سیاسی

 

افغانستان کے صوبہ ہلمند کے شہر موسی کلا کا محاصرہ جاری ہے۔ طالبان گروہ اس شہر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان فوج نے شہر موسی کلا کا محاصرہ توڑنے کےلئے طالبان کے خلاف وسیع کاروائيوں کا آغاز کردیا ہے۔ ریڈیو تہران کی پشتو سروس کے مطابق افغانستان کی قومی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج نے شہر موسی کلا کے اطراف میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف وسیع حملوں کا آغاز کردیا ہے اور یہ کوشش کررہی ہیں کہ اس شہر پر طالبان کا قبضہ نہ ہو۔ موسی کلا کے گورنر نے شہر کو طالبان کے قبضے سے بچانے کے لئے امدادی فوجی بھیجے جانے کی مانگ کی ہے۔ طالبان نے صوبہ  ہلمند کے شہر نوزاد پر قبضہ کرنے کے بعد موسی کلا کی طرف پیش قدمی شروع کردی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ افغانستان کی فوج بیرونی فوجیوں کی مدد سے موسی کلا کے اطراف طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کررہی ہے۔ دو ماہ قبل طالبان نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن افغان سیکورٹی فورسز نے کچھ دنوں بعد ان علاقوں کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرالیا تھا۔سیاسی مبصرین کی نظر میں موسی کلا میں معدنیات اور زیر زمین ذخائرموجود ہیں جس کی وجہ سے طالبان اور یورپی اور امریکی ممالک  اس شہر کو للچائي نظروں سے دیکھتے رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس علاقے میں یورینیم کے ذخائر ہیں۔ اس شہر پر برطانوی فوجیوں کے قبضے کےدوران انہوں نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے برطانوی فوجیوں کے لئے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔اس وقت اس معاہدے پر مختلف حلقوں نے احتجاج کیا تھا کیونکہ برطانیہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے درحقیقت اس گروہ کو تسلیم کرلیا تھا جبکہ امریکہ نے دوہزار ایک میں برطانیہ اور اپنے دیگر اتحادی ملکوں کےساتھ مل کر دہشتگردی کے مقابلے کے بہانے افغانستان پر حملے کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ اب جبکہ افغانستان کی سیکورٹی فورسز اپنے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ دار ہیں طالبان شہر موسی کلا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان دنوں شدت پسند اور انتہا پسند گروہ افغانستان کے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اقتصادی توانائيوں کےحامل ہیں تا کہ ان علاقوں کے ذخائر اور مصنوعات کو فروخت کرکے اپنے لئے قابل توجہ آمدنی کی ضمانت فراہم کرسکیں۔ اس امر کے پیش نظر طالبان کے ہاتھوں موسی کلا کا محاصرہ تشویشناک ہے۔ درایں اثنا بعض حلقوں نےموسی کلا کے اطراف  طالبان کے خلاف افغان فوج کے حملوں میں بیرونی فوجیوں کی مشارکت کے نتائج کی بابت خبردار کیا ہے اور ان کا یہ خیال ہے کہ طالبان گروہ افغانستان میں اپنے حملوں میں شدت لاکر اس بات کا سبب بنے گا کہ جارحین افغان فوج کی کمزوری کے بہانے دوبارہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگي میں اضافہ کردیں۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ نے اسی بہانے سے اپنے فوجیوں کے کچھ یونٹ دوبارہ افغانستان بھیجے ہیں۔ بہر صورت سیاسی مبصرین کے خیال میں طالبان گروہ جو یہ بلند بانگ دعوے کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں بیرونی فوجیوں کی موجودگي کا مخالف ہے  اپنے حملوں میں شدت لاکر حقیقت میں بیرونی افواج کی واپسی اور افغانستان میں ان کی پوزیشن کو مستحکم بنانے میں مدد کررہا ہے۔ یاد رہے افغان عوام طالبان کے ان اقدامات کے شدید مخالف ہیں۔  

 

امریکی کانگریس میں ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کے خلاف بالخصوص پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گرما گرم بحث ہورہی ہے۔ ان بحثوں کی بناپر وائٹ ہاوس پیر کے دن بعض حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے جو اس کے لئے چنداں مطلوب نہیں ہے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے پیر کو اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے لئے دوبارہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا اور وہ بھی صرف اس لئے کہ امریکی کانگریس نے صرف ہماری یعنی وائٹ  ہاوس کی مخالفت میں ایٹمی معاہدے کو منظوری نہیں دی ہے ایک دشوار اور بعید امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانشوروں، سائنس دانوں، مفکرین، انجینئروں اور ماہرین، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور سابق حکومتوں کے سیکورٹی مشیروں اور فوجی ماہرین اور عالمی برادری نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین طے شدہ تاریخی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے سابق صدر جارج بش کی انتظامیہ میں وزیر خزانہ ہانک پالیس کے بیان کی طرف اشارہ کیا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے معاہدے کو ٹھکرانا جو کہ عالمی برادری کی آنکھوں کےسامنے طے پایا ہے اور دوبارہ ملکوں یا حتی امریکہ کے اتحادیوں کو از سرنو مذاکرات کے لئے اکٹھا کرنا تا کہ بہتر معاہدہ ہوجائے سادہ لوحی اور وھم و خیال کے درمیاں کوئي چیز  ہوسکتی ہے۔

