منگل, 25 اگست 2015 19:04

افغانستان: طالبان کے بڑھتے ہوئےحملے

 افغانستان: طالبان کے بڑھتے ہوئےحملے

 

افغانستان کے صوبہ ہلمند کے شہر موسی کلا کا محاصرہ جاری ہے۔ طالبان گروہ اس شہر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان فوج نے شہر موسی کلا کا محاصرہ توڑنے کےلئے طالبان کے خلاف وسیع کاروائيوں کا آغاز کردیا ہے۔ ریڈیو تہران کی پشتو سروس کے مطابق افغانستان کی قومی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج نے شہر موسی کلا کے اطراف میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف وسیع حملوں کا آغاز کردیا ہے اور یہ کوشش کررہی ہیں کہ اس شہر پر طالبان کا قبضہ نہ ہو۔ موسی کلا کے گورنر نے شہر کو طالبان کے قبضے سے بچانے کے لئے امدادی فوجی بھیجے جانے کی مانگ کی ہے۔ طالبان نے صوبہ  ہلمند کے شہر نوزاد پر قبضہ کرنے کے بعد موسی کلا کی طرف پیش قدمی شروع کردی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ افغانستان کی فوج بیرونی فوجیوں کی مدد سے موسی کلا کے اطراف طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کررہی ہے۔ دو ماہ قبل طالبان نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن افغان سیکورٹی فورسز نے کچھ دنوں بعد ان علاقوں کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرالیا تھا۔سیاسی مبصرین کی نظر میں موسی کلا میں معدنیات اور زیر زمین ذخائرموجود ہیں جس کی وجہ سے طالبان اور یورپی اور امریکی ممالک  اس شہر کو للچائي نظروں سے دیکھتے رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس علاقے میں یورینیم کے ذخائر ہیں۔ اس شہر پر برطانوی فوجیوں کے قبضے کےدوران انہوں نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے برطانوی فوجیوں کے لئے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔اس وقت اس معاہدے پر مختلف حلقوں نے احتجاج کیا تھا کیونکہ برطانیہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے درحقیقت اس گروہ کو تسلیم کرلیا تھا جبکہ امریکہ نے دوہزار ایک میں برطانیہ اور اپنے دیگر اتحادی ملکوں کےساتھ مل کر دہشتگردی کے مقابلے کے بہانے افغانستان پر حملے کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ اب جبکہ افغانستان کی سیکورٹی فورسز اپنے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ دار ہیں طالبان شہر موسی کلا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان دنوں شدت پسند اور انتہا پسند گروہ افغانستان کے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اقتصادی توانائيوں کےحامل ہیں تا کہ ان علاقوں کے ذخائر اور مصنوعات کو فروخت کرکے اپنے لئے قابل توجہ آمدنی کی ضمانت فراہم کرسکیں۔ اس امر کے پیش نظر طالبان کے ہاتھوں موسی کلا کا محاصرہ تشویشناک ہے۔ درایں اثنا بعض حلقوں نےموسی کلا کے اطراف  طالبان کے خلاف افغان فوج کے حملوں میں بیرونی فوجیوں کی مشارکت کے نتائج کی بابت خبردار کیا ہے اور ان کا یہ خیال ہے کہ طالبان گروہ افغانستان میں اپنے حملوں میں شدت لاکر اس بات کا سبب بنے گا کہ جارحین افغان فوج کی کمزوری کے بہانے دوبارہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگي میں اضافہ کردیں۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ نے اسی بہانے سے اپنے فوجیوں کے کچھ یونٹ دوبارہ افغانستان بھیجے ہیں۔ بہر صورت سیاسی مبصرین کے خیال میں طالبان گروہ جو یہ بلند بانگ دعوے کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں بیرونی فوجیوں کی موجودگي کا مخالف ہے  اپنے حملوں میں شدت لاکر حقیقت میں بیرونی افواج کی واپسی اور افغانستان میں ان کی پوزیشن کو مستحکم بنانے میں مدد کررہا ہے۔ یاد رہے افغان عوام طالبان کے ان اقدامات کے شدید مخالف ہیں۔  

Add comment


Security code
Refresh