروئے کار لانے کو سب کا فریضہ سمجھتے ہيں ۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں فرمایا تھاکہ بہترہوگا کہ  ترک اسلحہ بین الاقوامی کانفرنس، دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اوران کا انبار لگائے جانے کے خطرات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ، حقیقت پسندانہ طریقے سے انسانیت کے خلاف ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی  غرض سے راہ حل پیش کرے تاکہ عالمی امن واستحکام کے تحفظ کی راہ میں ٹھوس قدم اٹھایا جا سکے ۔رہبرانقلاب اسلامی نے دوسروں کو ڈرانے دھمکانے پر مبنی بعض حکومتوں کی ایٹمی اسٹریٹجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عدم پھیلاؤ معاہدے کی سب سے زیادہ خلاف ورزی وہ طاقتیں کرتی ہيں جنھوں نے این پی ٹی کی شق نمبرچھ کے مطابق اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے کے علاوہ ان ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں براہ راست کردار ادا کیا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے امریکی حکومت کی طرف سے صہیونی حکومت کوایٹمی ہھتیاروں کی پیداوارمیں مدد دینے کے اقدامات کواین پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کا واضح ثبوت قراردیا ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے زوردے کرفرمایا اس صورت حال نے مشرق وسطی اوردنیا کوسنگین خطرات سے دو چار کر رکھا ہے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے پیغام کے ایک حصے میں ایٹمی سائنس اورجوہری علوم کوانسانی کاوشوں کا ایک گرانقدرسرمایہ بتایا اور فرمایا مشرق وسطی کی اقوام جو دنیا کی ديگر اقوام کی مانند امن و سلامتی اور ترقی کی تشنہ ہيں اس بات کا حق رکھتی ہيں کہ اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی معیشت کو آگے بڑھائیں اورآئندہ نسلوں کی ترقی کی ضمانت بھی فراہم کریں .

 امریکہ اور اس کے اتحادی خاص طور پر صہیونی حکومت برسوں سے اسلامی جمہوریۂ ایران کی پرامن سرگرمیوں کے خلا ف وسیع پیمانے پر پروپگنڈہ کررہے ہيں ۔ ان ممالک نے جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف قراردادیں منظور کرائیں اور ظالمانہ پابندیاں ملت ایران کے خلاف عائد کردیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جوہری توانائی کی عالمی  ایجنسی نے اپنی مرحلہ وار رپورٹ ميں امریکہ اور اتحادی ملکوں خاص طور پر صہیونی حکومت  کے دباؤ کے باوجود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی قسم کے انحراف کامشاہدہ نہيں کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام نے اس نکتے پر بارہا تاکید کی ہےکہ نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں تک دسترسی بلکہ کسی بھی قسم کے ایٹمی ہتھیاروں منجملہ کیمیاوی اور جراثیمی ہتھیاروں کی ، ایران کی دفاعی حکمت عملی ميں کوئی جگہ نہيں ہے ۔ حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے پہلی ترک اسلحہ بین الاقوامی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں تحریر فرمایا  تھا  کہ جس وقت سے امریکہ نے ہیروشیما اور ناکازاکی پر ایٹم بم گرایا کہ جس سے انسانی المیہ رونما ہوا ہے اسی وقت سے عالمی سلامتی کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں جس کے با‏عث عالمی برادری ان ہتھیاروں کی نابودی کا یک زبان ہوکر مطالبہ کررہی ہے ایٹمی ہتھیاروں کےاستعمال سے جہاں اس وقت، فوجی اور غیر فوجی ، بچوں ، بڑوں اور سب کو نقصان پہنچا وہیں آئندہ نسلوں کو بھی اس کے ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہيں ۔ اس بناء پر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ، حتی اس سے دھمکانا بھی انسان دوستانہ ، مسلم الثبوت قواعد و قوانین کی خلاف ورزی اور جنگي جارحیت کا واضح مصداق ہے ۔