اب امریکہ میں ایٹمی معاہدے کی حمایت کرنے والے سنیٹروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ سنیٹروں کی اقلیت کے سربراہ ہیری ریڈ کے بعد اب سنیٹر دبی اسٹابینو نے بھی ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کے حامیوں کو بالا دستی حاصل ہورہی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمایت کے اس نئے عمل کا آغاز امریکہ کے پچاس عیسائي رہنماؤں کی جانب سے کانگریس کو لکھے جانے والے خط سے شروع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حضرت عیسی مسیح کی عقلیت پسندی کو ذہن میں  رکھ کر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو منظوری دے دیں۔ امریکی حکام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یکطرفہ پالیسیاں مسلط کرنے کا وقت مدتوں پہلے گذر چکا ہےاور اب یہ روش موثر واقع نہیں ہوسکتی۔ البتہ ضروری نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کی حقیقت سے فرار ہونے کے لئے اچھے اور برے معاہدے کے الفاظ استعمال کئے جائيں۔  امر واقعہ یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کرے گا کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر یقین نہيں رکھتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہدہ سیاسی لحاظ  سے مغربی ملکوں کے خیال میں ایسے خطرے کو ختم کرتا ہے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ یہ الزام دراصل ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لئے امریکہ کی اسٹرٹیجی کا حصہ تھا جو اب شکست کھاچکی ہے۔ کانگریس میں بھی دونوں گروہ خواہ ایٹمی معاہدہ کے موافق ہوں یا مخالف بخوبی جانتے ہیں کہ ایران سے ان کا مطالبہ دراصل جھوٹے دعووں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھا۔ امریکی حکام چونکہ ایٹمی معاہدے کوبڑھا چڑھا کر  اس کی ضرورت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ کے یہ جھوٹے الزامات لگانے پر مجبور ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپئے ہے اور علاقے کے لئے خطرہ ہے۔یاد رہے امریکہ خود سب سے بڑا ایٹمی خطرہ ہے اور وہ واحد ملک ہے جس نے جاپان کے  عوام کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کئے تھے۔امریکہ خود علاقے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا حامی ہے اور اسی نے القاعدہ کو جنم دیا تھا اور اب داعش کی حمایت بھی کرتا ہے۔ان مسائل کو سمجھنا کوئي مشکل کام نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما بھی یقینا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چھتیس برسوں سے ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

حالات حاضرہ کے پروگرام گشت و گذار

 اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری معاہدہ علاقے کے تمام ممالک کے لئے مفید ہے۔

نائب وزیر خارجہ برائے عرب اور افریقی ممالک حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران کے جوہری معاہدے سے سعودی عرب کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے تاہم سعودی حکام کو علاقے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی عرب علاقے میں اس قسم کا کھیل، کھیل کر اپنا نقصان کر رہا ہے جس سے علاقے کی سلامتی اور پائیدار ترقی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، علاقے کی سلامتی اور امن و امان بحال کرنے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ گفتگو اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔ان کا بیان آج ایسے میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی کانگریس میں ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کے خلاف بالخصوص پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گرما گرم بحث ہورہی ہے۔ ان بحثوں کی بناپر وائٹ ہاوس پیر کے دن بعض حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے جو اس کے لئے چنداں مطلوب نہیں ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کل اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے لئے دوبارہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا اور وہ بھی صرف اس لئے کہ امریکی کانگریس نے صرف ہماری یعنی وائٹ ہاوس کی مخالفت میں ایٹمی معاہدے کو منظوری نہیں دی ہے ایک دشوار اور بعید امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانشوروں، سائنس دانوں، مفکرین، انجینئروں اور ماہرین، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور سابق حکومتوں کے سیکورٹی مشیروں اور فوجی ماہرین اور عالمی برادری نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین طے شدہ تاریخی معاہدے کی حمایت کی ہے۔

