منگل, 25 اگست 2015 17:54

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین ہونے والے معاہدے کے خلاف سازش

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین ہونے والے معاہدے کے خلاف سازش

حالات حاضرہ کے پروگرام گشت و گذار

 اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری معاہدہ علاقے کے تمام ممالک کے لئے مفید ہے۔

نائب وزیر خارجہ برائے عرب اور افریقی ممالک حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران کے جوہری معاہدے سے سعودی عرب کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے تاہم سعودی حکام کو علاقے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی عرب علاقے میں اس قسم کا کھیل، کھیل کر اپنا نقصان کر رہا ہے جس سے علاقے کی سلامتی اور پائیدار ترقی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، علاقے کی سلامتی اور امن و امان بحال کرنے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ گفتگو اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔ان کا بیان آج ایسے میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی کانگریس میں ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کے خلاف بالخصوص پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گرما گرم بحث ہورہی ہے۔ ان بحثوں کی بناپر وائٹ ہاوس پیر کے دن بعض حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے جو اس کے لئے چنداں مطلوب نہیں ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کل اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے لئے دوبارہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا اور وہ بھی صرف اس لئے کہ امریکی کانگریس نے صرف ہماری یعنی وائٹ ہاوس کی مخالفت میں ایٹمی معاہدے کو منظوری نہیں دی ہے ایک دشوار اور بعید امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانشوروں، سائنس دانوں، مفکرین، انجینئروں اور ماہرین، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور سابق حکومتوں کے سیکورٹی مشیروں اور فوجی ماہرین اور عالمی برادری نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین طے شدہ تاریخی معاہدے کی حمایت کی ہے۔

امریکی حکام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یکطرفہ پالیسیاں مسلط کرنے کا وقت مدتوں پہلے گذر چکا ہےاور اب یہ روش موثر واقع نہیں ہوسکتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کرے گا کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر یقین نہيں رکھتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہدہ سیاسی لحاظ  سے مغربی ملکوں کے خیال میں ایسے خطرے کو ختم کرتا ہے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ یہ الزام دراصل ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لئے امریکہ کی اسٹرٹیجی کا حصہ تھا جو اب شکست کھاچکی ہے۔ کانگریس میں بھی دونوں گروہ خواہ ایٹمی معاہدہ کے موافق ہوں یا مخالف بخوبی جانتے ہیں کہ ایران سے ان کا مطالبہ دراصل جھوٹے دعووں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھا۔ امریکی حکام چونکہ ایٹمی معاہدے کوبڑھا چڑھا کر  اس کی ضرورت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ کے یہ جھوٹے الزامات لگانے پر مجبور ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپے ہے اور علاقے کے لئے خطرہ ہے۔جبکہ امریکہ خود علاقے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا حامی ہے اور اسی نے القاعدہ کو جنم دیا تھا اور اب داعش کی حمایت بھی کرتا ہے۔ان مسائل کو سمجھنا کوئي مشکل کام نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما بھی یقینا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چھتیس برسوں سے ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اس موضوع پر پاکستان سے تعلق رکھنے والی عالمی امور کی تجزیہ نگار محترمہ فوزیہ شاہد کا انٹرویو سننے کیلئے لنک پر کلک کیجئے۔

Media

Add comment


Security code
Refresh