 تہران میں جوہری قانون قومی سیمینار میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے رہبر انقلاب اسلامی ایران کے فتوے کےمختلف پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیا گيا ۔ اس سیمینار میں ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے اپنی تقریر میں کہا کہ میرے لئے یہ بات باعث خوشی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت ، انہیں ڈھیر لگائے جانے اور ان کے استعمال کی حرمت پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کے تاریخی فتوے کی برکت سے یہ موقع فراہم ہوا ہے کہ بہت سے فکری ، ثقافتی اور دینی مراکز اور اسی طرح بین الاقوامی حقوق اور سیاسی علوم کے شعبے میں تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینک ، رہبر انقلاب اسلامی کے اس فتوے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں ۔ جناب صالحی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ قرآن کریم اور ائمہ اطہار علیھم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے سامنے علم و حکمت کے لا متناہی خزانوں کے در کھلے ہوئے ہيں اور ہميں اس بے مثل اسلامی ورثے کو بلا شبہ ، معاشرے کےافراد کی مشکلات کے حل میں راہ گشا قرار دیناچاہئے اور ان تعلیمات کو ، اسلحوں کی دوڑ اور تشدد کے خلاف جنگ نیز انتہا پسندی سے مقابلے کی روک تھام میں استفادہ کرنا چاہئے ۔ قرآن کریم کے عظیم مفسر اور ممتاز عالم و فقیہ حضرت آيۃ اللہ جوادی آملی نے بھی جوہری قانون سے متعلق منعقدہ سیمینار میں ایک پیغام میں عالمی ہندسہ کے نقشے پر مبنی پیغمبر اکرم کی ابتدائے رسالت کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا کہ وہ چیز جو خدا کی فرمانروائی کے مقام ميں متجلی ہے وہ اس کی رحمانیت ہے اور اسی سبب سے پیغمبر خدا کو رحمۃ للعالمین متعارف کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبراسلام کا پیغام، دنیا کا نظام چلانے میں عدل و انصاف پر مبنی ہے نہ کہ قتل و غارت گری پر ۔ حضرت آيۃ اللہ جوادی آملی نے فرمایا کہ دین اسلام کا پیغام یہ ہے کہ عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی پیداورا نہ کی جائے اور جن ملکوں نے ایٹمی  ہتھیار بنالئے ہیں وہ اپنے ہتھیاروں کو نابود کردیں ۔

فقہ ائمۂ اطہار کے مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین  فاضل لنکرانی نے اپنی تقریر ميں ، جوہری قانون سیمینار ميں اپنی تقریر میں ، ایٹمی ہتھیاروں کے حرام ہونے پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کے ہمہ گیر فتوے کے جائزے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " یہ فتوی ایک نیا مسئلہ ہے جس پر آج تک کوئی بحث نہيں ہوئی ہے ۔ حجۃ الاسلام والمسلمین فاضل لنکرانی نے کہا کہ زمین پر فساد حرام ہے اور اسلام کسی کو بھی فساد کی اجازت نہيں دیتا اورہمیں ان کے خاتمے کے درپے ہونا چاہئے بلکہ امن کو دنیا میں پھیلانا چاہئے ۔

اسی طرح ایک اور ممتاز عالم دین اور فقیہ آیۃ اللہ جعفر سبحانی نے بھی جوہری قانون قومی سیمینار میں اہم اور دلچسپ نکات کی جانب اشارہ کیا ۔ آپ نے ایک پیغام ميں فرمایا ہے کہ ایٹمی ٹکنالوجی آج کی جدید ٹکنالوجی ہے کہ جس کا انسان نے تجربہ اور آزمائش کیا ہے اور یہ شکریے اور قدردانی کی جا ہے لیکن آج کی جدید ٹکنالوجی خاص طورپر نیچرل سائنس ، دودھاری تلوار کی مانند ہے اور اس سے جہاں انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے استفادہ کیا جاسکتاہے  جیسے کہ ایٹمی توانائی کہ جس کا  طب ، زراعت ، اور بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے ، اسی طرح اس سے ایک تباہ کن ہتھیار کے طور پر بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ اسلامی اصولوں کے پیش نظر انسان کی جانوں کو جو احترام حاصل ہے اس کے سبب جدید ٹکنالوجی سے استفادہ ممنوع ہے  اور حتی ان سے دفاعی ہتھیاروں کے طور پر بھی استفادہ نہیں کرنا چاہئے ۔ آیۃ اللہ سبحانی نے دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کے نمٹنے کے طریقۂ کار کے بارے میں کہا کہ " اسلام اپنے جہاد کے آئین میں فرماتا ہے کہ ہرگز آزادی کا راستہ کھولنے کےلئے حرام سے استفادہ نہ کیا جائے مثلا پانی کو دشمن پر بند نہ کرو اور ان کے پانی کو مسموم نہ کرو ، بوڑھوں اور دیر نشینوں پر حملہ مت کرو جو تمہیں پیٹ دکھاکر  فرار کررہا ہو اس کا تعاقب نہ کرو ۔ اور جب تک مسئلے کو دشمن درک نہ کرلے اس سے جہاد نہ کرو اگر کوئی دشمن ، پناہ کی درخواست کرے اورجب تک خدا کا پیغام سن رہا ہو اسے پناہ دو ۔ آیۃ اللہ سبحانی نے اس نکتے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نورانی قوانین کہ جن کا کچھ حصہ ہم نےبیان کیا بھلا یہ قانون کہاں انسانوں کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ عام انسانوں کا قتل عام کرنے کے لئے ایٹم بم استعمال کریں اور بچوں جوانوں عورتوں اور بوڑھوں کو خاک و خون میں غلطاں کردیں اور ان سب کو ایک ساتھ نیست و نابود کردیں ؟ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں جنگ کو مختصر کرنےکی غرض سے جاپا ن کے دو شہروں کو تباہ و برباد کردیا اور انسانیت کے چہرے کو سیاہ کردیا اور ابھی بھی اس کے تخریبی آثار باقی ہیں ۔ انسان کامقام و منزلت اسلام میں اس حد تک بلند وبالا ہے کہ ہرگز کسی قانونی اور منطقی جواز کے بغیر اس کا ایک قطرہ خون بھی نہيں بہایا جاسکتا ۔ جو افراد دفاعی ہتھیار کی آڑ ميں ایٹمی ہتھیار بنا رہے ہيں وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہيں ۔