امریکی حکام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یکطرفہ پالیسیاں مسلط کرنے کا وقت مدتوں پہلے گذر چکا ہےاور اب یہ روش موثر واقع نہیں ہوسکتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کرے گا کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر یقین نہيں رکھتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہدہ سیاسی لحاظ  سے مغربی ملکوں کے خیال میں ایسے خطرے کو ختم کرتا ہے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ یہ الزام دراصل ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لئے امریکہ کی اسٹرٹیجی کا حصہ تھا جو اب شکست کھاچکی ہے۔ کانگریس میں بھی دونوں گروہ خواہ ایٹمی معاہدہ کے موافق ہوں یا مخالف بخوبی جانتے ہیں کہ ایران سے ان کا مطالبہ دراصل جھوٹے دعووں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھا۔ امریکی حکام چونکہ ایٹمی معاہدے کوبڑھا چڑھا کر  اس کی ضرورت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ کے یہ جھوٹے الزامات لگانے پر مجبور ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپے ہے اور علاقے کے لئے خطرہ ہے۔جبکہ امریکہ خود علاقے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا حامی ہے اور اسی نے القاعدہ کو جنم دیا تھا اور اب داعش کی حمایت بھی کرتا ہے۔ان مسائل کو سمجھنا کوئي مشکل کام نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما بھی یقینا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چھتیس برسوں سے ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اس موضوع پر پاکستان سے تعلق رکھنے والی عالمی امور کی تجزیہ نگار محترمہ فوزیہ شاہد کا انٹرویو سننے کیلئے لنک پر کلک کیجئے۔

  امریکی کانگریس میں ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کے خلاف بالخصوص پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں گرما گرم بحث ہورہی ہے۔ ان بحثوں کی بناپر وائٹ ہاوس پیر کے دن بعض حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے جو اس کے لئے چنداں مطلوب نہیں ہے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے پیر کو اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے لئے دوبارہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا اور وہ بھی صرف اس لئے کہ امریکی کانگریس نے صرف ہماری یعنی وائٹ  ہاوس کی مخالفت میں ایٹمی معاہدے کو منظوری نہیں دی ہے ایک دشوار اور بعید امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانشوروں، سائنس دانوں، مفکرین، انجینئروں اور ماہرین، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور سابق حکومتوں کے سیکورٹی مشیروں اور فوجی ماہرین اور عالمی برادری نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین طے شدہ تاریخی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے سابق صدر جارج بش کی انتظامیہ میں وزیر خزانہ ہانک پالیس کے بیان کی طرف اشارہ کیا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے معاہدے کو ٹھکرانا جو کہ عالمی برادری کی آنکھوں کےسامنے طے پایا ہے اور دوبارہ ملکوں یا حتی امریکہ کے اتحادیوں کو از سرنو مذاکرات کے لئے اکٹھا کرنا تا کہ بہتر معاہدہ ہوجائے سادہ لوحی اور وھم و خیال کے درمیاں کوئي چیز  ہوسکتی ہے۔

اب امریکہ میں ایٹمی معاہدے کی حمایت کرنے والے سنیٹروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ سنیٹروں کی اقلیت کے سربراہ ہیری ریڈ کے بعد اب سنیٹر دبی اسٹابینو نے بھی ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کے حامیوں کو بالا دستی حاصل ہورہی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمایت کے اس نئے عمل کا آغاز امریکہ کے پچاس عیسائي رہنماؤں کی جانب سے کانگریس کو لکھے جانے والے خط سے شروع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حضرت عیسی مسیح کی عقلیت پسندی کو ذہن میں  رکھ کر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو منظوری دے دیں۔ امریکی حکام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یکطرفہ پالیسیاں مسلط کرنے کا وقت مدتوں پہلے گذر چکا ہےاور اب یہ روش موثر واقع نہیں ہوسکتی۔ البتہ ضروری نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کی حقیقت سے فرار ہونے کے لئے اچھے اور برے معاہدے کے الفاظ استعمال کئے جائيں۔  امر واقعہ یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کرے گا کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر یقین نہيں رکھتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہدہ سیاسی لحاظ  سے مغربی ملکوں کے خیال میں ایسے خطرے کو ختم کرتا ہے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ یہ الزام دراصل ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لئے امریکہ کی اسٹرٹیجی کا حصہ تھا جو اب شکست کھاچکی ہے۔ کانگریس میں بھی دونوں گروہ خواہ ایٹمی معاہدہ کے موافق ہوں یا مخالف بخوبی جانتے ہیں کہ ایران سے ان کا مطالبہ دراصل جھوٹے دعووں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھا۔ امریکی حکام چونکہ ایٹمی معاہدے کوبڑھا چڑھا کر  اس کی ضرورت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ کے یہ جھوٹے الزامات لگانے پر مجبور ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپئے ہے اور علاقے کے لئے خطرہ ہے۔یاد رہے امریکہ خود سب سے بڑا ایٹمی خطرہ ہے اور وہ واحد ملک ہے جس نے جاپان کے  عوام کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کئے تھے۔امریکہ خود علاقے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا حامی ہے اور اسی نے القاعدہ کو جنم دیا تھا اور اب داعش کی حمایت بھی کرتا ہے۔ان مسائل کو سمجھنا کوئي مشکل کام نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما بھی یقینا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چھتیس برسوں سے ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

 

 

 

 

روہنگيا مسلمانوں کی یوروپین کونسل کے سربراہ خیر الامین نے میانمار کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے صوبہ راخین میں مسلمانوں کی آمدنی کے ذرائع پرقبضہ کرلیا ہے۔ راخین صوبہ میانمار کے مغرب میں واقع ہے اور اس میں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مسلمان اس علاقے میں کئي صدیوں سے زندگي گذارتے آرہے ہیں لھذا یہاں پر بہت سے پیداواری مراکز، تنظیمیں اور فارمز مسلمانوں کے ہیں۔ ان چیزوں پر مسلمانوں کی ملکیت کو انیس سو سینتالیس میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی کسی تنازعے اور حکومت یا کسی بھی گروہ سے مسلمانوں کی جھڑپوں کے بغیر ہی باضابطہ طور پرمیانماری مسلمانوں کا حق تسلیم کرلیا گيا تھا۔انیس سو باسٹھ سے انیس سو اٹھاسی تک فوجی حکومت کے دوران ایک بار بھی یہ سننے کو نہیں ملا کہ مسلمانوں کو حکومتی اداروں سے شکایت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوجیوں کی ڈکٹیٹر حکومت نے اپنی سخت گيرانہ پالیسیوں سے حالات کو قابو میں رکھا تھا۔ لیکن انیس سو اٹھاسی میں میانمار میں تمام گروہوں، اقلیتوں، نسلوں اور مذاہب کے لئے قابل توجہ آزادی کی فضا میسر آئي۔ یاد رہے فوجی حکومت نے اپنے لئے امن و ترقی کی کونسل کا نام منتخب کرکے کام کاج اور مشاغل کے سلسلے میں بعض قوموں، نسلوں اور مذہبوں کو پیداواری سرگرمیوں میں مشغول رہنے کی اجازت دی تھی۔ اس زمانے میں میانماری مسلمانوں نے بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے فارمز میں کام کرنا اور پیداواری عمل شروع کیا تھا، البتہ سیاسی گھٹن اور ڈکٹیٹر شپ کی بنا پر مسلمانوں کا نام نہیں تھا کیونکہ اس زمانے میں بھی فوجی حکومت مسلمانوں کے لئے حقوق کی قائل نہیں تھی۔ اب جبکہ روہنگيا مسلمانوں کی یورپی کونسل کے سربراہ نے میانمار حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ رنگون مسلمانون کے حقوق پامال کررہا ہے اور انہیں صوبہ راخین میں اپنے اقتصادی ذرایع اور سرمائے سے استفادہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے تو اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے پاس املاک، آبی ذخائر، فارمز اور کارخانے نیز دستکاری صنعتوں کے چھوٹے مراکز ہیں اور وہ ان سے اپنا روز گار چلاتے ہیں۔ اس وقت میانمار کی بظاہر غیر فوجی حکومت ہمیشہ کی طرح انتہا پسند بودھوں کی حمایت کرتی ہے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خیرالامین نے صحیح اندازہ لگایا ہے کہ میمانمار کے مسلمانوں کی مشکلات کی بنیادی وجہ اقتصادی مسائل ہیں اور صوبہ راخین پر حکومت میانمار کا قبضہ دراصل مسلمانوں کی اقتصادی شہ رگ پر ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔ اگر ماضی میں بھی میانمار حکومت مسلمانوں کو اقیلت تسلیم نہیں کرتی تھی اور ان کے تشخص کی قائل نہیں تھی تو آج بھی فوج نے نئے حربوں سے مسلمانوں کی معیشت کو نشانہ بنایا ہے اور یہ کوشش کررہی ہے کہ مسلمانوں کو ان چیزوں سے محروم کردے جو تاریخی لحاظ سے ان کی ملکیت میں ہیں اور زندگي گذارنے کے لئے ضروری ہیں۔ خیرالامین کا بیان عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک انتباہ ثابت ہوگا تا کہ وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوجائيں کہ میانمار کے اس صوبے میں مسلمانوں کے اقتصادی ذرائع کو تباہ کیا جارہا ہے جہاں وہ صدیوں سے زندگي گذارتے آرہے ہیں۔      

 

اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کی حمایت جاری ہے اور امریکی سنیٹر ہیری ریڈ نے بھی ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ہیری ریڈ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس اقلیت کے سربراہ اور سینیٹ کے سب سے سینئر رکن ہیں جنہوں نے ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ اب تک امریکہ کے ستائيس ڈیموکریٹ سنیٹروں نے باضابطہ طور پر ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ہے جبکہ دو ڈیموکریٹ سنیٹروں چاک شومر اور رابرٹ مننڈز نے صدر اوباما اور اپنی پارٹی کی مخالفت کرتے ہوئے ری پبلیکن اور اسرائيلی لابی ایپیک کے مواقف کی حمایت کرنے کو ترجیح دی ہے۔ سینیٹر ہیری ریڈ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی حمایت وائٹ ہاوس کے لئے بڑی مدد شمار کی جارہی ہے کیونکہ وہائٹ ہاوس ان دنوں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو کانگریس میں منظور کروانا چاہتا ہے۔ سنیٹر ہیری ریڈ برسوں تک سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت یا اقلیت کے سربراہ رہے ہیں اور اپنی پارٹی میں بڑا اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آئندہ دنوں میں ہیری ریڈ سے قریبی تعلقات رکھنے والے کچھ سنیٹر بھی ایران اور پانچ جمع ایک گروپ میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کی حمایت کریں گے۔ مجموعا چوالیس ڈیموکریٹ سنیٹروں میں سے اگر چونتیس کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے اور ڈیموکریٹس کی طرف رجحان رکھنے والے مزید دو آزاد سنیٹر بھی حمایت کرتے ہیں تو امریکی صدر اوباما کی جانب سے  کانگریس کی ممکنہ مخالفت  کو ویٹو کرنے کی ضمانت مل جائے گي۔ ادھر امریکی کانگریس کے دوسرے قانون ساز بازو یعنی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ اقلیت کی سربراہ نینسی پلوسی نے پہلے ہی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعلان کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایوان نمائندگان میں صدر اوباما کے ویٹو کو یقینی بنانے کے لئے کافی ووٹ موجود ہیں۔ ادھر امریکی سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ری پبلیکن اراکین کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی بھرپور مخالفت کے باوجود بھی کانگریس اس معاہدے پر عمل درآمد روکنے میں ناکام رہے گي۔ البتہ اب تک امریکی کانگریس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی میں وائٹ ہاوس کو کامیابی نہیں ملی ہے۔ آئندہ تقریبا بیس دنوں میں امریکی رپیپبلیکن پارٹی، صیہونی لابی ایپیک اور صیہونی وزیر اعظم کی سربراہی میں صیہونی کابینہ کا اتحاد ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے پرعمل درآمد کو روکنے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔ گذشتہ ہفتوں میں صیہونی لابی آيپک یا سیاسی لحاظ سے سعودی عرب کے ہمنوا گروہوں نے دسیوں لاکھ ڈالر خرچ کرکے امریکی ٹی وی چينلوں کے سہارے کانگریس میں ایٹمی معاہدے کے حامیوں کے خلاف امریکی عوام کو بھڑکا کر عالمی برادری کے مطالبے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہانتک کہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ صیہونی حکومت علاقے میں مصنوعی سیکورٹی بحران پیدا کرکے ایرانو فوبیا کو تقویت  پہنچائے اور سرانجام امریکی کانگریس میں ایٹمی معاہدے کے حامیوں کی تعداد میں کمی لے آئے۔ ان کوششوں کے باوجود امریکہ میں گذشتہ ہفتوں میں جاری سیاسی کشمکش سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی رائے عامہ ایران اور ایٹمی معاہدے کے مخالفین کے جارحانہ پروپـگينڈے سے متاثر نہیں ہے اور اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ سرانجام ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کا ایٹمی معاہدہ ہرچند امریکی صدر کے ویٹو سے ہی سہی کانگریس کے مرحلے سے عبور کرجائے گا۔

حالات حاضرہ کے پروگرام گشت و گذار

یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اورسعودی لڑاکا طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کرکے کم از کم سترہ عام شہریوں کو شہید کردیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے صوبہ شبوہ کے عسیلان نامی علاقے پر بمباری کی ہے۔ اس حملے میں عسیلان سے بیحان جانے والی شاہراہ پر موجود گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آٹھ عام یمنی شہری شہید ہوگئے۔ سعودی اتحادی طیاروں نے ان عوامی رضاکار فورس کے جوانوں کو بھی نشانہ بنایا جو امداد پہنچانے کے لئے پہنچے تھے جس کے نتیجے میں سات امدادی کارکن اور دو عام شہری شہید ہو گئے۔ سعودی لڑاکا طیاروں نے ہفتے کی رات مارب شہر کے الساق نامی علاقے پر بھی بمباری کی تھی ۔ اس حملے میں دو عام شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جارحیت کے مقابلے میں یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے جیزان میں واقع دارالنصر فوجی مرکز پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں کی کارروائیوں کو آل سعود کے جرائم کا واحد جواب قرار دیا ہے- یمنی فوج کے ترجمان نے ابھاء کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوجی چھاؤنیوں اور ھوائی اڈوں سے دور رہیں - یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اتوار کو سعودی حملوں میں شدت آنے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کے جیزان علاقے کے فوجی اڈے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کے جوانوں کی کارروائی میں سعودی فوج کی اٹھارہویں ڈویژن کا کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبدالرحمان بن سعد الشھرانی ہلاک ہو گیا جبکہ یمن کی فوج اور عوامی کمیٹیوں نے سعودی عرب کے جیزان علاقے میں الفریضہ فوجی چھاؤنی پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط بنا لیا ہے-

سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادی ممالک نے چھبیس مارچ سے علاقے کے سب سے غریب ملک یمن کو اپنے جارحانہ حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے جس میں اب تک چار ہزار سے زیادہ بےگناہ شہری شہید اور ہزاروں زخمی اور لاکھوں بےگھر ہو گئے ہیں-