چنانچہ ایٹمی ہتھیاروں کے حرام ہونے پر مبنی حضرت آیۃ اللہ العظمی  خامنہ ای کا فتوا کہ جو اعلی انسانی تعلیمات کی بنیاد پر جاری کیا گيا ہے اسلامی جمہوریۂ ایران کی قطعی اور ناقابل تغیر پالیسی ہے جس کی رو سے ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور استعمال کی مخالفت کو بنحو احسن بیان کیا گيا ہے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دورے پر آئے ہوئے ہندوستان کے وفد نے ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کی چابہار بندرگاہ سے ہندوستانی بندرگاہوں کے لئے براہ راست بحری جہازوں کی آمدو رفت کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے ایک وفد نے آج تھران میں ایران کے ہاؤسنگ کے وزیر "عباس آخوندی" کے ساتھ ملاقات میں حمل و نقل خاصطور پر چابہار بندرگاہ میں ہندوستان کی کمپنیوں کی سرمایہ  کاری کی خبر دی ہے۔ "عباس آخوندی" نے اس ملاقات میں کہا کہ ایران ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خیرمقدم کرتاہے۔ اس ملاقات کے موقع پر تھران میں ہندوستان کے سفیر "ڈی،پی، سریواسٹاوا" نے بھی کہا کہ چابہار کی بندرگاہ علاقے میں اسٹراٹیجیک حیثیت کی حامل ہے۔

ملائشیاء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کے تعاون سے انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں دانشوروں نے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف صدر ڈاکٹر روحانی کی تجاویز پر اظہار خیال کیا۔ کوالا لامپور میں یہ سیمینار گذشتہ روز منعقد ہوا۔ شرکائے سیمینار نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف اقوام متحدہ میں اپنی یہ کوششیں جاری رکھیں۔ اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملائشیاء اسٹراٹیجیک اسٹڈیز سینٹر کے رکن نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی جانب سے پیش کی گئي تجویزیں ایک ایسا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں جن کے سہارے بڑے موثر اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ملائشیاء کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر فیصل بن حسن نے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی تجویزوں کو ایران کےلئے کامیابی قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ تہذیب و ثقافت کے سہارے تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایران اس سلسلے میں موثر اقدامات کرسکتا ہے۔ اس سیمینار سے ملائشیاء کی نہضۃ العلماء کے سربراہ عبدالغنی شمس الدین نے کہا کہ صیہونی حکومت کے قبضے سے فلسطین کی آزادی کی راہ، صیہونی حکومت کے تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمے سے گذرتی ہے۔ اس سیمینار سے کوالالامپور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل کونسلر نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے صدر جناب حسن روحانی نے گذشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں انتہا پسندی اور تشدد کے خاتمے اور دنیا کو ان لعنتوں سے پاک کرنے کے لئے کچھ تجویزیں پیش کی تھیں جنھیں جنرل اسمبلی نے قرارداد کی صورت دیدی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر انچیف نے کہا ہے کہ ایران ڈسٹرائر نوعیت کے میزائل بردار بحری جنگي جہاز بنانے میں خود کفیل ہوچکا ہے۔ تہران سے شایع ہونے والے اخبار جمہوری اسلامی کے مطابق ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ بحریہ کی ضرورت کے تمام ساز و ساما،ن ایرانی ماہرین ملک کے اندر ہی بنارہے ہیں۔ انہوں نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کی بحریہ ہائي ٹیک کی حامل فورس ہے کہا کہ مختلف طرح کے بحری جنگی جہاز جن میں ٹارپیڈو سے لیس جہاز، ڈسٹرائر اور آبدوزیں شامل ہیں، ایرانی ماہرین ہی تیار کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحریہ کے دفاعی ساز وسامان بھی ملک کے اندر ہی بنائے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دفاعی صنعت کے مختلف شعبون میں ترقی کے ساتھ ساتھ سول سیکٹر جیسے نانوٹکنالوجی، اسٹم سلز اور بایو مڈیسن نیز میڈیکل کے مختلف شعبوں میں بے پناہ ترقی کی ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بٹالین کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنی جاری رہنے کا سبب، عالمی سطح پر اسلامی انقلاب کے گہرے اثرات اور اسکی عظمت  ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ اسلام اور انقلاب کے دشمنوں نے گذشتہ پینتیس برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہے ہیں اور انہیں شکست ہوئي ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کی عظمت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ والہانہ طور پر اسلامی انقلاب سے لگاؤ رکھتے ہیں اور یہی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سامراج کی دشمنی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ عالم اسلام کے مجاہدین اور اسلام اور مسلمانوں کا دفاع نیز مسلمان قوموں کے خلاف جو حملے ہوتے ہیں ان کامقابلہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

صفحہ 1 کا 53