اقوام متحدہ میں انسان دوستانہ امدادی شعبے کے کوآرڈی نیٹر اسٹیفن اوبراين نے یمن پر جاری آل سعود کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ اوبراين نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست میں یمن پر آل سعود کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے مغربی علاقے میں الحدیدہ بندرگاہ پر سعودی عرب کے حملوں کی وجہ سے ملت یمن کو انسان دوستانہ امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں انسان دوستانہ امدادی شعبے کے کوآرڈی نیٹر نے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت بالخصوص حساس مراکز اور بنیادی تنصیبات پر حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ناقابل قبول ہیں۔ اسٹیوین اوبرائن نے اپنے یمن کے حالیہ دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نےیمن میں عوام کو شدید رنج و الم میں مبتلادیکھا ہے، انہوں نے کہا کہ یمنی عوام نہایت شدید مسائل سے دوچار ہیں، انہوں نے کہا کہ تقریبا پندرہ لاکھ افراد بے گھر اور ایک ہزار سے زائد بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دریں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے سعودی عرب کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنا رویہ بدل کر عقل وخرد سے کام لینا چاہیے تا کہ علاقے کے بحران حل ہوسکیں۔

یمن کے خلاف آل سعود کے حملوں کے جاری رہنے سے یمن جو ایک غریب ملک ہے روز بروز مسائل کا شکار ہوتا جارہا ہے  اور ہر روز یہاں انسانی المیے میں شدت آتی جارہی ہے۔ سعودی عرب تقریبا پانچ مہینوں سے یمن پر اندھا دھند حملے کررہا ہے لیکن اسکے باوجود اسے فوجی اور سیاسی اھداف حاصل کرنے میں کوئي کامیابی نہیں ملی ہے۔ آل سعود نے اپنے وحشیانہ حملوں میں یمن کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنا کر تحریک انصاراللہ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قراردینے کی کوشش کی ہے۔ ساسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اھداف عوام پر حملوں اور ان کا قتل عام کرکے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتے بلکہ اس سے بحران میں شدت ہی آتی ہے۔ یمن میں آل سعود کے حملوں میں رہائشی علاقوں، بنیادی تنصیبات اور صنعتی مراکز نیز بندرگاہوں پرحملوں سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب فوجی لحاظ سے  یمن میں شکست کھاچکا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک بار پھر کہا ہے کہ یمن کا بحران صرف سیاسی طریقے سے حل ہوسکتا ہے اور تمام فریقوں کوچاہیے کہ اس ھدف کے حصول کے لئے یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ احمد کے ساتھ تعاون کریں۔ اسماعیل ولد شیخ احمد نےگذشتہ پیر کے دن مسقط مذاکرات میں پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں اور مذاکرات مثبت واقع ہوں گے اور یہ مذاکرات یمن کےبحران کو سیاسی راہ سے حل کرنے پر منتج ہوں گے۔

اس موضوع پرعالمی امور کے تجزیہ نگار علی رضا علوی کا انٹرویو سننے کیلئے لنک پر کلک کیجئے۔

 

فلسطینیوں کو روزگار اور امددا فراہم کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں سامنے آنے والی رپورٹ اور اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ مختلف ملکوں میں پناہ گزین فلسطینی شدید رنج و الم میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں موصولہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہےکہ شام سے ایک لاکھ فلسطینی پناہ گزین مختلف عرب اور یورپی ملکوں کی طرف کوچ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ انروا کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں فلسطینی پناہ گزیں شام کے مختلف علاقوں میں بڑے سخت اور نامناسب حالات میں زندگي گذار رہے ہیں۔ شام میں فوج اور دہشتگردوں کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کےپیش نظر شام میں فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ بھی مسلسل دہشتگردوں کے حملوں اور سازشوں کا شکار رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے تاکید کی ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی پناہ گزیں شام میں جاری جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ ادھر چند دنوں قبل اقوام متحدہ کی امدادی کمیٹی کے انچارج نے مشرق وسطی کے مختلف علاقوں میں شام کے پناہ گزینوں کی صورتحال سے پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں کی بابت خبردار کرتے ہوئے ان پناہ گزینوں کے حالات کوایک ٹائم بم سے تعبیر کیا تھا۔ مقبوضہ علاقوں سےفلسطینیوں کو ترک وطن پر مجبور کرنا ابتداء ہی سے صیہونی حکومت کی پالیسی رہی ہے۔صیہونی حکومت کی انسانیت سوز پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں فلسیطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ واضح رہے فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد تقریبا پچپن لاکھ ہے۔فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد جو عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی تعداد کا ایک بڑا حصہ ہے اس المناک صورتحال کا پتہ دیتی ہے جس کا بنیادی سبب صیہونی حکومت ہے۔ عالمی سطح پر پناہ گزینون کی تعداد اڑتیس ملین بتائي جاتی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد مقبوضہ فلسطین کے اندر پناہ گزیں کیمپوں اور ديگر ملکوں میں مقیم ہے۔ البتہ فلسطینی پناہ گزینوں کی زیادہ تر تعداد مقبوضہ فلسطین سے باہر عرب ملکوں میں رہتی ہے  جبکہ ہزاروں فلسطینی پناہ گزین شام میں بھی مقیم ہیں۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی صورتحال اتنی نامناسب ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی نے بارہا ان نامناسب حالات کے بارے میں انتباہ دیا ہے۔ یہ صورتحال شام میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کے تعلق سے زیادہ نامناسب ہے کیونہ شام میں بحران جاری ہے۔ اسی بنا پر شام میں مقیم فلسطینی پناہ گزین اس دشوار صورتحال سے رہائي حاصل کرنے کی فکر میں پڑ گئے ہیں  اور ہر ممکن طریقے سے دوسرے ملکوں کی طرف کوچ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واضح رہے فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ ملت فلسطین کے حقوق کی ادائیگي اور انہیں اپنی مادری سرزمین میں سکونت اور زندگي گذارنے کا حق حاصل ہونے نیز صیہونی حکومت کا قبضہ ختم ہونے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ ان امور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی تاکید کی گئي ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ایک سو چورانوے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور انہیں تاوان کی ادائیگي پر زور دیا گيا ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے فلسطینی قیدیوں سمیت فلسطینیوں کےحقوق کو نظر انداز کرنا اور فلسطینی قیدیوں سے متعلق ان اداروں کا دفاعی موقف اس بات کا سبب بنا ہے کہ دنیا آئے دن فلسطینیوں کی آوارہ وطنی اور ان پر رنج و الم میں شدت کے مناظر دیکھے۔       

 

 عراقی کردستان میں ڈیموکریٹک پارٹی آف کردستان کے سیاسی دفتر کے سربراہ فاضل میرانی نے مخالفتوں کے باوجود کہا ہے کہ مسعود بارزانی عراقی کردستان کی صدارت کے لئے بہترین امیدوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسعود بارزانی کو کردستان عراق کے صدر کی حیثیت سے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ فاضل میرانی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ  عراقی کردستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں داعش کے خلاف کرد پیشمرگہ فورس کی جنگ اور اقتصادی مسائل کا خصوصی طور  پر ذکر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایسے حالات میں مسعود بارزانی کی صدارت کا جاری رہنا ضروری ہے اور وہ داخلی، علاقائي اور عالمی سطح پر ایک ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ کردستان عراق پر مسعود بارزانی کی صدارت کا دوسرا دور دو سال کی توسیع کے بعد انیس اگست دوہزار پندرہ کو اختتام پذیر ہوا۔ دوسال قبل کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹیک یونین آف کردستان نے دو برسوں تک کردستان عراق کے صدراتی انتخابات اور اس علاقے کے آئين پر ریفرینڈم کو ملتوی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اس اتفاق کے نتیجے میں مسعود بارزانی کی مدت صدارت میں بھی دوسال کی توسیع ہوگئي اور ساتھ ساتھ یہ بھی معاہدہ کیا گيا کہ اس کے بعد بارزانی کی میعاد صدارت میں توسیع نہیں کی جائے گي۔ اس معاہدے کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی آف کردستان چاہتی ہے کہ مسعود بارزانی کردستان عراق کے صدر بنے رہیں اور اس نے اپنے اس اقدام کے لئے علاقے کی حساس صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کو دلیل بنایا ہے۔ بارزانی کی پارٹی کا کہنا ہےکہ کردستان عراق کی موجودہ مشکلات کا حل اتحاد کی برقراری ہے۔ ان کی پارٹی نے اسی اصول کے سہارے مسعود بارزانی کی صدارت میں دوہزار سترہ تک مزید دوبرس کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔عراقی  کردستان کی چار اپوزیشن پارٹیوں، اتحاد اسلامی، جماعت اسلامی، تحریک گوران اور پیٹریاٹک پارٹی آف کردستان کی موجودہ صورتحال اور لامحدود اختیارات کے ساتھ مسعود بارزانی کی صدارت کی توسیع کی مخالف ہیں۔ان پارٹیوں نے کردستان عراق کی پارلیمنٹ میں ایک مشترکہ بل پیش کرکے کردستان کے صدر کے اختیارات میں کمی اورمقامی  پارلیمانی اراکین کے ووٹوں سے ان کے انتخاب کا مطالبہ کیا ہے لیکن بارزانی کی پارٹی اور دیگر چھوٹی پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے اسے منظوری نہیں مل سکی۔ کردستان عراق کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ نچیروان بارزانی نے حال ہی میں کردستان کی پارلیمنٹ میں فیصلہ کرنے کے طریقوں کے بارے میں کہا کہ  کردستان عراق کی پارلیمنٹ سیاسی فیصلے نہيں کرسکتی کیونکہ پارلمینٹ کے اراکین پارٹیوں کےاہم رکن نہیں ہیں اور انہیں فیصلہ کرنے کے لئے اپنی پارٹیوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ کردی ذرائع کا کہنا ہےکہ دوہزار پانچ کے آئین کے مطابق کردستان عراق کی پارلیمنٹ ہی اس علاقے کے تمام اہم مسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے والا ادارہ ہے اور اس کا حکم آخری حکم ہوگا اور جو لوگ پارلیمنٹ کے رکن بنتے ہیں ان میں اپنی پارٹی کے اندر ہی فیصلہ کرنے کی توانائي ہونی چاہیے۔ کردستان عراق کی پارلیمنٹ میں مسعود بارزانی کی صدارت کی میعاد میں توسیع کی مخالف چار پارٹیوں کے تجویز کردہ بل کے بائيکاٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرد پارلیمنٹ میں مسعود بارزانی کی پارٹی کس قدر زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے مسعود بارزانی کی سربراہی میں توسیع کا مسئلہ متنازعہ بن گيا ہے اور جمعرات سے قانونی لحاظ سے اس علاقے کے لئے کسی صدر کا انتخاب نہیں ہوا ہے۔ کردستان عراق کے فیصلہ ساز اداروں سے باہر فیصلے کئے جانا اور بیرونی اثر ورسوخ اس بات کا سبب بنا ہے کہ یہ ادارے اپنے بل بوتے پر کوئي سیاسی فیصلہ نہ کرپائيں۔کردستان کی پارلیمنٹ میں چار پارٹیوں کی پیش کردہ  مشترکہ بل کی مخالفت اور بارزانی کی صدارت میں توسیع کرنے کے حق میں کردستان عراق کی عدالتی کونسل کا فیصلہ، قانونی اداروں سے بابر فیصلے کئے جانے اور بیرونی  حلقوں کے اثر ورسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی وجہ سے کردستان عراق کے اسپیکر یوسف محمد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے لئے مسعود بارزانی کی صدارت کی میعاد میں توسیع کے فیصلے پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے اور اس فیصلے کی کوئي قانونی حیثیت نہیں ہے۔

 

طالبان کے سابق سرغنے ملاعمر کی موت کے بعد طالبان میں دھڑی بندی سامنے آئي اور افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص کابل میں طالبان کے خونریز حملوں میں شدت آگئي۔ کابل میں ہفتے کو شینوزادہ اسپتال کے قریب ہونے والے بھیانک اور خونریز بم دھماکے میں بارہ افراد ہلاک اور چھیاسٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل کابل میں تین بم دھماکے ہوئے تھے جن میں کم از کم پچاس افراد جاں بحق اور ساڑھے چار سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اگرچہ طالبان گروہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ شینوزادہ اسپتال کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ملوث نہیں ہے لیکن اس گروہ نے بہرحال عملا یہ ثابت کردیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس نے حکومت اور پبلیک مقامات کے خلاف اپنے حملے تیز کردئے ہیں اور یہ صورتحال اس امر کا سبب بنی ہے کہ دیگر تمام انتہا پسند، تشدد پسند اور دہشتگرد گروہ افغان عوام کا قتل عام کرنے کےلئے میدان میں اتر آئیں۔افغانستان کے عوام، سیاسی، مذہبی اور فوجی گروہ اپنے ملک میں جاری خونریز تشدد سے تنگ آچکے ہیں اور اب واضح اور براہ راست طریقے سے پاکستان کو ان تشدد آمیز واقعات اور خونریز حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ جوزجان کے عوام نے بھی دیگر علاقوں کی طرح پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے پاکستان پرالزام لگایا ہے کہ اسلام آباد نے افغانستان سے متعلق دوہری پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے افغانستان کی سیکورٹی فورسز کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کردے۔اس سے قبل افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم نے صدر اشرف غنی سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلئے جائیں۔ افغان عوام کی نظرمیں افغانستان میں انتہا  پسند اور شدت پسند گروہوں پر پاکستان کے اثر ورسوخ کے پیش نظر اگر اسلام آباد افغانستان میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر کاربند رہے تو بڑی آسانی سے قیام امن کے راستے میں مدد کرسکتا ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کایہ نظریہ ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے گذرتا ہے۔ انہوں نے اسی غرض سے پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس کے ساتھ سیکورٹی معاہدہ بھی کیا لیکن افغانستان میں بہت سے حلقوں نے ان کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں پاکستان سے قریب ہونے کے نتائج کے بارے میں خبردار بھی کیا تھا۔ اس وجہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف دھڑوں کو تقویت ملی ہے اور یہ صورتحال دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے کوئي مفید بات نہیں ہے۔ ہرچند پاکستان کا کہنا ہےکہ اسے دہشتگردی سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے لیکن افغانستان میں مختلف حلقے پاکستان کو اپنے ملک میں دہشتگردی کا سبب قراردیتے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی ذہنیت تبدیل کرنے اور کابل حکام کو اپنے اعتماد میں لینے کی کوشش کرے تاکہ مشترکہ دشمن یعنی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے زمین ہموار ہوسکے۔

صفحہ 1 کا 559